آیندہ صدی میں اندھیرا
ان لڑکیوں کو ان کے قریبی رشتے داروں اور جرگوں کے فیصلوں پر قتل کیا گیا
tauceeph@gmail.com
لڑکیوں کے زندہ جلانے اور انھیں اپنے زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے پر قتل کرنے کا رحجان معاشرے میں جنونیت اور رجعت پسندی کی جڑوں کی گہرائی کی عکاسی کررہا ہے ، مگرگزشتہ دوماہ کے دوران پسندکی شادی کرنے اور پسند کی شادی میں اپنی سہیلی کی مدد کرنے پر زندہ جلانے اور ماں کے ہاتھوں بیٹی کے قتل کے پے در پے واقعات سے پاکستانی معاشرے کی ایک سیاہ تصویر دنیا کو نظر آرہی ہے۔
ان لڑکیوں کو ان کے قریبی رشتے داروں اور جرگوں کے فیصلوں پر قتل کیا گیا ۔لاہور کی 17سالہ لڑکی زینت نے اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا،اس کی ماں اور بھائی اس کے زندگی کے درپے ہوگئے ۔گزشتہ ماہ مری میں اس سے پہلے ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقے میں ایک لڑکی کو پسند کی شادی کرنے اوراس کی سہیلی کی مدد کرنے پر جرگے کے فیصلے پر زندہ جلادیا گیا ۔ ان واقعات کا ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ اور سینیٹ میں نوٹس لیا گیا مگر عورتوں کے خلاف ملزمان کو سزا دینے کا جامع قانون نہیں بن سکا ۔خواتین کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے اور پسند کی شادی کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے ۔
اسلام کا آغاز پسند کی شادی سے ہوا، حضرت خدیجہؓ نے رسول اکرم ﷺ کو شادی کا پیغام بھیجا تھا ۔اس ملک کے بانی محمدعلی جناح نے خود پسند کی شادی کی ۔جناح صاحب نے جب رتی ڈنشاہ کو ،جوان کے دوست کی بیٹی تھی پسند کرنے کے بعد شادی کی درخواست کی تو ڈنشاہ اس شادی کے لیے تیار نہیں تھیں، رتی اس وقت مکمل طور پر بالغ بھی نہیں ہوئی تھیں۔ یہ معاملہ عدالت میں گیا ،عدالت نے فیصلہ کیا کہ رتی اور جناح کو شادی کے لیے ایک سال انتظارکرنا پڑے گا اور جناح صاحب نے ایک سال تک انتظارکیا ۔ممبئی کی عدالت نے عورتوں کی پسند کی شادی کے حق(Free Wil) پر تاریخی فیصلہ دیا ، یہ فیصلہ عدالتی دستاویز بن گیا ۔
جب 90ء کی دہائی میں انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر نے ایک لڑکی کی پسند کی شادی کے حق میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو لڑکی کے والد نے ولی کی مرضی کو لڑکی کے نکاح کے لیے لازمی قراردینے کا معاملہ اٹھایا مگر یہ نکتہ تمام مکتبہ فکر میں متفقہ نہیں ہے۔عدالت نے لڑکی کے شادی کے حق کو تسلیم کیا ۔فاضل جج کے فیصلے کی بنیاد رتی جناح کی شادی کے فیصلے پر تھی ۔مذہب اور قانون کے تحت لڑکیوں کو پسند کی شادی اور والدین کی جائیداد میں حصہ ہونے کے باوجود فرسوہ سماجی روایات کی پیروی اس طرح کے سانحات کی وجہ بنتی ہے ۔
