عبداﷲ شاہ دیوان حضوری

ڈاکٹر ابو اعجاز رستم  اتوار 25 نومبر 2012
20 شوال 1072ہجری بمطابق 1661ء آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔   فوٹو: فائل

20 شوال 1072ہجری بمطابق 1661ء آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ فوٹو: فائل

حضرت حافظ سید محمد عبداﷲ شاہ دیوان حضوری رحمۃ اﷲ علیہ 29 شعبان المعظم 974ھ بمطابق 1566ء حضرت خواجہ سید نہال الدین شاہ ؒ کے گھر اکبر آباد تخت پڑی تحصیل وضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔

آپ نے ولادت کے دوسرے روز صبح سحری کے وقت دودھ پیا۔ یوں آپ نے چو بیس گھنٹے کی عمر میں رمضان المبارک کی آمد کی تصدیق کردی افطار کے وقت آپ نے دودھ پی لیا، مطلع ابرآلود ہونے کی وجہ سے لوگ چاند نہ دیکھ پائے تھے۔ اس لیے روزہ قضا ہوگیا۔ معصوم کی شہادت پر آپ کے والد کریم نے روزے کی قضا کا فتویٰ جاری کر دیا۔

آپ کے والد گرامی خود عالم دین تھے۔ اس لیے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ اس لیے آپ نے کم سنی میں ہی مکمل قرآن حکیم حفظ کرلیا۔ اس کے بعد اپنے وقت کے قابل ترین اساتذہ سے دیگر علوم دینیہ کی تکمیل کی۔ پھر تصوف کی طرف راغب ہوئے تو آپ کے والدکریم نے پوری توجہ سے آپ کی تربیت و راہ نمائی فرمائی۔

ہر شے کے خزانے اﷲ تعالیٰ کے ہیں۔ وہ سب خزانوں کا مالک ہے۔ جس شٔے سے چاہے نوازتا ہے۔ ہر کسی کو کسی ایسی صلاحیت کسی ایسی خوبی سے نوازتا ہے، جس کو بروئے کار لا کر وہ شخص زمانے کی ضرورت بن کر باعزت زندگی گزار سکتا ہے ۔ اپنی خودی کی حفاظت کر سکتا ہے۔ خداداد آٓزادی سے بھرپور زندگی گزار سکتا ہے۔ یعنی مثالی انسانی زندگی۔

جس کسی نے مثالی زندگی کا لطف لیا ہو، اس کے لیے اس سے محرومی موت ہے، مگر معاشرے میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو مثالی انسانی زندگی گزارتے ہیں، بہت کم ۔ اس لیے اس کا تعلق ایمان، توکل اور استغناء سے ہے اور یہ دولت ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ اس بارے میں حضرت علامہ اقبال فرماتے ہیں؎

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کرلیتا ہے یہ بال و پرِ روح الامیں پیدا

ایمان کے نناوے شعبے ہیں اور ہر شعبے میں ایمان رکھنا ضروری ہے۔ اس وقت میں جس شعبے کے بارے میں بات کرنا چاہ رہا ہوں، وہ علوم کا شعبہ ہے۔ اس کائنات میں بے شمار علوم ہیں اور ان کے خزانے بھی اﷲ کے ہیں۔ اس میں سے جتنا خالق کائنات نے کسی کو عطا کیا ہے وہ اتنا ہی جانتا ہے ۔ اس سے زیادہ نہیں جانتا۔ فرشتوں نے جب تخلیق آدم کے بارے میں اعتراض کیا تو اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،’’جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتائو‘‘ فرشتوں نے عرض کیا،’’تیری ذات پاک ہے، ہم ا سے زیادہ کچھ نہیں جانتے جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے۔‘‘

