آیندہ چند برسوں میں صف
ہمارے صوبے کے ایک وزیر صاحب ہیں یہ تو پتہ نہیں کہ کس چیز کے وزیر ہیں کیونکہ اصل چیز وزیر ہونا ہوتا ہے
barq@email.com
ISLAMABAD:
ہمارے صوبے کے ایک وزیر صاحب ہیں یہ تو پتہ نہیں کہ کس چیز کے وزیر ہیں کیونکہ اصل چیز وزیر ہونا ہوتا ہے ''چیزوں'' کا بندوبست خود بخود ہو جاتا ہے، پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ ''سر'' ہو تو ٹوپیاں ہزار... ہمارے اس وزیر کے بارے میں جناب سراج الحق کا کہنا ہے کہ ان پر بدعنوانی یا بدانتظامی کا کوئی دھبہ نہیں ہے اب تو آپ جان گئے ہوں گے کہ کون ہے اس پردہ زنگاری میں ۔۔۔ اور اگر اب بھی کچھ ڈاؤٹ ہے تو ان کا یہ بیان اخباروں میں تازہ تازہ آیا ہے کہ چند سالوں میں پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو جائے گا اور یہ بہت بڑی خوش خبری ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ''کھڑا'' ہونا تو درکنار اگر ''شخص مذکورہ'' اس صف میں ''لیٹ'' بھی گیا تو ہم شکرانے کے نفل ادا کریں گے۔
دراصل وزیر مذکورہ کی دیانتداری پر ہمیں کوئی ڈاؤٹ نہیں ہے لیکن پرابلم یہ ہے کہ دیانتداری اور سمجھ داری کا آپس میں وہی معاملہ ہے جو عقل اور غصے کا بتایا جاتا ہے کہ ایک ہو تو دوسری قریب بھی نہیں پھٹکتی، بلکہ اگر آپ غور کریں کہ جتنی دیانتداری کے لیے ''سادگی'' ضروری ہوتی ہے اتنی ہی بددیانتی کے لیے سمجھ داری کی ضرورت ہوتی ہے، بے چارے سادہ اور بھولے بھالے لوگوں میں اتنی شدھ بدھ ہوتی ہی نہیں کہ بددیانتی کے ذہانت سے بھرپور کھیل میں شریک ہوں۔
یہ تو نہایت ہی لائق فائق ہوشیار سمجھ دار اور ذہین و فطین لوگوں کا کام ہے کہ وہ لہریں گننے میں بھی اپنی ذہانت کا مظاہرہ کر ہی دیتے ہیں بلکہ ساتھ ایک اور اضافی خوبی بھی ہو تو آدمی کندن بن جاتا ہے اور یہ اضافی خوبی دلیری ہے، ہمارے ایک مرحوم دوست جو پولیس میں سپاہی سے ایس پی کے درجے پر پہنچے تھے اکثر کہا کرتے تھے کہ میں زندگی بھر دیانت دار رہا ہوں تو اس لیے نہیں کہ میں نیک آدمی ہوں بلکہ میری نیکی اور دیانت کا سہرا میری نالائقی اور بزدلی کے سر جاتا ہے میں نے ہمیشہ اس خوف سے دیانت داری کا مظاہرہ کیا کہ رینکر آدمی ہوں نئے داؤ پیچ بھی نہیں آتے اور اگر یہ ملازمت چلی گئی تو پھر کیا کروں گا اس لیے صرف تنخواہ پر ہی صابر و شاکر رہا
خیر اصل بات یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ایک دیانتدار آدمی ذہین و فطین بھی ہو۔ ویسے ماننا پڑے گا کہ باوجود اپنی تصدیق شدہ دیانتداری اور رجسٹرڈ سادہ لوحی عرف بھولے پن کے باوجود انھوں نے کم از کم بیان دینے کا گر سیکھا ہوا ہے کیونکہ ''آیندہ چند برسوں'' میں تو قیامت سے ایک دن پہلے تک کا وقت شامل ہے ''آیندہ'' اور ''چند'' فارسی کے دو ایسے الفاظ ہیں کہ جن کا پیٹ پاکستان کے لیڈروں اور منتخب نمایندوں سے بھی بڑا ہوتا ہے، مثلاً ''چند'' کا استعمال دیکھیے
من ازیں بیش نہ دانم کہ کفن دزدے چند
بہر تقسیم قبور انجمنے ساختہ اند
(میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ چند کفن چوروںنے قبروںکی تقسیم کے لیے انجمن بنا لی ہے۔)
گویا چند میں پوری انجمن اور پارٹیاں بھی آ جاتی ہیں اور اگر ''برسوں'' کے ساتھ چند لگا دیا جائے تو پاکستان کو بھی بنے ہوئے چند سال ہی ہوئے اور آیندہ چند سال میں پاکستان غلے میں خود کفیل ہو جائے گا، لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی، بیروزگاری، کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا،نیا پاکستان تعمیر ہو جائے گا، آیندہ چند سالوں میں...
