ماڈرن اور مغلیہ حکمران
جمہوریت سرمایہ دارانہ ہی سہی، اس کے بھی کچھ اصول کچھ اخلاقیات ہوتے ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
جمہوریت سرمایہ دارانہ ہی سہی، اس کے بھی کچھ اصول کچھ اخلاقیات ہوتے ہیں، ترقی یافتہ ملکوں ہی میں نہیں بلکہ پسماندہ ملکوں میں بھی سیاسی پارٹیاں اپنے نمایندوں کو عموماً ایک بار خاص صورتوں میں دوسری بار صدارت یا وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار نامزد کرتی ہیں، موجودہ صدر اوباما کو ان کی پارٹی نے دوسری بار صدارتی امیدوار نامزد کیا اور وہ دوسری بار امریکا کے صدر بنے ظاہر ہے اوباما کو یہ اعزاز ان کی کارکردگی عوامی اور قومی خدمات کے پیش نظر حاصل ہوا امریکی اوباما کی خاص طور پر اس لیے بھی حمایت کرتے ہیں کہ اوباما نے عراق کے دلدل سے امریکا کو نکالنے کی کامیاب کوشش کی۔
امریکا میں اب الیکشن ہونے والے ہیں لیکن اوباما کی پارٹی نے انھیں صدارتی الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی کہ اس دوران انھوں نے ملک و قوم کی نہ کوئی معجزاتی خدمت کی نہ ان کی اخلاقیات میں بے جواز اپنے نمایندوں کو عوام کے سروں پر مسلط کرنے کی روایت ہے اور نہ ہی اوباما کو تیسری بارکرسی صدارت سے چمٹے رہنے کی خواہش ہے۔ مغربی ملکوں میں جب کوئی صدر یا وزیر اعظم اپنی ٹرم پوری کر لیتا ہے تو وہ نہ صرف پس منظر میں چلا جاتا ہے بلکہ اپنے آپ کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ کر کے سماجی خدمات یا ذاتی مصروفیات میں اپنا باقی وقت گزار دیتا ہے۔
بھارت جیسے ہماری طرح پسماندہ ملک میں بھی سیاسی پارٹیاں بغیر کسی معقول جواز اور غیر معمولی خدمات کے دوسری بار اپنے کسی نمایندے کو وزیر اعظم نامزد نہیں کرتیں لیکن اس حوالے سے مسلم ملکوں پر نظر ڈالیں تو یہ عجیب منظر سامنے آتاہے کہ کئی مسلم ملکوں میں اس اکیسویں صدی میں بھی بادشاہتوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے یہی نہیں بلکہ ان ملکوں میں سرکاری طور پر ولی عہدوں کی ایک لمبی لائن دکھائی دیتی ہے اور حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں کے ان بادشاہتوں سے سفارتی تعلقات ہیں بلکہ جمہوریت کے علمبردار یہ ملک بادشاہوں کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔
پاکستان بھی مسلم تاریخ کا ہی ایک حصہ ہے جو صدیوں تک شاہی نظام کے پنجوں میں جکڑا رہا ہے 1947ء کے بعد جب ہندوستان تقسیم ہوا تو ہندوستان کا حکمران طبقہ بلا تاخیر سلاطینی باقیات جاگیردارانہ نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے لیکن پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں جاگیرداری اپنی تمام تر روایات کے ساتھ موجود ہے۔ سلاطینی نظام میں بادشاہ اپنی حکومت کو اللہ کی دین اور خاندانی وراثت سمجھتے ہیں اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش میں باپ اپنے بیٹوں کو بیٹے اپنے باپوں کو بھائی اپنے بھائیوں کو تہہ تیغ بھی کرتے رہتے ہیں۔
یہی روایات یہی نفسیات ہمارے پاکستانی حکمرانوں میں در آئی ہیں یہاں بھی زندگی بھر اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش ہماری اشرافیہ کی نفسیات کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ جاگیردارانہ اخلاقیات اور روایات و نفسیات کا عالم یہ ہے کہ ہمارے جمہوری نظام میں ولی عہدی کا سلسلہ منظم اور منصوبہ بند طریقے سے جاری ہے اور ہمارے جمہوری سیاستدان جن کے بال سیاسی پارٹیوں کی خدمات میں سفید ہو گئے جن کی کمریں جھک گئیں' ان سفید بالوں اور خمیدہ کمروں کے ساتھ سیاست میں نومولود ناتجربہ کار ولی عہدوں کے سامنے سجدہ ریز رہتے ہیں۔