آدم کو چوں کہ یہ علم سکھایا گیا تھا، اس لیے جب آدم علیہ السلام سے فرمایا کہ ان چیزوں کے نام تم انھیں بتاؤ، تو انہوں نے بتادیے۔ فرشتوں کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تمھارا مقصدِ تخلیق کچھ اور تھا اور اس کا مقصد تخلیق کچھ اور ہے۔ تمھارے مقصد تخلیق میں یہ علم ضروری نہ تھا۔ اس کے مقصد تخلیق میں یہ علم ضروری ہے۔ چناںچہ اس کی تخلیق کے متعلق تمھارا اعتراض بے جا ہے۔ تمھیں جو مقام ملنا تھا وہ مل چکا۔ اس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی، مگر انسان کا معاملہ قطعاً مختلف ہے۔ وہ میری غلامی کے ذریعے ترقی کرے گا اور میری نافرمانی کے ذریعے زوال کا شکار ہوگا۔ اس کی زندگی کا مقصد میری پہچان ہے۔

اس لیے اسے تسخیرِ کائنات کا علم عطا فرمایا ہے، تاکہ تسخیرکائنات کے ذریعے مجھے پہچانے۔ اس میں راز یہ ہے کہ جس قدریہ میرے حضور مُسَخّر ہوگا۔ اسی قدر کائنات اس کے سامنے مسخر ہوگی۔ یہ پانی پہ چل سکتا ہے، یہ فضاؤں میں اڑ سکتا ہے۔ یہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوسکتا ہے۔ یہ درندوں پر حکومت کر سکتا ہے۔ یہ ہزاروں میل کے فاصلے سے کوئی چیز جسے یہ اٹھا بھی نہیں سکتا ، نظروں کی طاقت چشم زدن میں لا سکتا ہے۔ بغیر کسی آلے کی مدد کے سینکڑوں میل تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے سن سکتا ہے یہ ساری صلاحیتیں اسے اپنی اطاعت ، اپنی غلامی کے بدلے اﷲ سبحانہ وتعالیٰ اسے عطا کرتا ہے۔ انجام یہ اﷲ تعالیٰ کے دربا میں پہنچ جاتا ہے۔ مگر اس وقت جب ہر دوئی کو مٹاکر اپنے رب کا ہو جاتا ہے۔ اس وقت اس کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔

بعض سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کے جوابات ہر کسی تک پہنچ جانے چاہییں کیوں کہ بہت ذہنوں میں وہی سوالات موجود ہوتے ہیں۔ مثلاً آج کل ایک گمراہ کن سوال ذہنوں میں عام گردش کررہا ہے جن باتوں کو سائنس ثابت کرتی ہے وہی حقیقت ہے۔ جو باتیں دینی باتیں دینی علماء کرتے ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سائنس بھی دیگر علوم کی طرح ایک علم ہے۔ اس کے خزانے بھی سبحانہ و تعالیٰ کے پاس ہیں۔ یہ بھی کائنات کے بارے میں علم کیمیاء اور علم طبیعات کے باہمی آمیزہ و اشتراک سے وجود میں آنے والے مکینزم کے متعلق ہے۔ اس میں سائنس داں کچھ پیدا نہیں کرتا، بل کہ اﷲ تعالیٰ کی تخلیق کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔

اس پر مختلف تجربات کرتا ہے۔ پھر کسی نتیجے پر پہنچتا ہے، مگر اس نتیجے کے حتمی اور مبنی بر حقیقت ہونے کی کوئی سند نہیں ہوتی حتمی اور حقیقی علم اﷲ تعالیٰ کے پاس ہی ہے۔ علمائے کرام جو علم بیان کرتے ہیں وہ وہی علم ہے جو اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرات انبیاء علیہم السلام پر نوع انسانی کے لیے نازل فرمایا، جو ہر نقص ہر کمی ہر کجی سے پاک ہے، جو اتنا اٹل ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، جو اس کو من و عن قبول کرتا ہے۔ وہ صاحب ایمان ہے، وہ اس پر عمل کرکے ترقی کرتا ہے۔ اسے اس پر کسی تجربے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مثال کے طور پر نظام انہضام کی خرابی بے شمار بیماریوں کا سبب ہے، جو جگر تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، اور رفتہ رفتہ لاعلاج ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے میڈیکل سائنس نے بے شمار دوائیں ایجاد کی ہیں۔ کوئی موثر ہوتی ہے کوئی نہیں ہوتی۔ پھر دن رات اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کوئی دوائی ایسی نہیں جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ یہ حتمی ہے اور اس کے بعد کسی نئی دوا یا اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے برعکس اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کی نازل کردہ میڈیکل سائنس میں ان تمام بیماریوں کا علاج دو الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے، جس میں کسی دوا کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ فرمایا،’’جو رزق اﷲ تعالیٰ نے تمھیں عطا فرمایا ہے۔