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا
جہاں تک ''آیندہ'' کا تعلق ہے تو اس کی ابتداء تو ازل سے ہوئی اور ابد تک چلتی رہے گی،
سوال آیندہ آیندہ، جواب آیندہ آیندہ
عذاب آیندہ آیندہ، ثواب آیندہ آیندہ
ہمارے گاؤں کا ایک بندہ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کی نماز جنازہ میں گیا شاید الیکشن لڑنے کا ارادہ ہو، نماز پڑھ چکنے کے بعد وہ حیرت سے بولا... یہ کیسی نماز تھی نہ رکوع نہ سجدہ، بس کھڑے ہی کھڑے ختم ہو گئی، ویسے لچھن اور آثار تو یوں بتاتے ہیں کہ جب ایک ملک اپنے ہی جیسے زرعی ملک وہ بھی دشمن سے گیارہ ارب روپے کی صرف سبزی برآمد کرتا ہے حالانکہ اسے خود سرتا پا ''سبز'' ہونے کا دعویٰ ہے جب ایک ملک کے عوام کی آیندہ تین نسلیں قرض دار ہوں جہاں بجلی نہ ہو گیس نہ ہو آٹا گھی دال نہ ہو، صرف وزیر ہی وزیر، لیڈر ہی لیڈر اور بڑی بڑی رہائشی اسکیموں پر بے تحاشا زمین برباد کی جا رہی ہو جہاں صدر وزیراعظم اور وزیروں کا ''جیب خرچ'' کروڑوں میں ہو جہاں ترقیاتی فنڈ لوٹ کے مال کی طرح تقسیم ہو رہے ہوں وہاں ترقی نام کی چڑیا کا وجود ہو بھی کیسے سکتا ہے۔
ہاں اگر ''ترقی یافتگی'' چوریوں، سینہ زوریوں اور بدانتظامی کا نام ہو تو ... لیکن اس کے لیے برسوں کے انتظار کی کیا ضرورت ہے وہ ایک شخص کو دوسرے نے نصیحت کرتے ہوئے کہا، دیکھو کچھ کام کرو کچھ کماؤ اور میری طرح تگ و دو کرو، جوابی طور پر دوسرے نے پوچھا چلو میں نے کام شروع کر دیا پھر؟ دوسرا بولا تمہارے پاس پیسہ آ جائے گا... دوسرے نے کہا پیسہ بھی آ گیا پھر ؟ پھر تم مالدار ہو جاؤ گے ... چلو مالدار بھی ہو گیا پھر؟ پھر تم آرام سے زندگی گزارو گے؟... اس پر اگلے نے کہا تو وہ تو میں اب بھی آرام سے گزار رہا ہوں یہاں وہاں سے مانگ تانگ کر اور قرض ادھار لے کر ... پاکستان بھی جب بنا کچھ کیے کرائے چل رہا ہے اور ترقی آخر ہوتی کیا ہے ذرا ایک رخ تو بتا دیجیے جس میں ہم نے ترقی نہ کی ہو اور وہ بھی بے پناہ... تو پھر کیا آیندہ اور چند اور برسوں ... وہ تو ہم اب بھی ترقی یافتہ کی صف میں ... البتہ کھڑے نہیں لیٹے ہوئے ہیں اس کا کوئی اپائے کیجیے۔
ہمارے صوبے کے ایک وزیر صاحب ہیں یہ تو پتہ نہیں کہ کس چیز کے وزیر ہیں کیونکہ اصل چیز وزیر ہونا ہوتا ہے ''چیزوں'' کا بندوبست خود بخود ہو جاتا ہے، پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ ''سر'' ہو تو ٹوپیاں ہزار... ہمارے اس وزیر کے بارے میں جناب سراج الحق کا کہنا ہے کہ ان پر بدعنوانی یا بدانتظامی کا کوئی دھبہ نہیں ہے اب تو آپ جان گئے ہوں گے کہ کون ہے اس پردہ زنگاری میں ۔۔۔ اور اگر اب بھی کچھ ڈاؤٹ ہے تو ان کا یہ بیان اخباروں میں تازہ تازہ آیا ہے کہ چند سالوں میں پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو جائے گا اور یہ بہت بڑی خوش خبری ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ''کھڑا'' ہونا تو درکنار اگر ''شخص مذکورہ'' اس صف میں ''لیٹ'' بھی گیا تو ہم شکرانے کے نفل ادا کریں گے۔
