سندھ کا روایتی بجٹ

اس بجٹ میں تعلیم کے لیے 160-7 امن وامان کے لیے 82.3 اور صحت کے لیے 65.9 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں

tauceeph@gmail.com

روٹی، کپڑا، مکان کے اساسی نعرے پر قائم ہونے والی پیپلزپارٹی کی سندھ کی حکومت نے 8 کھرب سے زیادہ کا بجٹ پیش کر دیا، کیا یہ بجٹ صوبے میں غربت کی شرح کم کر پائے گا، وزیر خزانہ کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا، وزیر خزانہ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ تعلیم، امن وامان، صحت اور بلدیات بجٹ کی بنیادی ترجیحات ہے، حکومت نے بجٹ میں 50 ہزار اسامیوں کی خوشخبری بھی سنائی، یہ اسامیاں پولیس، تعلیم، صحت کے شعبوں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی بڑھ گئی ہیں، غیر سرکاری شعبوں کے مزدوروں کی تنخواہ کم از کم 14 ہزار روپے ہو گی۔

اس بجٹ میں تعلیم کے لیے 160-7 امن وامان کے لیے 82.3 اور صحت کے لیے 65.9 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی ایوارڈ کا اعلان بھی کیا ہے، جس کی بنا پر سندھ کو 110 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، سندھ میں مجموعی طور پر حکومتی نظام کمزور ہے اور سرکاری محکموں کی کارکردگی مایوس کن ہے، گزشتہ کئی سالوں سے غیر سرکاری تنظیموں نے تعلیم کے شعبے پرکڑی نظر رکھی ہوئی ہے، ان دو تنظیموں کی رپورٹوں میں سندھ کو اسکولوں کی تعلیم کے حوالے سے پختونخوا، آزاد کشمیر، پنجاب اورگلگت سے زیادہ پسماندہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سندھ میں اب بھی ایک کمرے کے اسکول موجود ہے جنکی بڑی تعداد بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔

یہی صورتحال کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ہے، خاص طور پر کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی یونیورسٹی شدید مالیاتی بحران کا شکار ہے حکومت نے سکھر میں خواتین یونیورسٹی اور کراچی میں انجینئرنگ کالج اور اولیول اسکول قائم کرنے کا اعلان کیا ہے مگر حیدرآباد شہر میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ سندھ اسمبلی چندماہ قبل حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی قرارداد منظورکر چکی ہے ، مگر وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے بجٹ کی تیاری کے وقت اپنے منتخب ادارے کی قرارداد کو نظر اندازکر دیا اس طرح این ای ڈی یونیورسٹی اورکراچی یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے کوئی رقم مختص نہیں ہوئی۔

اندرون سندھ کے اسکولوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے کسی خاص رقم کا ذکر نہیں ہے، تعلیمی شعبے میں بھرتیوں کو شفاف بنانے کے لیے وزیر خزانہ نے کسی لائحہ عمل کا ذکر نہیں کیا، پیپلز پارٹی کے سابق وزیرتعلیم پیرمظہرالحق کے دور میں محکمہ تعلیم میں چپڑاسی سے لے کر ڈائریکٹر تک کی اسامیاں فروخت ہوئی تھی اور کئی ہزار افراد کو اہلیت کا امتحان پاس کیے بغیر استاد کے عہدے پر فائزکر دیا گیا تھا۔ یہ صورتحال سندھ میں تعلیم کے لیے فنڈ فراہم کرنے والے ادارے عالمی بینک کے ہدایات کی خلاف ورزی تھی۔

نااہل افراد کی بھرتی سے تعلیمی معیار کی مزید پسماندگی کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ ان بھرتی ہونے والے افراد کا کہنا تھا کہ وہ لوگ کئی کئی لاکھ روپے کی رقم بطور رشوت ادا کر کے اس عہدے پر فائز ہوئے، جب حکومت سندھ کو صورتحال کا اندازہ ہوا تو ان افراد کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا مگر یہ افراد اپنی ملازمت کے کئی سال گزار چکے تھے یوں معاملات ہڑتال دھرنوں اور عدالتوں تک گئے ۔

