طریقہ انتخاب تبدیل کرناپارلیمنٹ کاکام ہےلاہورہائیکورٹ

الیکشن قریب ہیں،جمہوری عمل متاثرنہیں کرناچاہتے،جسٹس عمر عطا بندیال

الیکشن قریب ہیں،جمہوری عمل متاثر نہیں کرنا چاہتے، جسٹس عمر عطا بندیال۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس عمرعطابندیال نے انتخابات کے طریقہ کار کو غیرآئینی قراردینے کے لیے دائردرخواست کی سماعت کے دوران کہاہے کہ انتخابات کاطریقہ کارتبدیل کرناپارلیمنٹ کاکام ہے۔


عدالتوںکا نہیں، الیکشن قریب ہیںعدالت اس میںمداخلت کرکے جمہوری عمل کو متاثرنہیںکرناچاہتی۔درخواست گزارکی جانب سے عدالت کوبتایاگیاکہ ملک میں رائج انتخابات کا طریقہ کارعوامی نمائندگی ایکٹ سے متصادم ہے کیونکہ ایکٹ کے مطابق 50 فیصدووٹ حاصل کرنے والاامیدوارہی رکن پارلیمنٹ بن سکتاہے جبکہ پارلیمنٹ میں100سے زائد ارکان ایسے ہیںجنھوں نے 50فیصدووٹ حاصل نہیںکیے لہٰذاعدالت اس طریقۂ کارکوغیرآئینی قراردے۔عدالت نے درخواست کوغیرموثرقراردیکرنمٹادیا۔

دریں اثنالاہورہائیکورٹ کے جسٹس ناصرسعید شیخ نے مسلم لیگ(ق)کے رکن قومی اسمبلی چوہدری لیاقت بھٹی کے عدالتی حکم کے باوجودپیش نہ ہونے کاسخت نوٹس لیتے ہوئے اسپیکرقومی اسمبلی کے ذریعے نوٹس کی تعمیل کروانے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔فاضل جج نے یہ حکم رکن اسمبلی کو نااہل قراردینے کے لیے دائردرخواست میںعدالتی حکم کے باوجودپیش نہ ہونے پر جاری کیا۔کیس کی مزیدسماعت 3 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔
Load Next Story