اسامہ کی میت مذہبی رسوم کے بعد سمندربردکی چارلس کویٹی
کفن میں لپیٹ کر بیگ میں بندکی گئی، ساتھی افسران کوای میل میں انکشاف
امریکی بحری بیڑے پرکسی فوجی اہلکار نے لاش کو سمندر برد کرتے نہیں دیکھا۔ فوٹو: فائل
ایبٹ اباد میں کمانڈوآپریشن کے بعد امریکی فوجی افسران کی جانب سے بھیجی جانیوالی ای میلزمیں انکشاف کیاگیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی لاش کو سمندربرد کرنے سے پہلے مذہبی رسومات کی مکمل پاسداری کی گئی۔
غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق آپریشن کے دوسرے روز ایڈمرل چارلس کویٹی کی جانب سے ایڈمرل مائیک مولن اورجنرل جیمز میٹنرکوبھیجی جانے والی ایک ای میل منظرعام پرآئی ہے جس میں ایڈمرل چارلس نے ساتھی افسران کو آگاہ کیاہے کہ اسامہ کی لاش مکمل مذہبی رسومات کے ساتھ سمندر برد کی گئی ہے۔ ای میل کے مطابق اسامہ کی میت باقاعدہ کفن میںلپیٹ کرایک بیگ میں بند کی گئی اورسمندربردکرنے سے قبل ایک فوجی افسر نے باضابطہ طورپرمذہبی کلمات بھی ادا کیے۔
اے پی پی کے مطابق اظہار رائے آزادی ایکٹ کے تحت امریکی خبررساں ادارے کو موصول شدہ ای میلز میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس کارل ملیشن کے کسی بھی فوجی اہلکار نے اسامہ بن لادن کو سمندر برد کرتے نہیں دیکھا۔ القاعدہ رہنما کی موت کے حوالے سے سرکاری اطلاعات کا منظر عام پر آنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق آپریشن کے دوسرے روز ایڈمرل چارلس کویٹی کی جانب سے ایڈمرل مائیک مولن اورجنرل جیمز میٹنرکوبھیجی جانے والی ایک ای میل منظرعام پرآئی ہے جس میں ایڈمرل چارلس نے ساتھی افسران کو آگاہ کیاہے کہ اسامہ کی لاش مکمل مذہبی رسومات کے ساتھ سمندر برد کی گئی ہے۔ ای میل کے مطابق اسامہ کی میت باقاعدہ کفن میںلپیٹ کرایک بیگ میں بند کی گئی اورسمندربردکرنے سے قبل ایک فوجی افسر نے باضابطہ طورپرمذہبی کلمات بھی ادا کیے۔
اے پی پی کے مطابق اظہار رائے آزادی ایکٹ کے تحت امریکی خبررساں ادارے کو موصول شدہ ای میلز میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس کارل ملیشن کے کسی بھی فوجی اہلکار نے اسامہ بن لادن کو سمندر برد کرتے نہیں دیکھا۔ القاعدہ رہنما کی موت کے حوالے سے سرکاری اطلاعات کا منظر عام پر آنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