4 گولیوں کے ذریعے اربوں روپے کمانے کا نیا ریکارڈ سامنے آگیا
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ملی بھگت سے 2 دوا ساز کمپنیوں نے 8 ارب سمیٹ لیے
ادارے خاموش تماشائی بنے رہے، قیمت 400 فیصد تک بڑھا دی گئیں، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل فوٹو: فائل
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ملی بھگت سے 2 دوا سازکمپنیوں نے ایک سال میں 8 ارب روپے غیرقانونی طور پر سمیٹ لیے حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے عام استعمال کی چار گولیوں کی قیمتیں بھی 400 فیصد تک بڑھائی گئیں اور مصنوعی قلت بھی پیدا کی گئی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے انسانی جانوں اور عوام کی صحت سے کھیلنے کے منظم اورمذموم منصوبے کیخلاف وفاقی سیکریٹری نیشنل ہیلتھ ریگولیشنز کو خط لکھ دیا ۔
تفصیلات کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفرکی جانب سے لکھے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ دودوا ساز کمپنیوں نے روزمرہ اور عام استعمال کی چار گولیوں کی قیمتوں کو خلاف قانون بڑھا کر اور مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرکے 8 ارب روپے بیمار عوام کی جیبوں سے نکال لیے ہیں، خط میں کہا گیاکہ فولک ایسڈ، تھائراکسن، موٹیوال اور پیناڈول نام کی گولیاں بنانے والی دوکمپنیوں نے اپنی ان چار گولیوں کی قیمتوں میں 400 فیصد تک اضافہ کردیاہے اضافی قیمت پرفروخت ہونے کے باوجود متعلقہ ادارے کارروائی کے لیے حرکت میں نہیں آئے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دوائوں کی بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے بجائے خاموشی اختیار کیے رکھی ہے بلکہ غیرقانونی طور پراضافی قیمت پر فروخت کرنے میں سہولت کار کاکردار بھی ادا کر رہی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے خط میں تفصیلات کے ساتھ دونوں دوا ساز کمپنیوں کی غیرقانونی طور پرقیمتوں میں اضافے کے دھندے کا ذکر کیا ہے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ چاروں گولیاں جو عام استعمال میں ہیں ان کی قیمتیں بڑھا کر غریب اور بیمار عوام کو لوٹا جارہاہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم کے سیکریٹری، چیئرمین نیب اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھی خط کی نقل ارسال کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دوائوں کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لیے متعلقہ ادارے اور افسران اقدامات سے دانستہ گریزاں ہیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے معاملے کی سنگینی پر متعلقہ اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ہرسال غریب عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکالے جارہے ہیں اور غریب عوام اضافی قیمت پر دوائیں خریدنے پر مجبور ہیں ٹرانسپیرنسی نٹرنیشنل پاکستان نے دوا سازی کے لیے خام مال کی درآمدکے معاملے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفرکی جانب سے لکھے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ دودوا ساز کمپنیوں نے روزمرہ اور عام استعمال کی چار گولیوں کی قیمتوں کو خلاف قانون بڑھا کر اور مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرکے 8 ارب روپے بیمار عوام کی جیبوں سے نکال لیے ہیں، خط میں کہا گیاکہ فولک ایسڈ، تھائراکسن، موٹیوال اور پیناڈول نام کی گولیاں بنانے والی دوکمپنیوں نے اپنی ان چار گولیوں کی قیمتوں میں 400 فیصد تک اضافہ کردیاہے اضافی قیمت پرفروخت ہونے کے باوجود متعلقہ ادارے کارروائی کے لیے حرکت میں نہیں آئے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دوائوں کی بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے بجائے خاموشی اختیار کیے رکھی ہے بلکہ غیرقانونی طور پراضافی قیمت پر فروخت کرنے میں سہولت کار کاکردار بھی ادا کر رہی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے خط میں تفصیلات کے ساتھ دونوں دوا ساز کمپنیوں کی غیرقانونی طور پرقیمتوں میں اضافے کے دھندے کا ذکر کیا ہے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ چاروں گولیاں جو عام استعمال میں ہیں ان کی قیمتیں بڑھا کر غریب اور بیمار عوام کو لوٹا جارہاہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم کے سیکریٹری، چیئرمین نیب اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھی خط کی نقل ارسال کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دوائوں کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لیے متعلقہ ادارے اور افسران اقدامات سے دانستہ گریزاں ہیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے معاملے کی سنگینی پر متعلقہ اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ہرسال غریب عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکالے جارہے ہیں اور غریب عوام اضافی قیمت پر دوائیں خریدنے پر مجبور ہیں ٹرانسپیرنسی نٹرنیشنل پاکستان نے دوا سازی کے لیے خام مال کی درآمدکے معاملے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