دراصل وزیر مذکورہ کی دیانتداری پر ہمیں کوئی ڈاؤٹ نہیں ہے لیکن پرابلم یہ ہے کہ دیانتداری اور سمجھ داری کا آپس میں وہی معاملہ ہے جو عقل اور غصے کا بتایا جاتا ہے کہ ایک ہو تو دوسری قریب بھی نہیں پھٹکتی، بلکہ اگر آپ غور کریں کہ جتنی دیانتداری کے لیے ''سادگی'' ضروری ہوتی ہے اتنی ہی بددیانتی کے لیے سمجھ داری کی ضرورت ہوتی ہے، بے چارے سادہ اور بھولے بھالے لوگوں میں اتنی شدھ بدھ ہوتی ہی نہیں کہ بددیانتی کے ذہانت سے بھرپور کھیل میں شریک ہوں۔
یہ تو نہایت ہی لائق فائق ہوشیار سمجھ دار اور ذہین و فطین لوگوں کا کام ہے کہ وہ لہریں گننے میں بھی اپنی ذہانت کا مظاہرہ کر ہی دیتے ہیں بلکہ ساتھ ایک اور اضافی خوبی بھی ہو تو آدمی کندن بن جاتا ہے اور یہ اضافی خوبی دلیری ہے، ہمارے ایک مرحوم دوست جو پولیس میں سپاہی سے ایس پی کے درجے پر پہنچے تھے اکثر کہا کرتے تھے کہ میں زندگی بھر دیانت دار رہا ہوں تو اس لیے نہیں کہ میں نیک آدمی ہوں بلکہ میری نیکی اور دیانت کا سہرا میری نالائقی اور بزدلی کے سر جاتا ہے میں نے ہمیشہ اس خوف سے دیانت داری کا مظاہرہ کیا کہ رینکر آدمی ہوں نئے داؤ پیچ بھی نہیں آتے اور اگر یہ ملازمت چلی گئی تو پھر کیا کروں گا اس لیے صرف تنخواہ پر ہی صابر و شاکر رہا
خیر اصل بات یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ایک دیانتدار آدمی ذہین و فطین بھی ہو۔ ویسے ماننا پڑے گا کہ باوجود اپنی تصدیق شدہ دیانتداری اور رجسٹرڈ سادہ لوحی عرف بھولے پن کے باوجود انھوں نے کم از کم بیان دینے کا گر سیکھا ہوا ہے کیونکہ ''آیندہ چند برسوں'' میں تو قیامت سے ایک دن پہلے تک کا وقت شامل ہے ''آیندہ'' اور ''چند'' فارسی کے دو ایسے الفاظ ہیں کہ جن کا پیٹ پاکستان کے لیڈروں اور منتخب نمایندوں سے بھی بڑا ہوتا ہے، مثلاً ''چند'' کا استعمال دیکھیے
من ازیں بیش نہ دانم کہ کفن دزدے چند
بہر تقسیم قبور انجمنے ساختہ اند
(میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ چند کفن چوروںنے قبروںکی تقسیم کے لیے انجمن بنا لی ہے۔)
گویا چند میں پوری انجمن اور پارٹیاں بھی آ جاتی ہیں اور اگر ''برسوں'' کے ساتھ چند لگا دیا جائے تو پاکستان کو بھی بنے ہوئے چند سال ہی ہوئے اور آیندہ چند سال میں پاکستان غلے میں خود کفیل ہو جائے گا، لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی، بیروزگاری، کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا،نیا پاکستان تعمیر ہو جائے گا، آیندہ چند سالوں میں...