90ء کی دہائی میں ڈاکٹر معین قریشی کی عبوری حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ گریڈ 14 اور اس کے اوپر کی اسامیوں پر تقرر سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہو گا، اس دور میں کمیشن کی خودمختاری کو ہر سطح پر تسلیم کیا گیا تھا مگر پیپلز پارٹی کے دور میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی خودمختاری مجروح ہو گئی، وفاقی شریعت عدالت کے سابق جج آغا رفیق کوکمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا مگر آغا رفیق نے کمیشن کی سربراہی سے اس لیے استعفیٰ دیا تھا کہ وہ حکومتی دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ کمیشن کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے اور اس کی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے اور تمام تقرریاں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں اور تعلیمی بورڈ کے سربراہوں کے تقررکو شفاف بنانے کے لیے پنجاب اور کے پی کے کے طریقہ کار کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اس طرح اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کی کارکردگی کی نگرانی کا شفاف نظام قائم ہونا چاہیے۔


تعلیمی ماہرین کہتے ہیں کہ صوبائی بجٹ کا 29 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ ہو رہا ہے، سندھ میں تعلیم کی پسماندگی کی بنا پر اس میں اضافہ اشد ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ سرکاری شعبے کی کارکردگی کو نجی شعبے سے بہتر بنانے کے لیے سوچ بچار وقت کی ضرورت ہے، اس بجٹ میں حکومت نے تعلیم کے بعد امن و امان کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے، سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔ حکومت کو امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے رینجرزکی مدد کی ضرورت پڑتی ہے جس پر خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ امن و امان کو بہتر بنانے میں پولیس ہی بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے، پولیس تھانوں میں جدید سہولتوں کی فراہمی، بہترین اسلحہ، ٹرانسپورٹ اور نئی اسامیوں کے لیے شفاف طریقہ کار کا وضح ہونا ضروری ہے، حکومت نے کراچی شہر میں نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کو مختلف علاقوں میں نصب کیا تھا۔ اس پروجیکٹ پرکروڑوں روپے خرچ ہوئے مگر ہر بڑی واردات کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ کیمرے ملزمان کے فوٹیج حاصل نہیں کر سکے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کیمروں کی خریداری میں بھی کمیشن نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ ماہ کراچی میں ٹریفک پولیس والوں کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا، ان میں سے کئی پولیس والوں کے پاس فائرنگ سے تحفظ کی جیکٹ نہیں تھی، بعض دفعہ ڈاکوؤں اوردہشت گردوں سے مقابلے کے بعد پتہ چلا کہ ملزمان زیادہ جدید اسلحہ سے لیس ہیں، تھانوں اور پولیس والوں کی نگرانی اور مجرموں کا پتہ چلانے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہی۔

کراچی میں ملازموں اور شکایت کنندگان کا ٹیسٹ کرنے والی لیب غیر معیاری ہے، اندرونی سندھ اس طرح کی سہولتیں موجود نہیں ہے، ان سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے بجٹ میں مختص رقم کا درست استعمال ہونا ضروری ہے۔ بجٹ کی تیسری ترجیح صحت کا شعبہ ہے، سندھ میں پیدا ہونے والوں بچوں کی شرح پنجاب سے زیادہ ہے، اندرونی سندھ قائم اسپتالوں کی صورتحال خراب ہے وہاں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف ملازمتوں پر موجود نہیں ہوتا۔ اسپتالوں میں بیڈز کی کمی، دوائیوں کی عدم فراہمی، طبی ٹیسٹ کا معقول انتظام نہ ہونے، آپریشن تھیٹر اور آئی سی یو وارڈز کی عدم فراہمی کی شکایات عام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غریب لوگ اپنے عزیزوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کراچی آتے ہیں۔