اس میں سے حلال کو اس طریقے سے کھاؤ کہ وہ طیب بھی ثابت ہو۔‘‘ لفظ طیب اس میں اس لیے اہمیت کا حال ہے، کہ حلال کا فیصلہ تو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ نے فرما دیا، لیکن طیب کا فیصلہ کھانے والے کو خود کرنا ہے کہ کتنا کھانا ہے، جس سے اس کا معدہ متعفن نہ ہو ، محفل میں بیٹھے تو اپنے اوپر، اپنے اندر کوئی بوجھ محسوس نہ کرے، بلکہ ہلکا پھلکا محسوس کرے۔ حضور سرور کونین ﷺ نے اس بات کو یوں بیان فرمایا،’’خوب بھوک لگے تو کھائو تھوڑی سی بھوک باقی ہو تو کھانا چھوڑ دو۔‘‘

مروجہ میڈیکل سائنس کھانے کے اوقات بتاتی ہے۔ قرآنی میڈیکل سائنس شدید طلب پر کھانے کی اجازت دیتی ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ کی بات پر یقین ہے تو پھر نظام انہضام کی درستی اور ہر پریشانی سے بچنے کے لیے صرف دو الفاظ حلال اور طیب ہی کافی ہیں۔ قرآن حکیم میں ایک لفظ ’’اِنّ‘‘ بار بار استعمال ہوتا ہے اس کے معنی ’’بے شک‘‘ کیے جاتے ہیں۔ بلاشبہہ یہی معنی ہیں۔ مثلاً:

اَلَااِنَّ اَولِیَآئَ اﷲ ِلَاخَوف عَلَیھِم وَلَاھُم یَحزَنُونَ o

ترجمہ: ’’آگاہ رہو کہ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے ۔ اﷲ کے دوستوں کو کوئی خوف ہوتا ہے نہ غم ۔‘‘(10/62)

سائنس دانوں کو ایک نئی بات بتادوں کہ اس حقیقت کو سائنسی تجربے سے ثابت کیا جا سکتا ہے، لیکن ابھی سائنسی علوم نے اتنی ترقی نہیں، جس سے یہ پتا چل سکے کہ کون سے کیمیائی اجزاء مل کر خوف اور غم کا سبب بنتے ہیں۔ کون سے خوشی کا موجب ہوتے ہیں اور اطمینان قلب کن کیمیائی اجزاء سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ علم سائنس ناقص ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے عالموں کو کامل علم نہیں ہے۔ جیسے فرمایا،’’آگاہ رہو کہ اﷲ کے قانون پر عمل کرنے سے دلوں کو چین نصیب ہوتا ہے۔‘‘ یہ درست ہے، لیکن ایسا ہوتا کیوں ہے؟ اس کی کوئی سائنسی توجیہ بیان کرنے سے سائنس داں قاصرہیں۔

کسی بھی سائنسی تجربے سے تنخواہ کے پیسے اور رشوت کے پیسے میں فرق معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن دونوں کے اثرات کا اختلاف مسلمہ ہے۔ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایسا ہوتا کیسے ہے؟ جہاں سوال باقی رہے اور جواب نہ ملے وہ ہمارے علم کی حد ہے۔ اس سے آگے بندہ محتاج ہے۔ اس سے آگے بتانے والے کی ضرورت ہے اور ہر جاننے والے کے اوپر ایک جاننے والا ہے۔ چناںچہ ہم اﷲ جل جلالہ سے راہ نمائی کی درخواست کرتے ہیں۔ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ ہمارے لیے راہ نمائی کا انتظام فرماتا ہے۔ راہ نمائی فراہم کرنے کے لیے ہی اس نے ادارۂ نبوت قائم فرمایا۔

