ہمارے اندر کا شیخ چلی
سرسری نظر سے دیکھیے تو ہر انسان صرف ایک دکھائی دیتا ہے لیکن اصل میں ایسا بالکل نہیں ہوتا
barq@email.com
سرسری نظر سے دیکھیے تو ہر انسان صرف ایک دکھائی دیتا ہے لیکن اصل میں ایسا بالکل نہیں ہوتا، ہر انسان کے اندر اور بھی بہت سارے کردار بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں مثلاً ہمارا دعویٰ ہے کہ دنیا میں ایسا انسان شاید ہی کوئی ہوا ہو جس کے اندر کوئی چھوٹا یا بڑا ''شیخ چلی'' چھپا ہوا بیٹھا نہ ہو، ہمارے اندر بھی ہے بلکہ آپ کسی سے کہیے گا نہیں ہمارے اندر جو شیخ چلی بیٹھا ہے وہ بہت زیادہ اور بہت بڑا شیخ چلی ہے، اتنا کہ کبھی کبھی تو ہم پر پورے کا پورا حاوی ہو جاتا اور ہم فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ہم شیخ چلی زیادہ ہیں یا کچھ اور ۔ وہ تو اچھا ہے کہ یہ سب کچھ اندر ہی اندر ہے اور جو کچھ کرتے ہیں وہ بھی اندر ہی اندر کرتے ہیں ورنہ اگر ''کردار'' کے ساتھ شکلیں بھی تبدیل ہوتیں تو بازار میں آپ کو شاید انسان کوئی بھی دکھائی نہ دیتا، شہر پر جنگل کا گمان ہوتا اور چاروں طرف گیدڑ، لومڑ، لگڑ بھگے، بھیڑیئے، گدھے، گھوڑے اور بھیڑ بکریاں ہی نظر آتیں، چنانچہ ہمارے اندر (شیخ چلی کے علاوہ) ایک ''پرسورام'' بھی ہے ''پرسو رام'' ہندی اساطیر میں وشنو بھگوان کا چھٹا یا ساتواں اوتار ہے۔
ذات کا برھمن ہے اور کشتریوں کا سخت ترین دشمن، اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا کلہاڑا ہوتا ہے اسی رعایت سے اسے پرسو رام بھی کہتے ہیں، پرسا کلہاڑے کو کہتے ہیں یعنی کلہاڑے والا ۔ ، لیکن اصل بات ہم شیخ چلی کی کر رہے ہیں جسے روکنے کے لیے ہمارے پاس کوئی تدبیر نہیں ہے چنانچہ بات بات پر پھدک کر باہر آجاتا ہے، وہ جو پرانے زمانے کا اولڈ مائنڈ شیخ چلی تھا، اس نے تو صرف انڈوں کی ایک ٹوکری یا تیل کا کوئی مٹکا ہی توڑا تھا لیکن ہمارے شیخ چلی نے تو ہمارا اتنا نقصان کیا ہے کہ شاید عمر بھر اس کی بھرپائی نہ کر پائیں، اس دن اخبار میں ایک خبر پڑھی کہ مشہور امریکی سرمایہ دار کی آمدنی اتنی ہے کہ اگر راہ چلتے چلتے اس کا ہزار ڈالر کا نوٹ گر جائے تو جتنا وقت اسے اس نوٹ کو اٹھانے میں لگے گا اتنے وقت میں اس کی کمپنیاں ایک لاکھ ڈالر کما چکی ہوں گی، شیخ چلی تو شیخ چلی ہوتا ہے پھدک کر باہر آگیا۔ پوچھا کیا بات ہے ؟