اس وجہ سے کراچی کے سرکاری اسپتالوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، کراچی کے تیسرے بڑے اسپتال عباسی شہید میں غریبوں کو دوائیاں اور کھانا فراہم نہیں کیا جاتا، ٹیسٹ کے لیے ان لوگوں کو نجی لیب میں بھیج دیا جاتا ہے، حکومت ہاؤس آفیسرز کی تنخواہیں ادا نہیں کر پا رہی، اس اسپتال کے ڈاکٹر پینے کا پانی خود خریدتے ہیں، دس سال سے تعمیر ہونے والا سول اسپتال کا ٹراما سینٹر اب تک کام نہیں کر پایا ہے، اس دفعہ بھی بجٹ میں سینٹر کے لیے ایک خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ اس رقم سے ڈاکٹروں اور دوسرے عملے کو سینٹرکے لیے بھرتی کیا جائے گا، کیا یہ کام اس مالیاتی سال کے دوران مکمل ہو جائے گا یہ سوال بھی ہر شخص کے سامنے ہے۔ سندھ حکومت صوبے کی سب سے بڑی ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرکا معاملہ ایک سال سے طے نہیں کر پائی، گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان جھگڑے سے یہ معاملہ طول پا رہا ہے، جس سے یونیورسٹی کا نظام براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔

بجٹ کی چوتھی ترجیح بلدیاتی ادارے ہیں، صوبے میں بلدیاتی نظام مفلوج ہونے سے چھوٹے اور بڑے شہر کوڑے دان میں تبدیل ہو گئے ہیں، سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں، سیوریج کا نظام معطل ہے۔ کراچی شہر پانی کے بحران کا شکار ہے، الیکشن کمیشن نے اس ماہ کے آخر میں بلدیاتی اداروں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخاب کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ 6 ماہ بعد یہ بلدیاتی ادارے فعال ہو جائیں گے، اگر بلدیاتی اداروں کو معقول بجٹ فراہم کیا گیا تو پھر ترقی کا عمل شروع ہو گا اور شہریوں کے مسائل حل ہوں گے، اگر بلدیاتی ادارے بھی اختیارات اور فنڈ کی کمی کا شکار رہے تو صوبے میں نئے تضادات ابھریں گے۔ حکومت نے مزدوروں کے لیے کم سے کم اجرت 14 ہزار مختص کی ہے مگر صوبے کی وزارت محنت فعال نہیں ہے، یوں اس اجرت پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

بجٹ میں ایک اہم خوشخبری ماس ٹرانزٹ منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے ہے، پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس منصوبے کا اعلان ہوا تھا بعد میں بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا مگر بیوروکریسی نے اس منصوبے کو فائلوں میں چھپا دیا۔ کراچی شہر پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بدترین صورتحال کا شکار ہے، شہر کو زیرزمین ریل ، ٹرام وے اور بڑی بسوں کی ضرورت ہے، سندھ حکومت 8سالوں میں صرف بڑی بسوں کے چند منصوبے کو شروع کر پائی ہے یہ صورتحال مایوس کن ہے۔

حکومت کو کراچی، حیدر آباد اور سکھر میں اس منصوبے پر عمل درآمد کرنا چاہیے، حکومت نے زرعی انکم ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بڑھانے کے لیے کچھ نہیں کیا، زرعی ٹیکس کی شرح بڑھنی چاہیے اور یہ رقم دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے پر خرچ ہونی چاہیے۔ اس بجٹ میں نئی صنعتوں کے قیام کا ذکر نہیں ملتا، حکومت کو چھوٹی صنعتوں کے لیے آسان قرضوں کی اسکیم کا جائزہ لینا چاہیے اور معمر شہریوں کے لیے مراعات پر غور کرنا چاہیے، غریبوں کے لیے روٹی، مکان اور سستے کپڑے کی فراہمی کے منصوبوں کو بھی بجٹ میں شامل ہونا چاہیے۔
Load Next Story