کراچی میں ضیا دورسے حالات خراببھتہ خوری بڑھ گئیشرجیل
پولیس والوں کو پتہ ہے کہ بھتہ کون لے رہا ہے:خواجہ اظہار، تاجر ناامید ہوچکے،اسداللہ بھٹو
ہماری حفاظت قانون نہیں اب جرم کررہاہے،عتیق میر’’ٹودی پوائنٹ ‘‘ میں گفتگو۔ فوٹو: فائل
پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے کہاہے کہ کراچی کے حالات ضیاء الحق کے دور سے خراب ہیں،اس وقت کے بوئے ہوئے بیج کو آج کی نسل کاٹ رہی ہے۔
اس وقت بھی بھتہ لیا جاتاتھا میں یہ مانتا ہوں کہ موجودہ دور میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری بڑھی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حکومت اس مرض کا علاج نہیں کررہی ۔پروگرام ٹودی پوائنٹ میں اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ کراچی کے تاجروں کو جب بھی مشکل پڑی حکومت نے ان کو وقت دیااور ان کے مسائل کو حل کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے ۔ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ ایم کیو ایم بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان کیخلاف فرنٹ لائن پر ہے۔ پولیس والوں کو پتہ ہے کہ بھتہ کون لے رہا ہے، بھتہ دینے والوں کو پتہ ہے کہ بھتہ کس کو جارہا ہے۔
بھتہ پانچ لاکھ سے شروع ہوتا ہے اور پانچ کروڑ تک جاتا ہے ہم ہرگھنٹہ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف چیخ وپکار کرتے ہیں۔ بدامنی کے باعث سب سے زیادہ نقصان ایم کیو ایم کا ہوا ہے ۔جماعت اسلامی کے رہنما اسد اللہ بھٹو نے کہاکہ کراچی کا تاجر مایوس ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو تحفظ دے۔صدر کراچی تاجراتحاد عتیق میر نے کہاکہ حکومت ہم سے وعدے کرتی ہے لیکن ان وعدوں پر عمل نہیں ہوتا ۔پولیس والے خود ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم سے کہاجائے گا کہ امتیازی سلوک برتیں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں۔بھتہ 20 سال پہلے بھی دیتے تھے لیکن آج تو یہ لوگ سرچڑھ کر بھتہ لے رہے ہیں۔آج تو جرم ہماری حفاظت کررہا ہے قانون نہیں ۔
اس وقت بھی بھتہ لیا جاتاتھا میں یہ مانتا ہوں کہ موجودہ دور میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری بڑھی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حکومت اس مرض کا علاج نہیں کررہی ۔پروگرام ٹودی پوائنٹ میں اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ کراچی کے تاجروں کو جب بھی مشکل پڑی حکومت نے ان کو وقت دیااور ان کے مسائل کو حل کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے ۔ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ ایم کیو ایم بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان کیخلاف فرنٹ لائن پر ہے۔ پولیس والوں کو پتہ ہے کہ بھتہ کون لے رہا ہے، بھتہ دینے والوں کو پتہ ہے کہ بھتہ کس کو جارہا ہے۔
بھتہ پانچ لاکھ سے شروع ہوتا ہے اور پانچ کروڑ تک جاتا ہے ہم ہرگھنٹہ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف چیخ وپکار کرتے ہیں۔ بدامنی کے باعث سب سے زیادہ نقصان ایم کیو ایم کا ہوا ہے ۔جماعت اسلامی کے رہنما اسد اللہ بھٹو نے کہاکہ کراچی کا تاجر مایوس ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو تحفظ دے۔صدر کراچی تاجراتحاد عتیق میر نے کہاکہ حکومت ہم سے وعدے کرتی ہے لیکن ان وعدوں پر عمل نہیں ہوتا ۔پولیس والے خود ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم سے کہاجائے گا کہ امتیازی سلوک برتیں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں۔بھتہ 20 سال پہلے بھی دیتے تھے لیکن آج تو یہ لوگ سرچڑھ کر بھتہ لے رہے ہیں۔آج تو جرم ہماری حفاظت کررہا ہے قانون نہیں ۔