3دن دہشت گردی کا خطرہ ہے موبائل فون آج سے ہی بند کیے جاسکتے ہیں رحمن ملک
دہشت گردی کی کارروائیاں حکومت کو غیرمستحکم کرنیکی کوشش ہیں،موٹر سائیکل پر پابندی نہیں لگا رہے
میری زبان بند کرنے والے بتائیں کیا میں نے غلط کہا تھا، آئندہ حساس اداروں کی کارکردگی بھی مانیٹر کی جائیگی، میڈیا سے گفتگو۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ آج سے ہی ملک بھر میں موبائل فون سروس کی معطلی کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا راولپنڈی میں ماتمی جلوسوں میں پولیس کی موجودگی کے باعث ہی دہشتگرد اپنی مذموم کارروائیوں میں کامیاب نہیں ہو سکے، دہشت گردی کے واقعات میں زخمی اہلکاروں کو قائد اعظم پولیس میڈل سے نوازا جائے گا۔ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں اسلام آباد میں جاری ڈی ایٹ کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے جس میں لشکر جھنگوی اور طالبان کے علاوہ افغان مہاجرین پر مشتمل تیسرا گروپ بھی ملوث ہوسکتا ہے۔
وزیرداخلہ نے کہا انھوں نے پہلے بھی موبائل فون سروس بند کی تھی اور اب بھی کریں گے کیونکہ ان کے پاس دہشت گردوں کے درمیان رابطوں کو معطل کرنے کیلیے کوئی اور چارہ نہیں۔ اس لیے آج سے ہی موبائل سروس کی بندش کی حکمت عملی بنائی جارہی ہے لیکن اس سلسلے میں تمام صوبوں کو اعتماد میں لیں گے تاکہ کسی کو کوئی رنجش نہ رہے۔ موٹرسائیکل پر مکمل پابندی تو نہیں لگا رہے لیکن مجالس اور جلوس کے آدھا کلو میٹر کے اندر موٹر سائیکل کے داخلے اور پارکنگ پر پابندی کی تجویز دی ہے۔
انھوں نے کہا میری زبان بندی کرنے والے بتائیں کیا میں نے غلط کہا تھا، میں یہ سب کچھ ڈرانے یا دھمکانے کیلیے نہیں کرتا، عوام کو آگاہ کرتا ہوں کہ وہ سیکیورٹی اقدامات میں مدد کریں۔ میں نے کل بتا دیا تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں حملہ ہو سکتا ہے۔ گذشتہ روز کے واقعہ میں خودکش حملہ آور کی عمر 13سال تھی۔ اسی مقام پر ایک دھماکا خیز دمواد آئی ای ڈی نصب کیا گیا تھا جس کو موبائل فون کے ذریعے پھٹنا تھا۔ رحمٰن ملک نے کہا آئندہ تین دنوں8، 9 اور10محرم کو ملک میں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ راولپنڈی میں خودکش حملہ الیاس کشمیری گروپ کے عصمت اللہ معاویہ نے کروایا۔ وزیر داخلہ نے کہا راولپنڈی حملے میں پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کی غفلت نہیں پائی گئی۔ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افغان باشندوں کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ بھی اٹھایا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا راولپنڈی میں ماتمی جلوسوں میں پولیس کی موجودگی کے باعث ہی دہشتگرد اپنی مذموم کارروائیوں میں کامیاب نہیں ہو سکے، دہشت گردی کے واقعات میں زخمی اہلکاروں کو قائد اعظم پولیس میڈل سے نوازا جائے گا۔ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں اسلام آباد میں جاری ڈی ایٹ کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے جس میں لشکر جھنگوی اور طالبان کے علاوہ افغان مہاجرین پر مشتمل تیسرا گروپ بھی ملوث ہوسکتا ہے۔
وزیرداخلہ نے کہا انھوں نے پہلے بھی موبائل فون سروس بند کی تھی اور اب بھی کریں گے کیونکہ ان کے پاس دہشت گردوں کے درمیان رابطوں کو معطل کرنے کیلیے کوئی اور چارہ نہیں۔ اس لیے آج سے ہی موبائل سروس کی بندش کی حکمت عملی بنائی جارہی ہے لیکن اس سلسلے میں تمام صوبوں کو اعتماد میں لیں گے تاکہ کسی کو کوئی رنجش نہ رہے۔ موٹرسائیکل پر مکمل پابندی تو نہیں لگا رہے لیکن مجالس اور جلوس کے آدھا کلو میٹر کے اندر موٹر سائیکل کے داخلے اور پارکنگ پر پابندی کی تجویز دی ہے۔
انھوں نے کہا میری زبان بندی کرنے والے بتائیں کیا میں نے غلط کہا تھا، میں یہ سب کچھ ڈرانے یا دھمکانے کیلیے نہیں کرتا، عوام کو آگاہ کرتا ہوں کہ وہ سیکیورٹی اقدامات میں مدد کریں۔ میں نے کل بتا دیا تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں حملہ ہو سکتا ہے۔ گذشتہ روز کے واقعہ میں خودکش حملہ آور کی عمر 13سال تھی۔ اسی مقام پر ایک دھماکا خیز دمواد آئی ای ڈی نصب کیا گیا تھا جس کو موبائل فون کے ذریعے پھٹنا تھا۔ رحمٰن ملک نے کہا آئندہ تین دنوں8، 9 اور10محرم کو ملک میں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ راولپنڈی میں خودکش حملہ الیاس کشمیری گروپ کے عصمت اللہ معاویہ نے کروایا۔ وزیر داخلہ نے کہا راولپنڈی حملے میں پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کی غفلت نہیں پائی گئی۔ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افغان باشندوں کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ بھی اٹھایا جائے گا۔