بولا ، امریکا جاؤں گا بل گیٹ کے پیچھے پیچھے پھروں گا اس کا نوٹ گرے گا تو اس کے پاس اٹھانے کے لیے وقت تو ہو گا نہیں اس لیے وہ آگے بڑھ جائے گا اور میں نوٹ کے اوپر خود کو گرا کر مٹھی میں جکڑ لوں گا، اس طرح اگر دن میں اس کا ایک نوٹ بھی گرتا رہا اور میں اٹھاتا رہا تو مہینے میں تیس ہزار اور سال میں تین سو 65 ہزار ... اتنے میں کم بخت نے قہقہہ جو لگایا تو ہمارا ایک پیر ایک پتھر پر پڑا پاؤں ٹخنے سے مڑ گیا اور جب ڈاکٹر سے ایکسرے فیس اور پلاسٹر وغیرہ لگوا کر نکلے تو ہزار روپے کا نوٹ گر چکا تھا، نہ جانے کہاں ؟ دودھ والے نے از راہ ہمدردی اس چھینک والے کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کم بخت نے پیالہ توڑ دیا، اس پر چرسی بولا ، پیالہ جائے بھاڑ میں کم بخت نے میرے سارے باغ باغیچے اور محل دو محلے بھی برباد کر دیے،
تیری دو ٹکیا دی نوکری
میرا لاکھوں کا ساون جائے
اب یہ جو بجٹوں کے تخمینے یہاں وہاں سے آرہے ہیں اور ان میں ''ترقیاتی'' کاموں کے لیے جو رقومات مختص کی جارہی ہیں تو ہمارے اندر کے شیخ چلی کو بھی کھجلی ہونے لگی ہے، کاش ان میں سے اگر کسی چھوٹے سے ترقیاتی کام کا ٹھیکہ مل جائے تو یہ دو چار لاکھ روپے تو کہیں گئے ہی نہیں ہیں اور دو چار لاکھ ہاتھ آئیں تو پھر ٹھیکے پر ٹھیکہ، ٹھیکے پر ٹھیکہ ۔۔۔ تب تک الیکشن کا وقت آچکا ہو گا اور آج کل سارے ٹھیکیدار ہی جیت رہے ہیں، جیتنے کے بعد سینیٹ اور وغیرہ وغیرہ کے الیکشنوں میں اگر صحیح پتے استعمال کیے گئے تو وزارت پکی اور اگر وزارت ملی تو پھر
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
لیکن اس سے پہلے کہ کم بخت کچھ اور اونچا اڑتا ہم نے ایک دھپ جما کر نیچے بٹھا دیا، لیکن کم بخت باز آنے والی پارٹی تو ہے نہیں فوراً ہی ایک اور طرف اڑان بھری ۔۔۔۔ جناب نواز شریف ان دنوں علیل ہیں اگر خوش قسمتی سے میں بھی وہاں پہلے سے موجود ہوتا تو چاہے کوئی کچھ کرتا میں اس کی خدمت ضرور کرتا، پہلے گلدستے کے بہانے اندر جاتا اور پھر وہیں جم جاتا کہ میں اپنے پیارے وزیراعظم کی اس بیماری میں خدمت کیے بغیر نہیں رہوں گا۔ یوں وہاں خدمت کے ریکارڈ توڑتا ۔۔۔ یوں ایک دن ، میں وزیر نہ سہی کوئی امیر مقام سوری کوئی مشیر تو بن جاتا اور پھر ۔۔۔۔ لیکن اس کے دوسرا پھر کہنے سے پہلے ہی ہم نے اس سے منہ پھیر لیا، کم بخت۔
ذات کا برھمن ہے اور کشتریوں کا سخت ترین دشمن، اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا کلہاڑا ہوتا ہے اسی رعایت سے اسے پرسو رام بھی کہتے ہیں، پرسا کلہاڑے کو کہتے ہیں یعنی کلہاڑے والا ۔ ، لیکن اصل بات ہم شیخ چلی کی کر رہے ہیں جسے روکنے کے لیے ہمارے پاس کوئی تدبیر نہیں ہے چنانچہ بات بات پر پھدک کر باہر آجاتا ہے، وہ جو پرانے زمانے کا اولڈ مائنڈ شیخ چلی تھا، اس نے تو صرف انڈوں کی ایک ٹوکری یا تیل کا کوئی مٹکا ہی توڑا تھا لیکن ہمارے شیخ چلی نے تو ہمارا اتنا نقصان کیا ہے کہ شاید عمر بھر اس کی بھرپائی نہ کر پائیں، اس دن اخبار میں ایک خبر پڑھی کہ مشہور امریکی سرمایہ دار کی آمدنی اتنی ہے کہ اگر راہ چلتے چلتے اس کا ہزار ڈالر کا نوٹ گر جائے تو جتنا وقت اسے اس نوٹ کو اٹھانے میں لگے گا اتنے وقت میں اس کی کمپنیاں ایک لاکھ ڈالر کما چکی ہوں گی، شیخ چلی تو شیخ چلی ہوتا ہے پھدک کر باہر آگیا۔ پوچھا کیا بات ہے ؟