اس ادارے کے ذریعے ہی اس نے ایسا علم عطا فرمایا، جو دنیا و آخرت میں کام یابی کا ضامن ہے۔ اگر کوئی چاقو، چھری، تلوار، ایٹم بم نہیں بناسکتا تو کوئی بات نہیں، اگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ پانی بنانے کا فارمولا کیا ہے تو کوئی نقصان نہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے اور اسے کیسے حاصل کرنا ہے تو کوئی فائدہ نہیں۔ عالمِ دین وہ علم سکھاتا ہے جو علم نافع ہے، جو حضرات انبیاء کرام علیھم السلام کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نوع انسان کی طرف بھیجا گیا۔ بحث تو ہر نکتے پر کی جاسکتی ہے، مگر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے دوستوں کو عزت دیتا ہے۔

اگر وہ اپنے کسی دوست کے کہنے سے بارش برسا دے تو کیا کوئی اسے پوچھ سکتا ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہے؟ تو پھر اصل علم کون سا ہے، جو بندے کو اﷲ جل جلالہ کا دوست بنا دے یا وہ جو کسی کام یابی کی ضمانت دے سکے، دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں ان کے جتنے عالم ہیں ان میں سے کسی کا علم اپنے شعبے میں کامل نہیں۔ جتنا جس کے پاس وہ اسی پہ نازاں ہے۔ اس لیے کہ اس کی اپنی وسعت اتنی ہے اور کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ نہیں ملتا۔ عالمِ دین کی بھی یہی حالت ہے، مگر وہ اصل علم کا وارث ہے۔ اس لیے اس کی کم علمی پوری نسل انسانی کو گم راہ کر سکتی ہے۔ چناںچہ اسے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس پر پابندی بھی بہت سخت ہے۔

اسے اپنی بات قرآن وحدیث کی سند سے ثابت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے لیے اسے ہر لمحے اﷲ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے رابطے کے لیے پاک صاف ہونا ضروری ہے۔ کسی ڈاکٹر، کسی سائنس داں، کسی ریاضی داں کے لیے پاک و صاف ہونے کی کوئی شرط نہیں، لیکن عالم دین پر پاک صاف ہونے کی شرط لازم ہے۔ اسی طرح کسی ڈاکٹر ، انجینئر ، سائنس دان ریاضی دان ہونا لازم نہیں مگر ہر کسی پر اپنے رب کا مخلص بندہ ہونا ضروری ہے۔ مولوی خوش قسمت ہے کہ اسے یہ علم ملا ہے، لیکن بہت سے علما اس حوالے سے بدقسمت ہیں کہ خود اس علم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے، بلکہ مغرور و متکبر ہوجاتے ہیں جو کہ شیطان کا خاصہ ہے۔

ان سطور کیے ذریعے اس سوال کے جواب کو واضح کر دیا، تاکہ جن کے ذہن میں یہ سوال ہو، انھیں اس کا جواب مل جائے۔ سب لوگ اپنے علم پر متکبر ہوسکتے ہیں، مگر مولوی نہیں ہوسکتا۔ ہر کسی پہ یہ لازم نہیں کہ وہ اپنے علم کو اپنے پہ نافذ کرے، لیکن مولوی پر یہ لازم ہے کہ جو کچھ کہے اس پر عمل بھی کرے۔ ورنہ اس کا کردار قابل نفرت ہی رہے گا۔

حضرت حافظ سید محمد عبداﷲ شاہ دیوان حضوری رحمۃ اﷲ علیہ 29 شعبان المعظم 974ھ بمطابق 1566ء حضرت خواجہ سید نہال الدین شاہ ؒ کے گھر اکبر آباد تخت پڑی تحصیل وضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ولادت کے دوسرے روز صبح سحری کے وقت دودھ پیا۔ یوں آپ نے چو بیس گھنٹے کی عمر میں رمضان المبارک کی آمد کی تصدیق کردی افطار کے وقت آپ نے دودھ پی لیا، مطلع ابرآلود ہونے کی وجہ سے لوگ چاند نہ دیکھ پائے تھے۔ اس لیے روزہ قضا ہوگیا۔ معصوم کی شہادت پر آپ کے والد کریم نے روزے کی قضا کا فتویٰ جاری کر دیا۔ آپ کے والد گرامی خود عالم دین تھے۔ اس لیے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔

اس لیے آپ نے کم سنی میں ہی مکمل قرآن حکیم حفظ کرلیا۔ اس کے بعد اپنے وقت کے قابل ترین اساتذہ سے دیگر علوم دینیہ کی تکمیل کی۔ پھر تصوف کی طرف راغب ہوئے تو آپ کے والدکریم نے پوری توجہ سے آپ کی تربیت و راہ نمائی فرمائی۔ اسی تربیت کے دوران شیراز سے ایک درویش حضرت سید سرمست شیرازی جامعہ قادریہ اکبر آباد تحصیل وضلع راولپنڈی نزد روات مقیم تھے۔ آپ کو اس درویش سے عقیدت تھی اور اپنا فارغ وقت اکثر انہی کی صحبت میں گزارا کرتے تھے۔ آپ کا ارادہ حج کرنے کا ہوا، حضرت سید سرمست شیرازی بھی حج بیت اﷲ کا ارادہ رکھتے تھے۔ چناںچہ اپنے والدین کریمین سے اجازت لے کراس شیرازی بزرگ کے ساتھ ہی عازم سفر حج ہوئے۔ وہاں سے لاہور پہنچ کر حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر حاضری دی۔ کچھ دن قیام کرکے چلّہ کشی کی۔ پھر اگلے سفر پر روانہ ہوئے اور ممبئی پہنچے بذریعہ بحری جہاز عازم جدہ ہوئے۔

ایک شام طوفانی ہواؤں کی وجہ سے کشتی بھنور میں پھنس گئی۔ جہاز کے عملے نے ایک جزیرے پر جہاز کو لنگرانداز کردیا اور طوفان کے تھمنے کا انتظار کرنے لگا۔ مسافر کشتی سے اتر کر جزیرے کی ٹھنڈی ریت پر لطف اندوز ہونے لگے۔ آپ کشتی کے اندر ہی عبادت الٰہی میں مشغول رہے۔ فارغ ہوکر جزیرے پر نکل آئے۔ آدھی رات کا سماں تھا ۔ کنارے پر واپس آئے تو دیکھا کشتی تو جاچکی ہے۔ آپ پھر عبادت و ریاضت میں مشغول ہوگئے۔ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک تیز روشنی رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی جزیرے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ ایک نورانی تخت تھا اور اس پر پانچ نورانی شخصیات بیٹھی ہوئی ہیں۔ وہ تخت آپ کے پاس آکر رکا، آپ کو اس پر سوار کراکر حکم دیا گیا کہ آنکھیں بند کرلو، تھوڑی دیر بعد حکم ہوا آنکھیں کھولو۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو بیت اﷲ شریف میں موجود تھے۔

کعبۃ اﷲ میں قیام اور طواف کے دوران جب آپ کی ملاقات حضرت سید سرمست شیرازی سے ہوئی تو انھوں نے فرمایا ’’اے عبداﷲ ! تیری شانِ محبوبی بھی عجیب ہے ۔ حج سے فارغ ہو کر آپ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضری کے لیے مدینہ منورہ چلے گئے۔ کچھ عرصہ وہاں گزارا۔ اس کے بعد آپ بغداد کی طرف روانہ ہوئے۔ بغداد میں بارہ برس تک حضرت سید عبدالقادرگیلانی رحمۃ اﷲ علیہ کے مزار پر گزارے۔ بغداد میں قیام کے دوران وہاں کے علمائے کرام سے خوب اکتساب فیض کیا۔ ہر شب حضرت غوث الاعظم کے مزار پر ختم قرآن حکیم کرتے رہے۔ دن کے وقت مسجد میں جھاڑو لگاتے اور پانی بھرتے۔

ان خدمات کے پیش نظر آپ کو لائبریری اور لنگر کا انچارج بھی بنا دیا گیا۔ بارہ برس بعد ایک شب شاہ بغداد نے آپ کو حکم دیا،’’اے عبداﷲ! پوٹھوہار کے علاقے میں قصبۃ الخیل میں جاکر مخلوق خدا کی خدمت کا فریضہ انجام دو۔ باطنی بیعت کا سلسلہ تو ہمارے ساتھ ہے۔ ظاہری بیعت کے لیے حضرت شاہ محمد بندگی بخاری دہلوی کی خدمت میں حاضری دو۔ ہم نے بارہ تبرکات اور بارہ خطابات تمہاری امانت چھوڑے ہیں۔ جو وقت کے سجادہ نشین تمہارے حوالے کریں گے۔‘‘ آپ کی اسی عظمت کو حضرت میاں محمد بخشؒ اپنی شہرۂ آفاق ’’تحفۂ میراں‘‘ میں یوں بیان فرمایا ہے؎

