’’جلدی سے شادی کرلیں ورنہ رحمن ملک پابندی لگا دینگے‘‘

اپنے فون کوکلاشنکوف سمجھیں،استعمال خطرناک ہے،پابندیاں آبادی میں اضافے کا سبب بنیں گی

اپنے فون کوکلاشنکوف سمجھیں،استعمال خطرناک ہے،پابندیاں آبادی میں اضافے کا سبب بنیں گی فوٹو: جمال خورشید

MIANWALI/MUZAFFARGARH:
موبائل فون سروسز کی معطلی اورموٹرسائیکل پر پابندی کے فیصلوں پرسوشل میڈیا پر شدید تنقیدکی جارہی ہے ۔

نوجوانوں اور سوشل میڈیااستعمال کرنیوالوں نے فیس بک اورٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پررحمن ملک اورحکومت پردلچسپ تبصرے کرتے ہوئے ان فیصلوں کومضحکہ خیز اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قراردیاہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ عام شہریوں کی مشکلات میں اضافے کاسبب بننے کے بجائے دہشت گردی کیخلاف سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔


ٹویٹر پر ایک تبصرے میں طالبان ترجمان کے بیان کو نقل کیا گیاہے کہ جس میں انھوں نے کہا ہے کہ موبائل فون سروسز کی معطلی ہمیں اپنی کارروائیوں سے روک نہیں سکتی،طالبان کے بیان میں ایک نوجوان نے اضافہ کیاہے کہ ہم سب یہ بات جانتے ہیں سوائے حکومت اوررحمٰن ملک کے۔ایک نوجوان نے تبصرہ کیا ہے کہ یوٹیوب پرپابندی،موبائل فون پر پابندی،موٹر سائیکل پر پابندی،ڈبل سواری پر پابندی،آبادی میں تیزی سے اضافے کاسبب بن رہاہے۔

ایک خاتون نے تقریباًتین دنوں کیلیے موبائل فون سروسزکی معطلی کو سوشل میڈیاکے ذریعے ملنے والی اطلاعات پربمباری قراردیاہے۔ایک صاحب کاکہناہے کہ آئندہ جب آپ اپنے موبائل فون کودیکھیں تواسے ایک کلاشنکوف سمجھیں جس کااستعمال خطرناک ہے اورحکومت اس پرپابندی لگاسکتی ہے،ایک نوجوان یہ نکتہ اٹھایاہے کہ موبائل فون سروسز نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک حادثات کی صورت میںکوئی شخص پولیس اورریسکیو سروسزسے کس طرح رابطہ کرے گا۔

ایک صاحب نے خواہش کا اظہار کیاہے کہ حکومت موبائل فون سروسز کی معطلی کے بجائے استغاثہ،پولیس اور انٹیلی جنس کے مابین روابط کو مضبوط بنائے، ایک اور شہری نے اپناتجربہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موبائل فون سروسز معطل ہونے کی وجہ سے انھیں ایک اہم ملاقات منسوخ کرنا پڑی کیونکہ ان سے ملنے کیلیے آنے والے شخص کامؤقف تھا کہ رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان کے گھرنہیں پہنچ پائے گا،متعدد افراد نے ان فیصلوں کو طنزیہ انداز میں ایک ''عظیم فیصلہ''قراردیا ہے ایک صاحب فیس بک پر یہ پیغام بھی چھوڑاہے کہ فوری طور پر غیرشادہ شدہ افرادشادی کرلیں کیونکہ رحمان ملک شادی کرنے پرپابندی لگاسکتے ہیں ، کسی نے لکھا ہے کہ رحمان ملک کہیں بیت الخلاجانے پرپابندی نہ لگادیں۔
Load Next Story