جینڈر ایشو پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر آزادی فتح برفت کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی عورت کو پیرکی جوتی سمجھا جاتا ہے ۔یہ معاملہ صرف دیہی علاقوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ شہروں میں ساری زندگی گزارنے والے بہت سے خاندان اپنی بچیوں کو ان کے بنیاد حقوق دینے پر تیار نہیں ۔ان کی تحقیق کے مطابق صرف نچلے طبقے کے لوگ ہی لڑکیوں کوکوئی حق نہیں دیتے بلکہ متوسط طبقے اور امراء کے خاندانوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ یہ لوگ اگر چہ لڑکی کی شادی کو غیرت سے منسلک کرتے ہیں مگر اصل مسئلہ خاندان کی جائیداد بیٹی کو نہ دینے کا ہوتا ہے ۔لوگوں کو یہ خوف ہوتا ہے کہ خاندان کے باہر شادی کی بناء پر بیٹی اور داماد جائیداد میں حصہ طلب کریں گے۔
یہی وجہ ہے کہ مائیں اپنے شوہروں اور بیٹیوں کو مجبور کرتی ہیں۔ عمومی طور پر ان لڑکیوں کی زبردستی شادی کرادی جاتی ہے، اگر لڑکی بغاوت پر اتر آئے اور شادی کرلے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے ۔بعض خاندانوں نے توکئی کئی سال بعد بیٹی اور داماد کو قتل کر کے اپنی نام نہاد عزت کو بچایا ۔نفسیاتی ڈاکٹر شاہین احمد اس بارے میں کہتی ہیں کہ یہ پرانا تصور ہے عورت ناقص العقل ہے اور اس کا کام محض والدین اور بھائیوں کی اطاعت اور پھر ان کے طے کردہ شوہر اوراس کے خاندان کی اطاعت کرنا ہے ۔اس تصورکو پھیلانے میں مذہبی رہنما اہم کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ مساجد میں جمعے کے خطبوں پر تحقیق کرنے والے ایک محقق کا کہنا ہے کہ علماء اپنے وعظ میں لڑکیوں کی پسند کی شادی اور جائیداد میں حصے کے بارے میں کچھ بیان نہیں کرتے ،ان کا زور عورتوں کی فحاشی اور عریانی کے حوالے سے ہوتا ہے ۔یہ درس دیا جاتا ہے کہ عورتوں کا گھروں میں رہنا ہی زیادہ بہتر ہے ۔
1973 کے آئین میں قائم ہونے والی سینیٹ ویسے تو صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے مگر سینیٹ انسانی حقوق کے حوالے سے خاصی متحرک ہے ۔سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے عورتوں کے تشدد کے واقعات کا خصوصی طور پر نوٹس لیا ہے۔انھوں نے خواتین کے قتل کے خلاف احتجاج کے طور پر کارروائی کو معطل رکھا ۔سینیٹ کی رکن صغرا امام کا کہنا ہے کہ خواتین کے تشدد کے بارے میں ایک جامع قانون مذہبی جماعتوں کی مخالفت کی بناء پر التوا کا شکار ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس قانون کی منظوری دی جانی چاہیے ۔
اس قانون کے نفاذ سے بیٹی کے قتل کے بعد گرفتار ہونے والے بھائی، باپ، ماں یا کسی قریبی رشتے دار کوکوئی دوسرا شخص معاف کرکے مقدمے سے بری نہیں کرا سکتا ۔اس ضمن میں پنجاب میں خواتین پر تشدد کے جامع قانون کے خلاف اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار بھی قابل افسوس ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل خواتین کے تحفظ کے متبادل قانون نے خواتین پر ہلکے تشدد کے اختیارکے حوالے سے سفارش کرکے مردوں کو تشدد کا نیا راستہ دکھادیا ۔پھر خواتین کی زندگی کے ہر شعبے میں شمولیت پر پابندی کی تجویز دے کر معاشرے کو پیچھے لے جانے کی کوشش کی ہے ۔
گزشتہ دنوں ایک ٹی وی ٹاک شو میں ایک مذہبی جماعت کے سینیٹر کے ایک سماجی کارکن کے ساتھ بدسلوکی اور ان پر تشدد کی کوشش ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرکے اسی ذہنیت کا ثبوت دیا تھا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ شیخ رشید جو آج خواجہ آصف کی مذمت کررہے ہیں وہ ملک کی پہلی منتخب وزیراعظم بے نظیربھٹو کے بارے میں اسی طرح کے ریمارکس دینے کی شہرت رکھتے تھے ۔یہ بات ہر فرد کوکیسے سمجھائی جائے کہ عورت اور مرد کے حقوق برابر ہیں ۔عورت زندگی کی دوڑ میں برابر کا حصہ لے گی تو غربت ختم ہوگی ورنہ آیندہ صدی میں بھی اندھیرا ہی ہوگا۔