باراں ور ہے حاجی عبداﷲ داڑھی جھاڑو کیتا
تاں دیوان دا منصب ملیا خیر تبرک لیتا

حضرت سید عبدالقادر گیلانی کے حکم کے مطابق آپ بغداد سے دہلی کی طرف تلاش مرشد میں چل کھڑے ہوئے۔ ادھر آپ بغداد سے روانہ ہوئے۔ اُدھر حضرت شاہ محمد بندگی بخاری دہلویؒ اپنی خانقاہ میں وعظ فرما رہے تھے۔ دوران وعظ فرمایا،’’بعض اوقات اﷲ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے لیے زمین سکیڑ دیتا ہے، جس کی برکت سے وہ دنوں کا سفر لمحوں میںطے کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد اپنے مریدین وعقیدت مندوں سے فرمایا،’’آج ہماری خانقاہ میں تصوف و معرفت کا ایک ایسا شاہین آرہا ہے جسے حضور غوث الاعظم کے دیوان حضوری ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور جس کی پرواز آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہے۔‘‘

یہ کہہ کر انھوں نے سب حاضرین کو ساتھ لیا اور خانقاہ قادریہ کے دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ حضور دیوان حضوری تشریف لا رہے ہیں۔ مرشدکامل جناب غوث زمان حضرت شاہ محمد بندگی بخاری دہلویؒ نے پہلی نظر میں پہچان کر آغوش میں لے لیا اور روحانی شرف سے فیض یاب فرما کر ایک پروقار تقریب کا اہتمام فرمایا۔ خرقۂ خلافت عطا فرمایا۔ حضرت غوث اعظم کے تبرکات جو آپ کے پاس موجود تھے کئی روز تک ہر خاص و عام کی زیارت کے لیے رکھے۔

یہ خبر دہلی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لاکھوں لوگ، امراء، وزراء اور اراکین سلطنت تبرکات کی زیارت اور آپ کی قدم بوسی کے لیے آتے رہے پھر آپ نے مرشد سے اجازت لے کر خطہ پوٹھوہار کا قصد کیا۔ اس لیے کہ دہلی میں موجودگی اور پذیرائی کہیں دین سے دور نہ کردے۔ دہلی سے پوٹھوہار کی طرف جاتے ہوئے تھل سے آپ کا گزر ہوا جب آپ سسّی کی قبر کے قریب پہنچے تو آپ کو اس کی دید کا شوق چَرّایا۔ آپ نے اس کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا، ’’اے سّسی! ہمیں شرف ملاقات بخش۔‘‘ سسّی کی قبر شق ہوئی اور عشق حقیقی کی وہ مسافر گرد آلود کپڑوں میں سامنے کھڑی تھی۔ عقیدت و احترام کے ساتھ سلام کرنے کے بعد بولی ’’حضور ! پنّوں کو بلوچ پکڑ کر لے گئے ہیں ۔ میں جلدی میں ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دوبارہ قبر میں اتر گئی۔

خانقاہ شریف کا علاقہ بشن داس منڈو کے نام سے مشہور تھا۔ 1985ء میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نے مجلس قادریہ کے سربراہ پیر دلدار علی شاہ کی دعوت پر اس گاؤں اور علاقہ کا نام بشندور سے تبدیل کرکے دیوان حضوری رکھ دیا۔ آپ کے مزار اور مسجد کے درمیان لان میں بیری کا ایک قدیمی درخت ہے، جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ درخت آپ بغداد سے لائے تھے اور اسے اپنے ہاتھوں سے یہاں لگایا۔ ساتھ ہی فرمایا،’’اس بیری کے پتوں میں ہر بیماری کی شفا ہے۔‘‘

20 شوال 1072ہجری بمطابق 1661ء آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