الیکشن کمیشن کو ووٹ ازخود منتقل کرنے کا اختیار نہیں سپریم کورٹ
گھرگھرجاکرووٹرزکی تصدیق کاحکم دیاتھا،ضرورت پڑنے پرفوج کی خدمات لی جاسکتی تھیں،جسٹس افتخار چوہدری کے ریمارکس
کراچی کامینڈیٹ متحدہ کے پاس ہے،ہماراموقف بھی سناجائے،ایم کیوایم کی دائرکردہ درخواست میں بیرسٹرفروغ نسیم کامؤقف۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے انتخابی فہرستوں سے متعلق کیس میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے فریق بننے کی درخواست منظورکرلی ہے۔
ووٹرلسٹوں سے متعلق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں زیرسماعت آئینی درخواست میں متحدہ قومی موومنٹ نے فریق بننے کیلیے درخواست دائرکی تھی۔ جمعرات کوایم کیوایم کی طرف سے سینیٹربیرسٹرفروغ نسیم نے درخواست دائرکی جس میں موقف اختیارکیا گیاکہ سندھ کے شہری علاقوں بالخصوص کراچی میں ایم کیو ایم کامکمل مینڈیٹ ہے کراچی کے حوالے سے انتخابی فہرستوںکے کیس میں انھیں بھی سناجائے،آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے ایم کو ایم کوفریق بننے کی اجازت دیدی۔
چیف جسٹس افتخارچوہدری نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت نے گھرگھرجا کر ووٹرزکی تصدیق کاحکم دیاتھا، ضرورت پڑنے پر فوج کی خدمات حاصل کی جاسکتی تھیں، الیکشن کمیشن کے پاس اختیارنہیں کہ کسی کاووٹ ازخودمنتقل کردے،ڈی جی الیکشن کمیشن نے سماعت کے دوران بتایاکہ غیرحتمی فہرست میں بہت خرابیاں تھیں جنہیں دور کیاگیا،ایک کروڑ 40لاکھ فارمزبھرے گئے تھے،کراچی میں27لاکھ ووٹرزکی تصدیق نہیں ہوئی تھی،ایک ووٹر کا نام10سے 12مرتبہ درج تھا،2007میں کراچی میں ووٹرز کی تعداد 66لاکھ 3ہزارتھی، جماعت اسلامی کے وکیل رشیداے رضوی نے بتایاکہ میرے گھرالیکشن کمیشن کاکوئی نمائندہ نہیں آیا ووٹرزلسٹ میں پرانے پتے پرووٹ درج ہے۔
ووٹرلسٹوں سے متعلق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں زیرسماعت آئینی درخواست میں متحدہ قومی موومنٹ نے فریق بننے کیلیے درخواست دائرکی تھی۔ جمعرات کوایم کیوایم کی طرف سے سینیٹربیرسٹرفروغ نسیم نے درخواست دائرکی جس میں موقف اختیارکیا گیاکہ سندھ کے شہری علاقوں بالخصوص کراچی میں ایم کیو ایم کامکمل مینڈیٹ ہے کراچی کے حوالے سے انتخابی فہرستوںکے کیس میں انھیں بھی سناجائے،آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے ایم کو ایم کوفریق بننے کی اجازت دیدی۔
چیف جسٹس افتخارچوہدری نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت نے گھرگھرجا کر ووٹرزکی تصدیق کاحکم دیاتھا، ضرورت پڑنے پر فوج کی خدمات حاصل کی جاسکتی تھیں، الیکشن کمیشن کے پاس اختیارنہیں کہ کسی کاووٹ ازخودمنتقل کردے،ڈی جی الیکشن کمیشن نے سماعت کے دوران بتایاکہ غیرحتمی فہرست میں بہت خرابیاں تھیں جنہیں دور کیاگیا،ایک کروڑ 40لاکھ فارمزبھرے گئے تھے،کراچی میں27لاکھ ووٹرزکی تصدیق نہیں ہوئی تھی،ایک ووٹر کا نام10سے 12مرتبہ درج تھا،2007میں کراچی میں ووٹرز کی تعداد 66لاکھ 3ہزارتھی، جماعت اسلامی کے وکیل رشیداے رضوی نے بتایاکہ میرے گھرالیکشن کمیشن کاکوئی نمائندہ نہیں آیا ووٹرزلسٹ میں پرانے پتے پرووٹ درج ہے۔