بولا ، امریکا جاؤں گا بل گیٹ کے پیچھے پیچھے پھروں گا اس کا نوٹ گرے گا تو اس کے پاس اٹھانے کے لیے وقت تو ہو گا نہیں اس لیے وہ آگے بڑھ جائے گا اور میں نوٹ کے اوپر خود کو گرا کر مٹھی میں جکڑ لوں گا، اس طرح اگر دن میں اس کا ایک نوٹ بھی گرتا رہا اور میں اٹھاتا رہا تو مہینے میں تیس ہزار اور سال میں تین سو 65 ہزار ... اتنے میں کم بخت نے قہقہہ جو لگایا تو ہمارا ایک پیر ایک پتھر پر پڑا پاؤں ٹخنے سے مڑ گیا اور جب ڈاکٹر سے ایکسرے فیس اور پلاسٹر وغیرہ لگوا کر نکلے تو ہزار روپے کا نوٹ گر چکا تھا، نہ جانے کہاں ؟ دودھ والے نے از راہ ہمدردی اس چھینک والے کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کم بخت نے پیالہ توڑ دیا، اس پر چرسی بولا ، پیالہ جائے بھاڑ میں کم بخت نے میرے سارے باغ باغیچے اور محل دو محلے بھی برباد کر دیے،
تیری دو ٹکیا دی نوکری
میرا لاکھوں کا ساون جائے
اب یہ جو بجٹوں کے تخمینے یہاں وہاں سے آرہے ہیں اور ان میں ''ترقیاتی'' کاموں کے لیے جو رقومات مختص کی جارہی ہیں تو ہمارے اندر کے شیخ چلی کو بھی کھجلی ہونے لگی ہے، کاش ان میں سے اگر کسی چھوٹے سے ترقیاتی کام کا ٹھیکہ مل جائے تو یہ دو چار لاکھ روپے تو کہیں گئے ہی نہیں ہیں اور دو چار لاکھ ہاتھ آئیں تو پھر ٹھیکے پر ٹھیکہ، ٹھیکے پر ٹھیکہ ۔۔۔ تب تک الیکشن کا وقت آچکا ہو گا اور آج کل سارے ٹھیکیدار ہی جیت رہے ہیں، جیتنے کے بعد سینیٹ اور وغیرہ وغیرہ کے الیکشنوں میں اگر صحیح پتے استعمال کیے گئے تو وزارت پکی اور اگر وزارت ملی تو پھر
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
لیکن اس سے پہلے کہ کم بخت کچھ اور اونچا اڑتا ہم نے ایک دھپ جما کر نیچے بٹھا دیا، لیکن کم بخت باز آنے والی پارٹی تو ہے نہیں فوراً ہی ایک اور طرف اڑان بھری ۔۔۔۔ جناب نواز شریف ان دنوں علیل ہیں اگر خوش قسمتی سے میں بھی وہاں پہلے سے موجود ہوتا تو چاہے کوئی کچھ کرتا میں اس کی خدمت ضرور کرتا، پہلے گلدستے کے بہانے اندر جاتا اور پھر وہیں جم جاتا کہ میں اپنے پیارے وزیراعظم کی اس بیماری میں خدمت کیے بغیر نہیں رہوں گا۔ یوں وہاں خدمت کے ریکارڈ توڑتا ۔۔۔ یوں ایک دن ، میں وزیر نہ سہی کوئی امیر مقام سوری کوئی مشیر تو بن جاتا اور پھر ۔۔۔۔ لیکن اس کے دوسرا پھر کہنے سے پہلے ہی ہم نے اس سے منہ پھیر لیا، کم بخت۔