ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں پاکستانی فتح کو7سال مکمل
بورڈکو یاد نہ رہا،گرین شرٹس نے لارڈز میں یونس خان کی زیرقیادت ٹائٹل اپنے نام کیا
بورڈکو یاد نہ رہا،گرین شرٹس نے لارڈز میں یونس خان کی زیرقیادت ٹائٹل اپنے نام کیا. فوٹو: فائل
KARACHI:
پاکستان کی ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں فتح کو 7سال مکمل ہوگئے، گرین شرٹس نے 21 جون 2009ء کو لارڈز کے میدان میں سری لنکا کو فائنل میں زیر کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق 2009 میں مجموعی طور پر دوسرے اور انگلینڈ کی میزبانی میں پہلے آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں 12ٹیمیں شریک تھیں، میگاایونٹ کے سیمی فائنل میں پاکستان نے سخت مقابلے کے بعد جنوبی افریقہ کوشکست دی،17سالہ محمد عامر کے آخری اوور نے انھیں راتوں رات اسٹار بنا دیا، ٹورنامنٹ کا فائنل21جون کو گرین شرٹس اور سری لنکا کی ٹیموں کے درمیان لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلا گیا، عامر نے ٹورنامنٹ کے کامیاب ترین بیٹسمین تلکارتنے دلشان کو پہلے ہی اوور میں پویلین کی راہ دکھادی، قدرے سنبھلنے کے بعد آئی لینڈرز نے سنگاکارا کی نصف سنچری کی بدولت 6وکٹ پر 138رنزبنائے، جواب میں پاکستان نے شاہد آفریدی کی ناقابل شکست نصف سنچری کی بدولت ہدف صرف 2وکٹ پر19ویں اوور میں ہی پورا کرکے ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
ٹیم ایک تاریخی میدان پر یونس خان کی قیادت میں نئی تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوئی، یوں 50اوورز کے ورلڈ کپ 1992کے 17سال بعد گرین شرٹس کو ایک بار پھر کسی میگا ایونٹ میں عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل ہوا،اس عظیم کامیابی کے بعد یونس خان نے حیران کن طور پر ٹوئنٹی20 کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کردیا، ٹورنامنٹ میں کامران اکمل 188رنز کے ساتھ نمایاں ترین پاکستانی بیٹسمین رہے، بولرز میں عمر گل 13وکٹوں کے ساتھ سرفہرست، سعید اجمل 12دوسرے اور شاہد آفریدی 11شکار کرکے تیسرے نمبر پررہے۔ دوسری جانب پی سی بی نے اس کارنامے کی ساتویں سالگرہ کو اہمیت نہ دی، میڈیا کے یاد دلانے پر محض ایک ٹویٹ کر کے ''فریضہ'' انجام دیا گیا۔
پاکستان کی ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں فتح کو 7سال مکمل ہوگئے، گرین شرٹس نے 21 جون 2009ء کو لارڈز کے میدان میں سری لنکا کو فائنل میں زیر کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق 2009 میں مجموعی طور پر دوسرے اور انگلینڈ کی میزبانی میں پہلے آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں 12ٹیمیں شریک تھیں، میگاایونٹ کے سیمی فائنل میں پاکستان نے سخت مقابلے کے بعد جنوبی افریقہ کوشکست دی،17سالہ محمد عامر کے آخری اوور نے انھیں راتوں رات اسٹار بنا دیا، ٹورنامنٹ کا فائنل21جون کو گرین شرٹس اور سری لنکا کی ٹیموں کے درمیان لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلا گیا، عامر نے ٹورنامنٹ کے کامیاب ترین بیٹسمین تلکارتنے دلشان کو پہلے ہی اوور میں پویلین کی راہ دکھادی، قدرے سنبھلنے کے بعد آئی لینڈرز نے سنگاکارا کی نصف سنچری کی بدولت 6وکٹ پر 138رنزبنائے، جواب میں پاکستان نے شاہد آفریدی کی ناقابل شکست نصف سنچری کی بدولت ہدف صرف 2وکٹ پر19ویں اوور میں ہی پورا کرکے ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
ٹیم ایک تاریخی میدان پر یونس خان کی قیادت میں نئی تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوئی، یوں 50اوورز کے ورلڈ کپ 1992کے 17سال بعد گرین شرٹس کو ایک بار پھر کسی میگا ایونٹ میں عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل ہوا،اس عظیم کامیابی کے بعد یونس خان نے حیران کن طور پر ٹوئنٹی20 کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کردیا، ٹورنامنٹ میں کامران اکمل 188رنز کے ساتھ نمایاں ترین پاکستانی بیٹسمین رہے، بولرز میں عمر گل 13وکٹوں کے ساتھ سرفہرست، سعید اجمل 12دوسرے اور شاہد آفریدی 11شکار کرکے تیسرے نمبر پررہے۔ دوسری جانب پی سی بی نے اس کارنامے کی ساتویں سالگرہ کو اہمیت نہ دی، میڈیا کے یاد دلانے پر محض ایک ٹویٹ کر کے ''فریضہ'' انجام دیا گیا۔