بان کی مون کا تشویشناک بیان
دنیا میں اشیائے خوردنی کی پیداوار میں کم از کم 12 فیصد قلت واقع ہو چکی ہے جس میں مزید اضافہ متوقع ہے
سیکریٹری جنرل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگلے 25 برسوں میں ہمیں اشیائے خوراک کی مزید قلت کا خدشہ لاحق ہو سکتا ہے فوٹو؛ فائل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے گزشتہ روز یہ تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ زمین کی زرخیزی میں مسلسل کمی' آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی کی غیر یقینی صورتحال' خشک سالی اور دیگر وجوہات کی بنا پر دنیا کے 80 کروڑ لوگ کم خوراکی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس صورت حال کی خرابی میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کا بھی دخل ہے۔ ''ارضیاتی وسائل کا تحفظ'' کے عنوان سے اپنے خطاب میں سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مستقبل کا تحفظ ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔
سیکریٹری جنرل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگلے 25 برسوں میں ہمیں اشیائے خوراک کی مزید قلت کا خدشہ لاحق ہو سکتا ہے جس کے تدارک کے لیے ابھی سے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر صورتحال ہمارے قابو سے باہر ہو جائے گی۔ موصولہ اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں اشیائے خوردنی کی پیداوار میں کم از کم 12 فیصد قلت واقع ہو چکی ہے جس میں مزید اضافہ متوقع ہے دوسری طرف اشیاء خور و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سیکریٹری جنرل کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زرعی رقبے میں پچاس فیصد کمی واقع ہو چکی ہے جب کہ ہر سال بارہ ملین ہیکٹر زرعی اراضی کو غیر پیداواری مقاصد کے لیے ضایع کیا جا رہا ہے، یعنی ان پر رہائشی اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں یا دیگر غیر زراعتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں دالیں اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ عوام کی طرف سے شکایت پر وفاقی وزیر خزانہ کو وہی مشورہ دینا پڑا جو کئی صدیاں قبل فرانس کی ملکہ نے بھوکے عوام کے لیے دیا تھا کہ اگر انھیں روٹی نہیں ملتی تو کیک کھائیں۔
ہمارے وزیر موصوف نے ''دال مہنگی ہے تو مرغی کھائیں'' کی تجویز پیش کی ہے۔ مرغیوں کے حوالے سے ٹھنڈی مرغی کی بھی ایک اصلاح رواج پا گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ دور دراز کے پولٹری فارم سے شہر تک لائی جانے والی سیکڑوں مرغیوں میں سے دس بیس فیصد جو راستے میں ہی جان سے گزر جاتی ہیں انھیں ''ٹھنڈی مرغی'' کہا جاتا ہے۔جن کا گوشت بڑے ہوٹلوں وغیرہ میں سپلائی کر دیا جاتا ہے اور اس کی قیمت بھی خاص کم ہوتی ہے یعنی دال سے بھی سستی۔
بہرحال اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جس خطرے کی وارننگ دی ہے، پاکستان جیسے زرعی معیشت کے دعوے دار ملک کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان میں بھی زرعی رقبے میں کمی واقع ہو رہی ہے، یہاں پانی کی بھی مسلسل کمی ہو رہی ہے، کہنے کو پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن سبزیوں وغیرہ کی درآمد پر مجبور ہے۔
سیکریٹری جنرل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگلے 25 برسوں میں ہمیں اشیائے خوراک کی مزید قلت کا خدشہ لاحق ہو سکتا ہے جس کے تدارک کے لیے ابھی سے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر صورتحال ہمارے قابو سے باہر ہو جائے گی۔ موصولہ اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں اشیائے خوردنی کی پیداوار میں کم از کم 12 فیصد قلت واقع ہو چکی ہے جس میں مزید اضافہ متوقع ہے دوسری طرف اشیاء خور و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سیکریٹری جنرل کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زرعی رقبے میں پچاس فیصد کمی واقع ہو چکی ہے جب کہ ہر سال بارہ ملین ہیکٹر زرعی اراضی کو غیر پیداواری مقاصد کے لیے ضایع کیا جا رہا ہے، یعنی ان پر رہائشی اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں یا دیگر غیر زراعتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں دالیں اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ عوام کی طرف سے شکایت پر وفاقی وزیر خزانہ کو وہی مشورہ دینا پڑا جو کئی صدیاں قبل فرانس کی ملکہ نے بھوکے عوام کے لیے دیا تھا کہ اگر انھیں روٹی نہیں ملتی تو کیک کھائیں۔
ہمارے وزیر موصوف نے ''دال مہنگی ہے تو مرغی کھائیں'' کی تجویز پیش کی ہے۔ مرغیوں کے حوالے سے ٹھنڈی مرغی کی بھی ایک اصلاح رواج پا گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ دور دراز کے پولٹری فارم سے شہر تک لائی جانے والی سیکڑوں مرغیوں میں سے دس بیس فیصد جو راستے میں ہی جان سے گزر جاتی ہیں انھیں ''ٹھنڈی مرغی'' کہا جاتا ہے۔جن کا گوشت بڑے ہوٹلوں وغیرہ میں سپلائی کر دیا جاتا ہے اور اس کی قیمت بھی خاص کم ہوتی ہے یعنی دال سے بھی سستی۔
بہرحال اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جس خطرے کی وارننگ دی ہے، پاکستان جیسے زرعی معیشت کے دعوے دار ملک کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان میں بھی زرعی رقبے میں کمی واقع ہو رہی ہے، یہاں پانی کی بھی مسلسل کمی ہو رہی ہے، کہنے کو پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن سبزیوں وغیرہ کی درآمد پر مجبور ہے۔