جولائی تا اکتوبر غیر ملکی سرمایہ کاری پر 30 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل

سال بہ سال9 فیصد کمی، ٹیلی کام، پاور، تیل گیس تلاش، ٹرانسپورٹ، کیمیکلز، فوڈوٹیکسٹائل سیکٹر سے منافع منتقلی کم،

سال بہ سال9فیصدکمی،ٹیلی کام،پاور،تیل گیس تلاش،ٹرانسپورٹ، کیمیکلز،فوڈوٹیکسٹائل سیکٹر سے منافع منتقلی کم،فنانشل،آٹوموبائلز، فارمااورپٹرولیم ریفائننگ شعبے سے بڑھ گئی. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

SIALKOT:
غیرملکی کمپنیوں کی جانب سے بیرون ملک منافع کی منتقلی میں کمی کا تسلسل جاری ہے رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران منافع کی منتقلی میں 9.4 فیصد کمی ہوئی۔

اسٹیٹ بینک سے جاری اعدادوشمار کے مطابق غیرملکی سرمایہ کاروں نے جولائی تا اکتوبر 2012کے دوران پاکستان سے حاصل کردہ 30کروڑ 50لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا جبکہ گزشتہ مالی سال اسی مدت میں 33 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا تھا۔ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کیلیے نفع بخش بیشتر شعبوں سے منافع کی منتقلی میں کمی کا رجحان ہے جس کی وجہ امن و امان کی مخدوش صورتحال اور بجلی گیس کا بحران قرار دی جا رہی ہے۔


ٹیلی کام سیکٹر سے منافع کی منتقلی 84.8 فیصد کمی سے 54 لاکھ ڈالر، پاور سیکٹر سے 82.2فیصد کمی سے 96 لاکھ، تیل وگیس تلاش سیکٹرسے 21.5فیصد کمی سے 96 لاکھ ڈالر،ٹرانسپورٹ سیکٹر سے 65فیصد کمی سے 1کروڑ67 لاکھ ڈالر، کیمکلز سیکٹر سے 55.5فیصد کمی سے 51 لاکھ ڈالر، فوڈ سیکٹر سے 41.3 فیصد کمی سے 1 کروڑ ڈالر، ٹیکسٹائل سیکٹر سے 15فیصد کمی سے 2 لاکھ ڈالر منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق فنانشل سیکٹر سے منافع کی منتقلی 273فیصد اضافے سے 9کروڑ ڈالر رہی، آٹو موبائلز کے شعبے سے 101 فیصد اضافے سے 1کروڑ 82 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا، فارما سیکٹرسے منافع کی منتقلی 86فیصد اضافے سے 91 لاکھ ڈالر رہی جبکہ پٹرولیم ریفائننگ سیکٹر نے 7.6فیصد اضافے سے 7کروڑ 61 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا۔
Load Next Story