آپریشن ضرب عضب کے لیے عالمی حمایت

دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے لہٰذا آپریشن ضرب عضب سے آگے کی صورتحال پر عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے

پاکستان اب تک اْن پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے جو افغانستان میں روس کے حملے کے وقت اپنائی گئی تھیں۔ فوٹو؛فائل

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب سے فاٹا کا علاقہ سرحدوں تک کلیئر کرکے دہشت گردوں کے رابطے اور نیٹ ورک توڑ دیا اور آپریشن کو کامیابی سے مکمل کرنے کے قریب ہیں، دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے لہٰذا آپریشن ضرب عضب سے آگے کی صورتحال پر عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات کی جس میں علاقائی امن و سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ جرمن وزیر دفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور جرمنی نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعلان بھی کیا۔

جنرل راحیل شریف کے اس دورہ کا بنیادی مقصد بلاشبہ ضرب عضب آپریشن کے حاصل شدہ اہداف اور مقاصد سے عالمی رہنماؤں کو آگاہ کرنا ہے جو قومی امنگوں سے مطابقت رکھتے ہوئے وقت کی اولین ضرورت بھی ہے کیونکہ عالمی رائے عامہ کو دہشتگردی کے مضمرات ، فاٹا میں طالبان کی استبدادیت اور ان کے کمانڈروں سمیت مکمل نیٹ ورک کے انہدام سے امریکا سمیت یورپی ملکوں کی قیادت کو گوش گزار کرنے کا مناسب وقت یہی ہے، اگر دیکھا جائے تو افغانستان اور بھارت نے پاکستان کے داخلی معاملات میں ہمیشہ مداخلت کی ، حالیہ طورخم صورتحال اور چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر کے تناظر میں جس قسم کی مخالفانہ مہم جوئی شروع کی ہے۔

اس کا تدارک اسی طرح کے عالمی اور ابلاغی دوروں سے ممکن ہے جن کا آغاز جنرل راحیل نے کیا ہے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی ٹھوس عملی حمایت کرے اور ان طاقتوں کی بلا جواز مخاصمت ،جوڑ توڑ اور امن دشمنی کا نوٹس لے جو خطے میں بدامنی ، دہشتگردی کو بڑھاوا دینے میں معاونت کرتی ہیں، دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اگرچہ اس وقت چومکھی لڑتے ہوئے فائربریگیڈ کا کام کررہا ہے تاہم امن مشن اور اچھے ہمسائیگی کی خیر سگالی کا جواب اسے مثبت نہیں ملا ۔اس پس منظر میں جنرل راحیل شریف کے جرمنی اور جمہوریہ چیک کے دورے کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی امید ہے۔


ترجمان پاک فوج کے مطابق جنرل راحیل شریف نے برلن میں معروف تھنک ٹینک کوئبر فاونڈیشن کے سیشن میں بھی شرکت کی جہاں انھوں نے پاکستان کو درپیش چیلنجز کے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی بھی قوم سے کہیں زیادہ قربانیاں دی ہیں لیکن دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عالمی ردعمل اور پاکستان کے موقف کو زیادہ بہتر سمجھنے کی ضرورت ہے، یہ عالمی ادراک اس لیے ناگزیر ہے کہ بعض ملکوں کا وتیرہ پاکستان سے صرف ناروا مطالبات کرنا رہ گیا ہے، گزشتہ روز افغانستان نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے مداخلت جاری رکھی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے ، پاکستان کے ساتھ ڈیورنڈلائن پر میکنزم قائم کرنے اور اس معاملے پر شنگھائی سربراہی اجلاس کے موقع پر مزید بات چیت کرنے پر اتفاق ہوا ہے جب کہ پاکستان کی جانب سے فوجی تنصیبات کی تعمیر کو بھی روک دیا گیا ہے ۔

جب کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر کا غیر محفوظ علاقہ ہے اور افغان حکام سے بات چیت اسی سلسلہ میں ہورہی ہے، اور یہی نو میز لینڈ دہشتگردوں اور اسمگلروں کی جنت ہے، مگر اس کے باوجود افغان حکام جنگجویانہ لہجے میں بات کررہے ہیں جب کہ اس پردۂ زنگاری میں کون ہے پاکستان اس سے لاعلم نہیں چنانچہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایک انٹرویو میں زور دے کر کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

30سال سے مقیم افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی لیکن اب سماجی اقتصادی اور دیگر چیلنجز کی وجہ سے مزید مہمان نوازی نہیں کر سکتے، پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کے کیمپس اب دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکے ہیں، پاکستان اب تک اْن پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے جو افغانستان میں روس کے حملے کے وقت اپنائی گئی تھیں۔ تاہم مشیر خارجہ کی معروضات کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے امریکا نے ایک بار پھر پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف مربوط کوششوں کی ضرورت ہے ۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے نمایندہ خصوصی رچرڈ اولسن نے واشنگٹن میں تھنک ٹینک سے خطاب میں کہا کہ امریکا2018ء سے افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے لیے3 ارب ڈالر سے زائد سالانہ امداد فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ بھارت افغانستان کے لیے ایک مددگار شراکت دار رہا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان یہ ملین ڈالر سوال کرسکتا ہے کہ کیا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ صرف اسی کی جنگ تھی، کیا پاکستان پر نائن الیون کے سیاسی ، عسکری ، سماجی ، معاشی اور انسانی اثرات و مضمرات کم پڑے، کیا اس اکیلے جانباز پاکستان سے شراکت داری عالمی برادری پر قرض نہیں؟
Load Next Story