ان لڑکیوں کو ان کے قریبی رشتے داروں اور جرگوں کے فیصلوں پر قتل کیا گیا ۔لاہور کی 17سالہ لڑکی زینت نے اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا،اس کی ماں اور بھائی اس کے زندگی کے درپے ہوگئے ۔گزشتہ ماہ مری میں اس سے پہلے ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقے میں ایک لڑکی کو پسند کی شادی کرنے اوراس کی سہیلی کی مدد کرنے پر جرگے کے فیصلے پر زندہ جلادیا گیا ۔ ان واقعات کا ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ اور سینیٹ میں نوٹس لیا گیا مگر عورتوں کے خلاف ملزمان کو سزا دینے کا جامع قانون نہیں بن سکا ۔خواتین کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے اور پسند کی شادی کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے ۔
اسلام کا آغاز پسند کی شادی سے ہوا، حضرت خدیجہؓ نے رسول اکرم ﷺ کو شادی کا پیغام بھیجا تھا ۔اس ملک کے بانی محمدعلی جناح نے خود پسند کی شادی کی ۔جناح صاحب نے جب رتی ڈنشاہ کو ،جوان کے دوست کی بیٹی تھی پسند کرنے کے بعد شادی کی درخواست کی تو ڈنشاہ اس شادی کے لیے تیار نہیں تھیں، رتی اس وقت مکمل طور پر بالغ بھی نہیں ہوئی تھیں۔ یہ معاملہ عدالت میں گیا ،عدالت نے فیصلہ کیا کہ رتی اور جناح کو شادی کے لیے ایک سال انتظارکرنا پڑے گا اور جناح صاحب نے ایک سال تک انتظارکیا ۔ممبئی کی عدالت نے عورتوں کی پسند کی شادی کے حق(Free Wil) پر تاریخی فیصلہ دیا ، یہ فیصلہ عدالتی دستاویز بن گیا ۔
جب 90ء کی دہائی میں انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر نے ایک لڑکی کی پسند کی شادی کے حق میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو لڑکی کے والد نے ولی کی مرضی کو لڑکی کے نکاح کے لیے لازمی قراردینے کا معاملہ اٹھایا مگر یہ نکتہ تمام مکتبہ فکر میں متفقہ نہیں ہے۔عدالت نے لڑکی کے شادی کے حق کو تسلیم کیا ۔فاضل جج کے فیصلے کی بنیاد رتی جناح کی شادی کے فیصلے پر تھی ۔مذہب اور قانون کے تحت لڑکیوں کو پسند کی شادی اور والدین کی جائیداد میں حصہ ہونے کے باوجود فرسوہ سماجی روایات کی پیروی اس طرح کے سانحات کی وجہ بنتی ہے ۔
جینڈر ایشو پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر آزادی فتح برفت کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی عورت کو پیرکی جوتی سمجھا جاتا ہے ۔یہ معاملہ صرف دیہی علاقوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ شہروں میں ساری زندگی گزارنے والے بہت سے خاندان اپنی بچیوں کو ان کے بنیاد حقوق دینے پر تیار نہیں ۔ان کی تحقیق کے مطابق صرف نچلے طبقے کے لوگ ہی لڑکیوں کوکوئی حق نہیں دیتے بلکہ متوسط طبقے اور امراء کے خاندانوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ یہ لوگ اگر چہ لڑکی کی شادی کو غیرت سے منسلک کرتے ہیں مگر اصل مسئلہ خاندان کی جائیداد بیٹی کو نہ دینے کا ہوتا ہے ۔لوگوں کو یہ خوف ہوتا ہے کہ خاندان کے باہر شادی کی بناء پر بیٹی اور داماد جائیداد میں حصہ طلب کریں گے۔
