بدلتے ہوئے حالات اور ہماری خارجہ پالیسی

ساری جنگوں کی بنیاد کشمیر کا تنازعہ ہے لیکن بھارت نے اس تنازعہ پر کبھی بامعنی بات چیت کی کوشش نہیں کی

اس خارجہ پالیسی کا بنیادی نقطہ کسی کے ساتھ دشمنی نہیں بلکہ اپنے مفادات کا تحفظ ہو۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور نے گزشتہ روز سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ہمارے جوہری پروگرام پر قدغن لگانے کی کوشش کی مگر ہم نے ملکی سلامتی پر ٹھوس موقف اپنایا، ڈرون حملوں کا معاملہ گزشتہ حکومتوں کی پالیسی کا نتیجہ ہے، اب ہماری پالیسی مختلف ہے۔ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف ہیں جس پر ہم نے امریکا سے احتجاج کیا۔ انھوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے بعد اب پاک افغان سرحد کو کھلا رکھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، بہتر سرحدی نظام پاکستان اور افغانستان دونوں کے حق میں ہے، افغان نائب وزیر خارجہ سے طورخم بارڈر کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تمام امور پر جامع مذاکرات ہوں لیکن بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے صرف دہشت گردی پر بات کرنا چاہتا تھا تاہم کشمیر کے بغیر بھارت سے بات چیت کی جلدی نہیں، بھارت بے شک بات نہ کرے، ہم عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھائیں گے۔ جب بھی پاک بھارت جامع مذاکرات بحال ہونگے کشمیر اور سیاچن سمیت تمام ایشو پر بات چیت کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کسی بھی ملک کے خلاف نہیں اور سازشوں کا پاک چین تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جب کہ پاکستان کے عالمی سطح پر تنہا ہونے کا خدشہ بے بنیاد ہے۔ روس کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ روس کے ساتھ افغان لڑائی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوئے تھے تاہم اب تعلقات میں بہتری آرہی ہے اور مختلف شعبوں میں پیشرفت ہورہی ہے۔

پاکستان کے امریکا ،بھارت،افغانستان اور روس کے ساتھ تعلقات کی کہانی نئی ہے، یہ پرانی کہانی تلخ اور شیریں واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔سرد جنگ کے دور میں پاکستان نے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کا ساتھ دیا لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پاک امریکا تعلقات کی ترجیحات میں تبدیلی آ گئی، امریکا کی پاکستان پر توجہ کم ہو گئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دور میں دونوں ملک ایک بار پھر قریب آئے لیکن دونوں کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافات تھے جو اب بھی موجود ہیں، بھارت اور افغانستان کے معاملات کی کہانی یوں ہے کہ ان ممالک کے ساتھ قیام پاکستان کے فوراً بعد سے ہی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو گیا تھا، افغانستان وہ ملک ہے جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی ،ڈیورنڈ لائن کے معاملہ پر اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان تلخی اور اختلافات موجود ہیں جب کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کئی جنگیں لڑ چکا ہے۔


ساری جنگوں کی بنیاد کشمیر کا تنازعہ ہے لیکن بھارت نے اس تنازعہ پر کبھی بامعنی بات چیت کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات آج تک چلے آ رہے ہیں۔روس جو سرد جنگ میں سوویت یونین تھا، اس کے خلاف مغربی ممالک کے اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے باعث سوویت یونین کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہو سکے اور اس سارے منظرنامے میں اب پاکستان نئی ایڈجسٹمنٹ کر رہا ہے، عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات غیرمعمولی دور میں داخل ہو گئے ہیں۔روس کے ساتھ بھی معاملات خاصی حد تک بہتری کی جانب ہیںلیکن خارجہ پالیسی کے خدوخال اب بھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ شاید پاکستانی پالیسی سازوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کس قسم کی ترجیحات کا تعین کرے ۔

امریکا پاکستان کے جوہری پروگرام کے خلاف ہے، ظاہر سی بات ہے کہ بھارت بھی یہی چاہتا ہے کہ پاکستان جوہری قوت سے محروم ہو جائے ۔افغانستان کے ساتھ جن امور پر اختلافات ہیں ،وہ بھی بدستور حل طلب ہیں، ایران کے ساتھ معاملات بھی مثالی قرار نہیں دیے جا سکتے ۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کو بڑی مربوط اور قابل عمل خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

بھارت اورافغانستان کے ساتھ معاملات کو طے کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جب تک ان دونوںممالک کے ساتھ متنازعہ امور طے نہیں ہوتے اس خطے کے حالات میں بہتری ممکن نہیں ہے۔ رہ گئے امریکا ،چین اور روس کے ساتھ تعلقات تو پاکستان کو ان تینوں قوتوں کے ساتھ بڑی ہوشیاری کے ساتھ متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہونا پڑے گا ۔ کسی ایک کے کیمپ میں جانے کا مطلب دوسرے کی مخالفت ہو گا ۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کو پہلے اپنے مفادات کا تعین کرنا چاہیے اور پھر ان مفادات کو سامنے رکھ کر خارجہ پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔اس خارجہ پالیسی کا بنیادی نقطہ کسی کے ساتھ دشمنی نہیں بلکہ اپنے مفادات کا تحفظ ہو۔
Load Next Story