اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کا جشن

اسرائیل تمام مقاصدمیںناکام رہا،وہ معاہدے پرپابندرہاتوہم بھی پاسداری کرینگے ،خالد مشعل،عالمی برادری غزہ کیلیے امداددے

غزہ: حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ جنگ بندی کے بعد جمع ہونے والے فلسطینیوں سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

KARACHI:
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوگیاہے جبکہ دونوں ممالک کے رہنمائوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

میڈیارپورٹ کے مطابق اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندے کے معاہدے پر جمعرات سے عملدر آمد شروع ہوگیاہے۔ حماس رہنما خالد مشعل نے جنگ بندی کیلیے مصر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اگراسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی توجواب دیا جائیگا،اسرائیل کی جارحیت ناکام ہو گئی ہے ،معاہدے میں حماس کے مطالبات مان لیے گئے ہیں،غزہ کے تمام راستے کھول دیے جائیں گے جس میں مصر کی طرف راستہ بھی شامل ہے۔


قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوبھی کہہ چکے ہیں کہ جنگ بندی کی ناکامی کی صورت میں مزیدسخت کارروائی ہوگی،اسرائیلی وزیراعظم اس امریکی تجویزپر رضامند ہوئے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے پہلے وہ مصر کی طرف سے جنگ بندی کے منصوبے کو ایک موقع دیں اورحالات کو قابو میں لانے کے لیے امن کی طرف قدم اٹھائیں۔امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ جنگ بندی قائم رکھنے کے لیے غزہ سے راکٹ حملے رکنے چاہئیں اورسرحد پرامن قائم ہوناچاہیے،اب ہمیں علاقے کے استحکام پر توجہ دینی ہوگی۔جنگ بندی کے بعدغزہ کے سیکڑوں رہائشی خوشی کااظہار کرنے کیلیے سڑکوں پرنکل آئے اورجشن منایا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ایک اجلاس میں اسرائیل اورحماس پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی پر سنجیدگی سے عمل درآمدکریں ۔ادھر امریکی صدربارک اوباما نے معاہدے کوتسلیم کرنے پر اسرائیلی رہنمائوں کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وہ اسرائیلی دفاعی نظام کواوربہتر بنانے کے لیے مزیدرقم فراہم کرنے کی کوشش کریںگے۔آن لائن کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مغربی پٹی میں55فلسطینیوں کو گرفتارکرلیاہے انہیں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے نفاذکے چندگھنٹے بعد پکڑا گیاہے۔
Load Next Story