ڈی ایٹ کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

مشترکہ اعلامیےمیں جن ترجیحات کا تعین کیا گیا اگر ان پر عمل کیا جائے تو تعمیر وترقی کا نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔

اجلاس کے 35 نکاتی مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایٹ ممالک اسلامی بینکاری کا پورا فائدہ اْٹھائیں گے۔ امن، رواداری اور جمہوریت کے استحکام کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔ فوٹو: این این آئی

آٹھ ترقی پذیر ممالک کی تنظیم ڈی ایٹ کا سربراہ اجلاس جمعرات کی شام تنظیم کے منشور پردستخط، عالمی تصورکی دستاویز اور اعلامیے اسلام آباد 2012 کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔

اجلاس کے 35 نکاتی مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایٹ ممالک اسلامی بینکاری کا پورا فائدہ اْٹھائیں گے۔ امن، رواداری اور جمہوریت کے استحکام کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔ رکن ممالک کے درمیان تجارت میں اضافے کے لیے نجی شعبے کو بھی شامل کیا جائے گا، صنعتی شعبے میں تعاون کے لیے مشترکہ منصوبے تیار کیے جائیں گے، خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے زراعت کو فروغ دیا جائے گا، اس کے علاوہ گروپ 20، اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی)، عرب لیگ، اقتصادی تعاون تنظیم اور سارک کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات مزید بہتر بنائے جائیں گے۔

اعلامیے میں ڈی ایٹ کا گلوبل ویژن بھی شامل ہے جس کے مطابق اقوام متحدہ کی طرز پر مسائل کثیرالقومی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ نائیجریا کے صدر گڈ لک ایبے نے، جو جی ایٹ کے صدر بھی ہیں' تنظیم کی صدارت آیندہ 2 سال کے لیے صدر پاکستان آصف علی زرداری کو سونپ دی۔ اجلاس سے خطاب میں صدر زرداری نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک محض گنتی کے8 ممالک نہیں بلکہ 8 جمہوریتیں ہیں' دہشتگردی اور طالبان جیسے القاعدہ سے منسلک گروہ ہماری امنگوں اور شناخت کے لیے سنگین خطرہ ہیں، دہشتگرد پاکستان کے اندر اور باہر سے اپنا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم اسلام کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ڈی ایٹ ممالک میں پاکستان' ایران' ترکی' مصر' بنگلہ دیش' نائیجریا' انڈونیشیا اور ملائشیاء شامل ہیں۔

ایوان صدر میں ہونے والی اس کانفرنس میں ایرانی صدر احمدی نژاد' ترکی کے صدر طیب رجب اردگان' انڈونیشیا کے صدر سوشیلو بمبانگ' نائیجریا کے صدر گڈلک جوناتھن نے شرکت کی جب کہ مصر' بنگلہ دیش اور ملائشیا کے صدر اور وزیراعظم کی جگہ ان کے نمایندوں نے شرکت کی۔ یوں دیکھا جائے تو ڈی ایٹ کانفرنس کا اسلام آباد میں انعقاد پاکستان کے لیے بڑ ے اعزاز کی بات ہے۔اس سے نہ صرف ڈی ایٹ ممالک بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بڑھا ہے۔ ڈی ایٹ کی آیندہ سربراہ کانفرنس ترکی میں 2014ء میں ہو گی۔ترکی پاکستان میں ویسے بھی کئی منصوبوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات بھی انتہائی خوشگوار ہیں۔ترکی ان مسلم ممالک میں شامل ہے جو کسی حد تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہے۔


ڈی ایٹ کانفرنس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کے دوران ڈی ایٹ کے ممالک میں تجارتی اور ترقیاتی بینکوں کے قیام کی تجویز دی تا کہ آپس میں باہمی تجارت کو فروغ دیا جا سکے جب کہ ایرانی صدر احمدی نژاد نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تکمیل کی خوشخبری سنائی جس کا نہایت شدت اور بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ ایرانی صدر نے بتایا یہ منصوبہ 2014تک مکمل ہو جائے گا۔ اجلاس کے بعد ایرانی سفارتخانے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایران میں گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کا کام نہایت تیز رفتاری سے جاری ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران پاکستان کے سرحدی علاقوں کے لیے 1000 میگاواٹ بجلی بھی فراہم کرے گا۔اس صورتحال کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ کانفرنس خاصی حد تک کامیاب رہی ہے۔

ڈی ایٹ ممالک تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہیں۔ یہ ممالک وسائل سے مالا مال ہیں، مشترکہ اعلامیہ میں جن ترجیحات کا تعین کیا گیا ، اگر ان پر عمل کیا جائے تو تعمیر وترقی کا نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔ عالمی سیاسی معاملات میں بھی ڈی ایٹ کانفرنس اپنا کردار ادا کرسکتی ہے ۔ صدر آصف زرداری نے جمہوریت اور دہشت گردی کے حوالے سے جو کہا ہے کہ ڈی ایٹ ممالک نے اس کی تائید کی ہے اور اسی طرح ایرانی صدر احمدی نژاد نے کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران ایک نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل کا مشورہ بھی دیا جو برابری اور حق انصاف پر مبنی ہو اور جس میں سب کو مساوات کی سطح پر شرکت کی اجازت ہو۔ڈی ایٹ ممالک متحد ہوکر اس معاملے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔دنیا میں اس وقت نئے نئے اتحاد اور بلاک بن رہے ہیں۔

صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک نے جی ایٹ کے نام سے ایک تنظیم بنا کررکھی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈی ایٹ ممالک نے عالمی مارکیٹ میں 2.1ٹریلین ڈالر کے حلال فوڈ پوٹیشل میں اسلامی بلاک کا شیئر20سے 25فیصد حاصل کرنے کے روڈ میپ کی بھی منظوری دی جسے عملدرآمد کے لیے ڈی ایٹ چارٹر کا حصہ بنادیاگیا ہے۔ دنیا میں مسلمان آبادی 1.8ارب ہے۔ صرف چین کی حلال فوڈ کی تجارت 2.1ارب ڈالر سالانہ ہے اور چین کی حلال فوڈ کی تجارت کی گروتھ میں سالانہ10فیصد کے حساب سے اضافہ ہورہاہے۔

اسلامی ممالک کی تنظیم اوآئی سی کے درمیان حلال فوڈ کی تجارت15فیصد سے بھی کم ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔روڈ میپ میں ڈی ایٹ ممالک کے درمیان حلال فوڈ کی درآمدات کی مالیت7کھرب ڈالر بتائی گئی ہے جب کہ گلوبل مارکیٹ میں حلال فوڈ کا پوٹینشل 2.1ٹریلین ڈالر ہے ۔اس وقت ڈی ایٹ ممالک کا عالمی تجارت میں شیئر صرف5فیصد ہے۔ڈی ایٹ چارٹر میں یہ شیئربڑھا کر 25فیصد تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ کوششوں پر اتفاق کیاگیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ڈی ایٹ کانفرنس نے ترقی کے دروازے پر دستک دے دی ہے۔ اب یہ رکن ممالک پر ہے کہ وہ اس دروازے کو کتنا جلد کھولتے ہیں۔
Load Next Story