طورخم گیٹ ایک انتظامی ضرورت
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پاک افغان تعلقات میں خرابی کا فائدہ تیسرا ملک بھارت ہی اٹھا سکتا ہے
افغان حکومت اپنے کیے پر نظر ثانی کرکے طورخم واقعہ کا در بند کرسکتی ہے۔ فوٹو: آئی این پی
کتنی حیرت ناک بات ہے کہ امریکا میں تعینات افغان سفیر حمداللہ محب امریکا کو باور کراتے ہیں کہ افغان صورتحال ''کل کی جنگ'' نہیں ہے، جنگ افغان آج بھی طالبان اور داعش کے خلاف جاری ہے، اور یہ جنگ امریکا اور افغانستان کے پڑوسی ملکوں کی ترجیح ہونی چاہیے، اس کا جواب وہائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے یہ کہتے ہوئے دیا ہے کہ طورخم پر جاری کشیدگی کا امریکا قریب سے جائزہ لے رہا ہے جب کہ دوسری طرف طور خم سرحد پر وہی افغانستان پاکستان کے دفاعی اور نقل و حرکت سے متعلق تزویراتی گیٹ کی تعمیر پر بلاجواز فائرنگ اور اشتعال انگیز کارروائی سے صورتحال کو پیچیدہ بنانے پر مصر ہے۔
جس کا افسوسناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر اتوار کی شب فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونیوالے پاک فوج کے میجر علی جواد چنگیزی شہید ہوگئے جب کہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ افغان فورسز کی طرف سے طے شدہ جنگ بندی کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی اور رات گئے بلاجواز فائرنگ کے ساتھ ساتھ سرحد پرگیٹ کی تعمیر پر شروع ہونے والی کشیدگی تیسرے دن بھی برقرار رہی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث دونوں جانب سے فوجوں کی تعداد میں اضافہ کی اطلاعات ملی ہیں۔ اب تک پاکستانی اور افغان فوج کا ایک ایک رکن ہلاک جب کہ 11 پاکستانیوں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے ، فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے دیگر پانچ سیکیورٹی اہلکاروں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
طورخم سرحد پر افغان فورسز کی کارروائیوں کے محرکات پر سیاسی مبصرین کی رائے متفرق ہے ، بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پاک افغان تعلقات میں خرابی کا فائدہ تیسرا ملک بھارت ہی اٹھا سکتا ہے جب کہ پاک افغان امن ڈیل کی ممکنہ کوششوں کو دھچکا لگنے کا خطرہ ہے ۔ منگل کو اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میجر جواد چنگیزی پاکستان کے ایک بہادر فرزند تھے جنہوں نے مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان پر واضح کردیا جائے کہ وہ طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر کو غلط رنگ نہ دے۔
اس سرحدی راستے کو پاکستان کسی طور دہشگردی کا گیٹ وے بننے نہیں دیگا، افغان حکام اس حقیقت کا ادراک کریں کہ سرحد کے آرپار آمدورفت میں باقاعدگی پیدا کرنے کی انتظامی ضرورت ناگزیر ہے، تاہم اس ضمن میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے افغان فورسزکی بلا جوازگولہ باری سے میجر جواد سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے افغانستان کو واضح پیغام دیا ہے کہ اسے یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ خطے میں امن کے لیے ہماری کوششوں کا ساتھ دینا چاہتا ہے یا کسی اورکا کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔
ان کے اس استدلال کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی بارڈر مینجمنٹ اور دونوں اطراف سے در اندازی روکنے کی مخلصانہ کوششوں کو سرحد پار سے سبوتاژ کیا جا رہا ہے ، اس لیے پاکستان طورخم سمیت پوری افغان سرحد پر مزید 8مقامات پر بارڈر مینجمنٹ سسٹم نصب کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ افغان حکومت کے ساتھ ڈیڑھ برس سے پاکستانی حکام رابطے میں تھے اور اسے اعتماد میں لے کر تنصیب شروع کی گئی تھی ، وزیر داخلہ کے مطابق حالات خراب کرنے میں تیسرے ملک کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے ۔
ادھر افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر سید ابرار حسین کو طلب کر کے طور خم واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا، افغان وزارت خارجہ نے پہلی مخاصمانہ کوشش میں کشیدگی کی ذمے داری پاکستان پر عائد کی تاہم بعد میں احساس زیاں کے طور پر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں طورخم میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں پر غور اور تنازعے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ یہ قلب ماہیت طورخم واقعہ سے پہلے ہوجاتی تو کیا مضائقہ تھا، خطے میں امن ڈیل کے لیے پاکستان کی بے لوث خدمات افغان حکام کو نظر آنی چاہئیں، برطانوی میڈیا کے مطابق افغان سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ طورخم کا سرحدی تنازع جنگ کے ذریعے حل نہیں ہو گا اور اس کا حل سفارتی ذرایع سے ہی کیا جا سکتا ہے، اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا ہے ۔
