محرم کے جلوس میں دھماکے کے فرار ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے

2009 میں ہونیوالے دھماکے کے ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا،استغاثہ تیزعدالتی کارروائی میں ناکام رہا.

2009 میں ہونیوالے دھماکے کے ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا،استغاثہ تیزعدالتی کارروائی میں ناکام رہا، ملزمان کو ساتھی چھڑاکر لے گئے. فوٹو پی پی آئی

2009میں محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں بم دھماکے کے ملزمان کو فرار ہوئے تین سال ہوچکے ہیں۔

قانون نافذ کرنیوالے ادارے3سال گزرجانے کے باوجود ان ملزمان کو تاحال گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ،ملزمان کی 4ماہ کی حراست کے دوران استغاثہ تیزعدالتی کارروائی کرنے میں ناکام رہا ، اس دوران ملزمان کے ساتھی منظم منصوبہ بندی کرکے اپنے ساتھیوں کو چھڑا لے جانے میں کامیاب ہوگئے اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں عاشورہ بم بلاسٹ میں 45 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔


تفصیلات کے مطابق کالعدم تنظیم جنداللہ سے تعلق رکھنے والے ملزمان مرتضی عرف شکیل عباس عرف عمران،مراد شاہ ، اور شکیب فاروقی عرف عاد پر الزام ہے کہ وہ 28 دسمبر 2009 کوایم اے جناح روڈ پر عاشورہ کے جلوس میں بم دھماکا کرنے کے ذمے دار تھے،ان ملزمان نے 2009 میں عاشورہ کے جلوس میں ہی دھماکا نہیں کیا تھا بلکہ اس سے پہلے مسلسل تین دن شہر کے مختلف علاقوں میں محرم کے جلوسوں پر حملے کیے تھے،سی آئی ڈی نے ملزمان کو ہاکس بے روڈ پر چھاپہ مارکر24 جنوری 2010 کوگرفتارکیا۔

ملزمان بارودی مواد کو خصوصی طور پر سیمنٹ کے بلاک میں پیک کرتے تھے تاکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے آلات بم کا جائزہ نہ لے سکیں،اس طرح کا ایک بم پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر برآمد بھی کیا ، تاہم استغاثہ ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی کو تیزی سے مکمل نہیں کرسکااور سٹی کورٹ سے انکے 19جون 2010کو فرار ہونے تک ملزمان کوصرف ان کے خلاف گواہوں کی نقول فراہم کی گئی تھیں اورفرد جرم بھی عائد نہیں ہوسکی تھی۔

پولیس نے ان خطرناک ملزمان کے مقدمات جیل میں چلانے کے بجائے انہیں گاڑی چھیننے کے مقدمے میں سٹی کورٹ میں پیش کردیا، جہاں انکے ساتھیوں نے حملہ کرکے انھیں چھڑالیا،اس حملے میں ایک ملزم مراد علی شاہ ہلاک ہوگیا تھا،ملزمان کو پولیس ،استغاثہ اور ہوم ڈپارٹمنٹ نے انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیارکی، استغاثہ کی جانب سے سست رفتاری سے مقدمے کی سماعت پر ذمے داران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ، تین سال گزر جانے کے باوجود ان ملزمان کو دوبارہ کیوں گرفتار نہیں کیا جاسکا۔
Load Next Story