چارروزہ ٹیسٹ پاکستان تجویزردی کی ٹوکری میں ڈالنے کا حامی
پانچ روزہ میچزکا انعقاد ہی بہتر ہے، تبدیلی نقصان دہ ثابت ہو گی ،کھیل کو مزید مسابقتی بنانے میں مدد ملے گی، شہریارخان
اپنے اولین نائٹ ٹیسٹ سے قبل پنک گیند سے فرسٹ کلاس میچزکرائیں گے،اگر بھارت بگ تھری پرسابقہ موقف سے پیچھا ہٹا تو بھرپور مخالفت کی جائے گی فوٹو: فائل
KARACHI:
پاکستان چار روزہ ٹیسٹ کی تجویزردی کی ٹوکری میں ڈالنے کا حامی ہے۔
چیئرمین شہریارخان کے مطابق پانچ روزہ میچز کا انعقاد ہی بہتر ہے، اس میں تبدیلی نقصان دہ ثابت ہو گی،البتہ وہ ٹو ڈویژن ٹیسٹ کرکٹ کے حق میں نظر آتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس سے کھیل کو مزید مسابقتی بنانے میں مدد ملے گی، شہریارخان کے مطابق رواں برس اپنے اولین نائٹ ٹیسٹ کیلیے پاکستانی ٹیم بھرپور تیاری کریگی، ہم پنک گیند سے فرسٹ کلاس میچز بھی کرائینگے، کپتان مصباح الحق نے اپنی رپورٹ میں اس حوالے سے مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے ان خیالات کا اظہار نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت میں کیا۔ تفصیلات کے مطابق ان دنوں ٹیسٹ کرکٹ میں تبدیلیوں کی بازگشت جاری ہے،گذشتہ عرصے انگلش بورڈ نے ٹیسٹ کو چار روز تک محدود کرنے کی تجویز پیش کی تھی، اس کے مطابق بیشتر میچز پانچویں دن تک نہیں جاتے اور منتظمین کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس حوالے سے استفسار پر چیئرمین پی سی بی شہریارخان نے کہا کہ پاکستان چار روزہ ٹیسٹ کا قطعی حامی نہیں ہے، ہمارے خیال میں پانچ دن کا میچ ہی بہترین ہے،اگر اچھی پچز تیار کی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ میچ پانچوں دنوں تک جاری رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تجویز آئی سی سی کی میٹنگ میں آئی تو ہم بھرپور مخالفت کرینگے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے رواں ماہ سالانہ اجلاس کے موقع پرٹو ڈویژن ٹیسٹ کرکٹ کا جائزہ لیا جائے گا، چیف ڈیو رچرڈسن نے حال ہی میں کہا تھا کہ7 اور پانچ ٹیموں کے 2 ڈویژنز بنا کر پرفارمنس کے لحاظ سے ترقی یا تنزلی ہوگی۔ اس حوالے سے شہریارخان نے کہا کہ ہم ٹو ڈویژن ٹیسٹ کرکٹ کو سپورٹ کرینگے، اس سے مسابقتی میچز میں مدد ملے گی،انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ میں پاکستان کی کارکردگی بہترین لہٰذا اس بات کا بھی کوئی خطرہ نہیں کہ ہمیں سیکنڈ ڈویژن میں جانا پڑے، مجھے امید ہے کہ تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں ہماری ٹیم سخت حریفوں کیخلاف بھی عمدہ کھیل پیش کرے گی۔ واضح رہے کہ ٹو ڈویژنز سسٹم کے آغاز کیلیے 2019 کی تاریخ دی گئی تاہم یہ آئی سی سی بورڈ ممبران کی رضامندی سے مشروط ہے، رچرڈسن اور کونسل کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس اس حوالے سے ایک متبادل پلان بھی رکھتے ہیں۔
ان کی کوشش ہے کہ آئندہ برس سے ہی ٹیسٹ چیمپئن شپ لیگ شروع کردی جائے جو چار برس کے سرکل پر محیط ہوگی، اس سے باہمی سیریز کی اہمیت میں اضافہ ہوجائے گا۔ دریں اثنا پاکستانی ٹیم کو رواں برس کے اواخر میں آسٹریلیا کیخلاف اپنا اولین نائٹ ٹیسٹ کھیلنا ہے، اس حوالے سے سوال پر شہریارخان نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کا یہی مستقبل ہے، ہم نائٹ میچ کیلیے بھرپور تیاریاں کریں گے، پنک گیند سے فرسٹ کلاس میچز کرانے کا بھی ارادہ ہے، پلیئرزآسٹریلیا پہنچنے تک بھرپور پریکٹس کر چکے ہوں گے، یوں میچ میں مشکل پیش نہیں آئے گی،گذشتہ دنوں کپتان مصباح الحق نے بھی نائٹ ٹیسٹ کے حوالے سے مثبت رپورٹ دی ہے۔ چیئرمین بورڈ نے ایک سوال پر کہا کہ اگر بھارت بگ تھری کے حوالے سے سابقہ موقف سے پیچھا ہٹا تو ہم بھرپور مخالفت کریں گے۔
