وفاق صوبائی خدمات پران پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی بحالی کیلیے مشروط آمادہ

صوبوں کوواجبات دیناہوں گے،ایس آربی اورپی آراے سے مذاکرات میں ایف بی آرنے شرط رکھ دی،معاہدے پرعمل یقینی بنانے پر زور

تصفیے کیلیے فنانس ایکٹ پردستخط تک کی مہلت،صوبوں میں رجسٹرڈ نان فائلرزپر3فیصدایڈوانس ٹیکس واپس لینے سے انکار فوٹو: فائل

وفاق نے صوبوں کو آئندہ مالی سال2016-17کے وفاقی بجٹ میں فنانس بل کے ذریعے صوبائی سروسز پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ ختم کرنے سے متعلق کی جانے والی مجوزہ ترمیم مشروط طور پر واپس لینے کی پیشکش کردی ہے البتہ صوبائی ریونیو اتھارٹیز کے پاس سیلزٹیکس میں رجسٹرڈ نان فائلرز پر عائد کردہ 3 فیصد ایڈوانس ٹیکس واپس لینے سے انکار کردیا ہے۔

ایف بی آر کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وفاقی فنانس بل 2016-17 کے ذریعے صوبائی سروسز پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ ختم کرنے کی تجویز اس صورت واپس لی جائے گی کہ سندھ ریونیو بورڈ کی جانب سے ایف بی آرکے 21ارب روپے کے واجبات ادا کردیے جائیں۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ ایف بی آر اور صوبائی ریونیو اتھارٹیز کے درمیان ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کلیم کرنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی جس کے مطابق وفاق ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ دے گا اور پھر صوبوں کے ساتھ حساب کرکے جس کے ذمے جو واجبات بنیں گے وہ اسے ادا کردیے جائیں گے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبوں کی جانب سے اس ایم او یو پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا، اس ایم او یو کے مطابق ایف بی آر نے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں پنجاب ریونیو اتھارٹی کے 5 سے 6 ارب روپے ادا کرنا ہیں جبکہ سندھ نے ایف بی آر کے 21ارب روپے ادا کرنا ہیں مگر سندھ ریونیو بورڈ کی جانب سے ایف بی آر کے ساتھ حساب کتاب نہیں کیا جا رہا ل۔

ہٰذا اب ایف بی آر کی جانب سے سندھ ریونیو بورڈ حکام کے ساتھ مذاکرات میں واضح کردیا گیا ہے کہ اگر وفاقی بجٹ منظور ہونے سے پہلے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں واجبات کی ادائیگیوں کا معاملہ طے کیا جاتا ہے اور ایم او یو پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے تو اس صورت میں ایف بی آر فنانس بل کے ذریعے صوبائی سروسز پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ ختم کرنے سے متعلق کی جانے والی مجوزہ ترمیم واپس لے گا تاہم اگر صوبے یہ معاملہ طے نہیں کرتے اور بجٹ پارلیمنٹ سے پاس ہوکر صدر کے دستخط سے ایکٹ بن جاتا ہے تو اس صورت میں پھر معاملہ لٹک جائے گا۔

 
Load Next Story