یہی وجہ ہے کہ مائیں اپنے شوہروں اور بیٹیوں کو مجبور کرتی ہیں۔ عمومی طور پر ان لڑکیوں کی زبردستی شادی کرادی جاتی ہے، اگر لڑکی بغاوت پر اتر آئے اور شادی کرلے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے ۔بعض خاندانوں نے توکئی کئی سال بعد بیٹی اور داماد کو قتل کر کے اپنی نام نہاد عزت کو بچایا ۔نفسیاتی ڈاکٹر شاہین احمد اس بارے میں کہتی ہیں کہ یہ پرانا تصور ہے عورت ناقص العقل ہے اور اس کا کام محض والدین اور بھائیوں کی اطاعت اور پھر ان کے طے کردہ شوہر اوراس کے خاندان کی اطاعت کرنا ہے ۔اس تصورکو پھیلانے میں مذہبی رہنما اہم کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ مساجد میں جمعے کے خطبوں پر تحقیق کرنے والے ایک محقق کا کہنا ہے کہ علماء اپنے وعظ میں لڑکیوں کی پسند کی شادی اور جائیداد میں حصے کے بارے میں کچھ بیان نہیں کرتے ،ان کا زور عورتوں کی فحاشی اور عریانی کے حوالے سے ہوتا ہے ۔یہ درس دیا جاتا ہے کہ عورتوں کا گھروں میں رہنا ہی زیادہ بہتر ہے ۔
1973 کے آئین میں قائم ہونے والی سینیٹ ویسے تو صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے مگر سینیٹ انسانی حقوق کے حوالے سے خاصی متحرک ہے ۔سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے عورتوں کے تشدد کے واقعات کا خصوصی طور پر نوٹس لیا ہے۔انھوں نے خواتین کے قتل کے خلاف احتجاج کے طور پر کارروائی کو معطل رکھا ۔سینیٹ کی رکن صغرا امام کا کہنا ہے کہ خواتین کے تشدد کے بارے میں ایک جامع قانون مذہبی جماعتوں کی مخالفت کی بناء پر التوا کا شکار ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس قانون کی منظوری دی جانی چاہیے ۔
اس قانون کے نفاذ سے بیٹی کے قتل کے بعد گرفتار ہونے والے بھائی، باپ، ماں یا کسی قریبی رشتے دار کوکوئی دوسرا شخص معاف کرکے مقدمے سے بری نہیں کرا سکتا ۔اس ضمن میں پنجاب میں خواتین پر تشدد کے جامع قانون کے خلاف اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار بھی قابل افسوس ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل خواتین کے تحفظ کے متبادل قانون نے خواتین پر ہلکے تشدد کے اختیارکے حوالے سے سفارش کرکے مردوں کو تشدد کا نیا راستہ دکھادیا ۔پھر خواتین کی زندگی کے ہر شعبے میں شمولیت پر پابندی کی تجویز دے کر معاشرے کو پیچھے لے جانے کی کوشش کی ہے ۔
گزشتہ دنوں ایک ٹی وی ٹاک شو میں ایک مذہبی جماعت کے سینیٹر کے ایک سماجی کارکن کے ساتھ بدسلوکی اور ان پر تشدد کی کوشش ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرکے اسی ذہنیت کا ثبوت دیا تھا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ شیخ رشید جو آج خواجہ آصف کی مذمت کررہے ہیں وہ ملک کی پہلی منتخب وزیراعظم بے نظیربھٹو کے بارے میں اسی طرح کے ریمارکس دینے کی شہرت رکھتے تھے ۔یہ بات ہر فرد کوکیسے سمجھائی جائے کہ عورت اور مرد کے حقوق برابر ہیں ۔عورت زندگی کی دوڑ میں برابر کا حصہ لے گی تو غربت ختم ہوگی ورنہ آیندہ صدی میں بھی اندھیرا ہی ہوگا۔