پاکستان چار روزہ ٹیسٹ کی تجویزردی کی ٹوکری میں ڈالنے کا حامی ہے۔
چیئرمین شہریارخان کے مطابق پانچ روزہ میچز کا انعقاد ہی بہتر ہے، اس میں تبدیلی نقصان دہ ثابت ہو گی،البتہ وہ ٹو ڈویژن ٹیسٹ کرکٹ کے حق میں نظر آتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس سے کھیل کو مزید مسابقتی بنانے میں مدد ملے گی، شہریارخان کے مطابق رواں برس اپنے اولین نائٹ ٹیسٹ کیلیے پاکستانی ٹیم بھرپور تیاری کریگی، ہم پنک گیند سے فرسٹ کلاس میچز بھی کرائینگے، کپتان مصباح الحق نے اپنی رپورٹ میں اس حوالے سے مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے ان خیالات کا اظہار نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت میں کیا۔ تفصیلات کے مطابق ان دنوں ٹیسٹ کرکٹ میں تبدیلیوں کی بازگشت جاری ہے،گذشتہ عرصے انگلش بورڈ نے ٹیسٹ کو چار روز تک محدود کرنے کی تجویز پیش کی تھی، اس کے مطابق بیشتر میچز پانچویں دن تک نہیں جاتے اور منتظمین کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس حوالے سے استفسار پر چیئرمین پی سی بی شہریارخان نے کہا کہ پاکستان چار روزہ ٹیسٹ کا قطعی حامی نہیں ہے، ہمارے خیال میں پانچ دن کا میچ ہی بہترین ہے،اگر اچھی پچز تیار کی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ میچ پانچوں دنوں تک جاری رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تجویز آئی سی سی کی میٹنگ میں آئی تو ہم بھرپور مخالفت کرینگے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے رواں ماہ سالانہ اجلاس کے موقع پرٹو ڈویژن ٹیسٹ کرکٹ کا جائزہ لیا جائے گا، چیف ڈیو رچرڈسن نے حال ہی میں کہا تھا کہ7 اور پانچ ٹیموں کے 2 ڈویژنز بنا کر پرفارمنس کے لحاظ سے ترقی یا تنزلی ہوگی۔ اس حوالے سے شہریارخان نے کہا کہ ہم ٹو ڈویژن ٹیسٹ کرکٹ کو سپورٹ کرینگے، اس سے مسابقتی میچز میں مدد ملے گی،انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ میں پاکستان کی کارکردگی بہترین لہٰذا اس بات کا بھی کوئی خطرہ نہیں کہ ہمیں سیکنڈ ڈویژن میں جانا پڑے، مجھے امید ہے کہ تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں ہماری ٹیم سخت حریفوں کیخلاف بھی عمدہ کھیل پیش کرے گی۔ واضح رہے کہ ٹو ڈویژنز سسٹم کے آغاز کیلیے 2019 کی تاریخ دی گئی تاہم یہ آئی سی سی بورڈ ممبران کی رضامندی سے مشروط ہے، رچرڈسن اور کونسل کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس اس حوالے سے ایک متبادل پلان بھی رکھتے ہیں۔
ان کی کوشش ہے کہ آئندہ برس سے ہی ٹیسٹ چیمپئن شپ لیگ شروع کردی جائے جو چار برس کے سرکل پر محیط ہوگی، اس سے باہمی سیریز کی اہمیت میں اضافہ ہوجائے گا۔ دریں اثنا پاکستانی ٹیم کو رواں برس کے اواخر میں آسٹریلیا کیخلاف اپنا اولین نائٹ ٹیسٹ کھیلنا ہے، اس حوالے سے سوال پر شہریارخان نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کا یہی مستقبل ہے، ہم نائٹ میچ کیلیے بھرپور تیاریاں کریں گے، پنک گیند سے فرسٹ کلاس میچز کرانے کا بھی ارادہ ہے، پلیئرزآسٹریلیا پہنچنے تک بھرپور پریکٹس کر چکے ہوں گے، یوں میچ میں مشکل پیش نہیں آئے گی،گذشتہ دنوں کپتان مصباح الحق نے بھی نائٹ ٹیسٹ کے حوالے سے مثبت رپورٹ دی ہے۔ چیئرمین بورڈ نے ایک سوال پر کہا کہ اگر بھارت بگ تھری کے حوالے سے سابقہ موقف سے پیچھا ہٹا تو ہم بھرپور مخالفت کریں گے۔