اس المناک اور شرمناک کلچر کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ کے وہ لوگ جو شومئی قسمت انتخابی دھاندلیوں اور عوام کی تقسیم اور بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے مسند تک پہنچ جاتے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کو موروثی عطیہ سمجھتے ہوئے اس پر قابض ہو جاتے ہیں ہمارے آئین میں ایک ''منتخب'' رہنما کو دوبار وزارت عظمیٰ پر متمکن رہنے کا حق دیا گیا ہے لیکن دو بار کی جمہوری بادشاہی سے جن محترمین کا دل نہیں بھرتا وہ آئینی ترمیم کے ذریعے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے حق سے مستفید ہو رہے ہیں اور حیرت بلکہ مہا حیرت ہے کہ یہ جمہوری بادشاہ چوتھی بار سربراہ مملکت کا عہدہ حاصل کرنے کے جتن کر رہے ہیں۔
اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی جمہوریت شکن آئینی ترامیم میں اپوزیشن بھی حصہ لے رہی ہے۔ غالباً اس شاہانہ روایت کی پیروی اس لیے کی جا رہی ہے کہ خود اپوزیشن کا ایک بڑا حصہ اور بعض سیاسی پارٹیاں موروثی جمہوریت کی حامل ہیں اور اس امید پر ایسی غیر جمہوری روایتوں کی حمایت کرتی ہیں کہ شاید انھیں بھی دوسری تیسری اور ممکنہ طور پر چوتھی بار سربراہ مملکت بننے کا موقعہ حاصل ہو۔ ان روایات کی مضبوطی کا عالم یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن بھی ولی عہدی نظام کو نہ صرف قبول کر رہی ہے بلکہ ولی عہدی چوزوں کے ساتھ جمہوری تعلقات استوار کر رہی ہے۔
جمہوری نظام میں اگر کسی فرد کو دو بار سربراہ مملکت بننے کا موقعہ دیا جاتا ہے تو شرط یہ ہوتی ہے کہ اس نے ملک و قوم کے لیے کوئی غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔ اس تناظر میں اگر ہم اپنے ملک میں بار بار سربراہ مملکت بننے والوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ہمارے سر فخر سے بلند ہونے کے بجائے شرم سے جھک جاتے ہیں۔ وہ اقتداری حکمران جو ماضی میں ایک سے زیادہ بار سربراہ حکومت رہے ہیں کیا ان کے پاس ایک سے زیادہ بار سربراہ مملکت بننے کا کوئی جواز ہے؟
ہمارا ملک 69 سالوں سے جن مسائل کا شکار ہے اور ہمارے ملک کے 20 کروڑ عوام 69 سال سے جو عذاب ناک زندگی گزار رہے ہیں ان میں کوئی بہتری آئی ہے؟ اگر نہیں آئی ہے اور بدتری اور عذابوں میں اضافہ ہی ہوا ہے تو مزید برسر اقتدار رہنے کی خواہش کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ اس کے برخلاف ہمارے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی پیشانیوں پر کرپشن کے اتنے داغ ہیں کہ ان داغوں میں ان کا اصلی چہرہ بھی نہیں دکھائی دیتا 'یہ مکروہ سلسلہ اس لیے جاری ہے کہ اپوزیشن اور حکومت ایک ہی سکے کے دو رخ بنے ہوتے ہیں جب صورتحال یہ ہو تو سچ مچ مغل دور کو واپس آنے سے کون روک سکتا ہے؟
امریکا میں اب الیکشن ہونے والے ہیں لیکن اوباما کی پارٹی نے انھیں صدارتی الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی کہ اس دوران انھوں نے ملک و قوم کی نہ کوئی معجزاتی خدمت کی نہ ان کی اخلاقیات میں بے جواز اپنے نمایندوں کو عوام کے سروں پر مسلط کرنے کی روایت ہے اور نہ ہی اوباما کو تیسری بارکرسی صدارت سے چمٹے رہنے کی خواہش ہے۔ مغربی ملکوں میں جب کوئی صدر یا وزیر اعظم اپنی ٹرم پوری کر لیتا ہے تو وہ نہ صرف پس منظر میں چلا جاتا ہے بلکہ اپنے آپ کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ کر کے سماجی خدمات یا ذاتی مصروفیات میں اپنا باقی وقت گزار دیتا ہے۔
بھارت جیسے ہماری طرح پسماندہ ملک میں بھی سیاسی پارٹیاں بغیر کسی معقول جواز اور غیر معمولی خدمات کے دوسری بار اپنے کسی نمایندے کو وزیر اعظم نامزد نہیں کرتیں لیکن اس حوالے سے مسلم ملکوں پر نظر ڈالیں تو یہ عجیب منظر سامنے آتاہے کہ کئی مسلم ملکوں میں اس اکیسویں صدی میں بھی بادشاہتوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے یہی نہیں بلکہ ان ملکوں میں سرکاری طور پر ولی عہدوں کی ایک لمبی لائن دکھائی دیتی ہے اور حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں کے ان بادشاہتوں سے سفارتی تعلقات ہیں بلکہ جمہوریت کے علمبردار یہ ملک بادشاہوں کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔
پاکستان بھی مسلم تاریخ کا ہی ایک حصہ ہے جو صدیوں تک شاہی نظام کے پنجوں میں جکڑا رہا ہے 1947ء کے بعد جب ہندوستان تقسیم ہوا تو ہندوستان کا حکمران طبقہ بلا تاخیر سلاطینی باقیات جاگیردارانہ نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے لیکن پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں جاگیرداری اپنی تمام تر روایات کے ساتھ موجود ہے۔ سلاطینی نظام میں بادشاہ اپنی حکومت کو اللہ کی دین اور خاندانی وراثت سمجھتے ہیں اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش میں باپ اپنے بیٹوں کو بیٹے اپنے باپوں کو بھائی اپنے بھائیوں کو تہہ تیغ بھی کرتے رہتے ہیں۔
یہی روایات یہی نفسیات ہمارے پاکستانی حکمرانوں میں در آئی ہیں یہاں بھی زندگی بھر اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش ہماری اشرافیہ کی نفسیات کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ جاگیردارانہ اخلاقیات اور روایات و نفسیات کا عالم یہ ہے کہ ہمارے جمہوری نظام میں ولی عہدی کا سلسلہ منظم اور منصوبہ بند طریقے سے جاری ہے اور ہمارے جمہوری سیاستدان جن کے بال سیاسی پارٹیوں کی خدمات میں سفید ہو گئے جن کی کمریں جھک گئیں' ان سفید بالوں اور خمیدہ کمروں کے ساتھ سیاست میں نومولود ناتجربہ کار ولی عہدوں کے سامنے سجدہ ریز رہتے ہیں۔
اس المناک اور شرمناک کلچر کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ کے وہ لوگ جو شومئی قسمت انتخابی دھاندلیوں اور عوام کی تقسیم اور بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے مسند تک پہنچ جاتے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کو موروثی عطیہ سمجھتے ہوئے اس پر قابض ہو جاتے ہیں ہمارے آئین میں ایک ''منتخب'' رہنما کو دوبار وزارت عظمیٰ پر متمکن رہنے کا حق دیا گیا ہے لیکن دو بار کی جمہوری بادشاہی سے جن محترمین کا دل نہیں بھرتا وہ آئینی ترمیم کے ذریعے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے حق سے مستفید ہو رہے ہیں اور حیرت بلکہ مہا حیرت ہے کہ یہ جمہوری بادشاہ چوتھی بار سربراہ مملکت کا عہدہ حاصل کرنے کے جتن کر رہے ہیں۔
اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی جمہوریت شکن آئینی ترامیم میں اپوزیشن بھی حصہ لے رہی ہے۔ غالباً اس شاہانہ روایت کی پیروی اس لیے کی جا رہی ہے کہ خود اپوزیشن کا ایک بڑا حصہ اور بعض سیاسی پارٹیاں موروثی جمہوریت کی حامل ہیں اور اس امید پر ایسی غیر جمہوری روایتوں کی حمایت کرتی ہیں کہ شاید انھیں بھی دوسری تیسری اور ممکنہ طور پر چوتھی بار سربراہ مملکت بننے کا موقعہ حاصل ہو۔ ان روایات کی مضبوطی کا عالم یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن بھی ولی عہدی نظام کو نہ صرف قبول کر رہی ہے بلکہ ولی عہدی چوزوں کے ساتھ جمہوری تعلقات استوار کر رہی ہے۔
جمہوری نظام میں اگر کسی فرد کو دو بار سربراہ مملکت بننے کا موقعہ دیا جاتا ہے تو شرط یہ ہوتی ہے کہ اس نے ملک و قوم کے لیے کوئی غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔ اس تناظر میں اگر ہم اپنے ملک میں بار بار سربراہ مملکت بننے والوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ہمارے سر فخر سے بلند ہونے کے بجائے شرم سے جھک جاتے ہیں۔ وہ اقتداری حکمران جو ماضی میں ایک سے زیادہ بار سربراہ حکومت رہے ہیں کیا ان کے پاس ایک سے زیادہ بار سربراہ مملکت بننے کا کوئی جواز ہے؟
ہمارا ملک 69 سالوں سے جن مسائل کا شکار ہے اور ہمارے ملک کے 20 کروڑ عوام 69 سال سے جو عذاب ناک زندگی گزار رہے ہیں ان میں کوئی بہتری آئی ہے؟ اگر نہیں آئی ہے اور بدتری اور عذابوں میں اضافہ ہی ہوا ہے تو مزید برسر اقتدار رہنے کی خواہش کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ اس کے برخلاف ہمارے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی پیشانیوں پر کرپشن کے اتنے داغ ہیں کہ ان داغوں میں ان کا اصلی چہرہ بھی نہیں دکھائی دیتا 'یہ مکروہ سلسلہ اس لیے جاری ہے کہ اپوزیشن اور حکومت ایک ہی سکے کے دو رخ بنے ہوتے ہیں جب صورتحال یہ ہو تو سچ مچ مغل دور کو واپس آنے سے کون روک سکتا ہے؟