افغان حکومت اپنے کیے پر نظر ثانی کرکے طورخم واقعہ کا در بند کرسکتی ہے۔ دریں اثنا پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیوال نے کابل سے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ان کی پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور پاکستان کی فوج کے سربراہ راحیل شریف سے فون پر بات ہوئی ہے، انشاء اللہ یہ مسئلہ آیندہ چند دنوں میں سفارتی سطح پر حل کر لیا جائے گا۔چنانچہ امن و مذاکرات کی خواہش پر مبنی اس فیصلہ کو خوش آیند سمجھنا چاہیے، افغان حکام سنجیدگی سے اپنے داخلی خلفشار پر قابو پانے کی کوشش کریں جس کی بازگشت امریکی سیاسی و عسکری حلقوں میں بھی سنائی دے رہی ہے، افغانستان کے داخلی مسائل کو امن عمل میں ہرگز رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، جب کہ طورخم سرحد پر نقل و حرکت کے نظام کو سبوتاژ کرنے سے گریز میں دونوں ملکوں کا مفاد ہے۔
جس کا افسوسناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر اتوار کی شب فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونیوالے پاک فوج کے میجر علی جواد چنگیزی شہید ہوگئے جب کہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ افغان فورسز کی طرف سے طے شدہ جنگ بندی کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی اور رات گئے بلاجواز فائرنگ کے ساتھ ساتھ سرحد پرگیٹ کی تعمیر پر شروع ہونے والی کشیدگی تیسرے دن بھی برقرار رہی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث دونوں جانب سے فوجوں کی تعداد میں اضافہ کی اطلاعات ملی ہیں۔ اب تک پاکستانی اور افغان فوج کا ایک ایک رکن ہلاک جب کہ 11 پاکستانیوں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے ، فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے دیگر پانچ سیکیورٹی اہلکاروں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
طورخم سرحد پر افغان فورسز کی کارروائیوں کے محرکات پر سیاسی مبصرین کی رائے متفرق ہے ، بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پاک افغان تعلقات میں خرابی کا فائدہ تیسرا ملک بھارت ہی اٹھا سکتا ہے جب کہ پاک افغان امن ڈیل کی ممکنہ کوششوں کو دھچکا لگنے کا خطرہ ہے ۔ منگل کو اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میجر جواد چنگیزی پاکستان کے ایک بہادر فرزند تھے جنہوں نے مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان پر واضح کردیا جائے کہ وہ طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر کو غلط رنگ نہ دے۔
اس سرحدی راستے کو پاکستان کسی طور دہشگردی کا گیٹ وے بننے نہیں دیگا، افغان حکام اس حقیقت کا ادراک کریں کہ سرحد کے آرپار آمدورفت میں باقاعدگی پیدا کرنے کی انتظامی ضرورت ناگزیر ہے، تاہم اس ضمن میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے افغان فورسزکی بلا جوازگولہ باری سے میجر جواد سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے افغانستان کو واضح پیغام دیا ہے کہ اسے یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ خطے میں امن کے لیے ہماری کوششوں کا ساتھ دینا چاہتا ہے یا کسی اورکا کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔
ان کے اس استدلال کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی بارڈر مینجمنٹ اور دونوں اطراف سے در اندازی روکنے کی مخلصانہ کوششوں کو سرحد پار سے سبوتاژ کیا جا رہا ہے ، اس لیے پاکستان طورخم سمیت پوری افغان سرحد پر مزید 8مقامات پر بارڈر مینجمنٹ سسٹم نصب کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ افغان حکومت کے ساتھ ڈیڑھ برس سے پاکستانی حکام رابطے میں تھے اور اسے اعتماد میں لے کر تنصیب شروع کی گئی تھی ، وزیر داخلہ کے مطابق حالات خراب کرنے میں تیسرے ملک کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے ۔
ادھر افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر سید ابرار حسین کو طلب کر کے طور خم واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا، افغان وزارت خارجہ نے پہلی مخاصمانہ کوشش میں کشیدگی کی ذمے داری پاکستان پر عائد کی تاہم بعد میں احساس زیاں کے طور پر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں طورخم میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں پر غور اور تنازعے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ یہ قلب ماہیت طورخم واقعہ سے پہلے ہوجاتی تو کیا مضائقہ تھا، خطے میں امن ڈیل کے لیے پاکستان کی بے لوث خدمات افغان حکام کو نظر آنی چاہئیں، برطانوی میڈیا کے مطابق افغان سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ طورخم کا سرحدی تنازع جنگ کے ذریعے حل نہیں ہو گا اور اس کا حل سفارتی ذرایع سے ہی کیا جا سکتا ہے، اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا ہے ۔
افغان حکومت اپنے کیے پر نظر ثانی کرکے طورخم واقعہ کا در بند کرسکتی ہے۔ دریں اثنا پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیوال نے کابل سے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ان کی پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور پاکستان کی فوج کے سربراہ راحیل شریف سے فون پر بات ہوئی ہے، انشاء اللہ یہ مسئلہ آیندہ چند دنوں میں سفارتی سطح پر حل کر لیا جائے گا۔چنانچہ امن و مذاکرات کی خواہش پر مبنی اس فیصلہ کو خوش آیند سمجھنا چاہیے، افغان حکام سنجیدگی سے اپنے داخلی خلفشار پر قابو پانے کی کوشش کریں جس کی بازگشت امریکی سیاسی و عسکری حلقوں میں بھی سنائی دے رہی ہے، افغانستان کے داخلی مسائل کو امن عمل میں ہرگز رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، جب کہ طورخم سرحد پر نقل و حرکت کے نظام کو سبوتاژ کرنے سے گریز میں دونوں ملکوں کا مفاد ہے۔