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا
جہاں تک ''آیندہ'' کا تعلق ہے تو اس کی ابتداء تو ازل سے ہوئی اور ابد تک چلتی رہے گی،
سوال آیندہ آیندہ، جواب آیندہ آیندہ
عذاب آیندہ آیندہ، ثواب آیندہ آیندہ
ہمارے گاؤں کا ایک بندہ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کی نماز جنازہ میں گیا شاید الیکشن لڑنے کا ارادہ ہو، نماز پڑھ چکنے کے بعد وہ حیرت سے بولا... یہ کیسی نماز تھی نہ رکوع نہ سجدہ، بس کھڑے ہی کھڑے ختم ہو گئی، ویسے لچھن اور آثار تو یوں بتاتے ہیں کہ جب ایک ملک اپنے ہی جیسے زرعی ملک وہ بھی دشمن سے گیارہ ارب روپے کی صرف سبزی برآمد کرتا ہے حالانکہ اسے خود سرتا پا ''سبز'' ہونے کا دعویٰ ہے جب ایک ملک کے عوام کی آیندہ تین نسلیں قرض دار ہوں جہاں بجلی نہ ہو گیس نہ ہو آٹا گھی دال نہ ہو، صرف وزیر ہی وزیر، لیڈر ہی لیڈر اور بڑی بڑی رہائشی اسکیموں پر بے تحاشا زمین برباد کی جا رہی ہو جہاں صدر وزیراعظم اور وزیروں کا ''جیب خرچ'' کروڑوں میں ہو جہاں ترقیاتی فنڈ لوٹ کے مال کی طرح تقسیم ہو رہے ہوں وہاں ترقی نام کی چڑیا کا وجود ہو بھی کیسے سکتا ہے۔
ہاں اگر ''ترقی یافتگی'' چوریوں، سینہ زوریوں اور بدانتظامی کا نام ہو تو ... لیکن اس کے لیے برسوں کے انتظار کی کیا ضرورت ہے وہ ایک شخص کو دوسرے نے نصیحت کرتے ہوئے کہا، دیکھو کچھ کام کرو کچھ کماؤ اور میری طرح تگ و دو کرو، جوابی طور پر دوسرے نے پوچھا چلو میں نے کام شروع کر دیا پھر؟ دوسرا بولا تمہارے پاس پیسہ آ جائے گا... دوسرے نے کہا پیسہ بھی آ گیا پھر ؟ پھر تم مالدار ہو جاؤ گے ... چلو مالدار بھی ہو گیا پھر؟ پھر تم آرام سے زندگی گزارو گے؟... اس پر اگلے نے کہا تو وہ تو میں اب بھی آرام سے گزار رہا ہوں یہاں وہاں سے مانگ تانگ کر اور قرض ادھار لے کر ... پاکستان بھی جب بنا کچھ کیے کرائے چل رہا ہے اور ترقی آخر ہوتی کیا ہے ذرا ایک رخ تو بتا دیجیے جس میں ہم نے ترقی نہ کی ہو اور وہ بھی بے پناہ... تو پھر کیا آیندہ اور چند اور برسوں ... وہ تو ہم اب بھی ترقی یافتہ کی صف میں ... البتہ کھڑے نہیں لیٹے ہوئے ہیں اس کا کوئی اپائے کیجیے۔