چیف جسٹس سندھ سجاد علی شاہ کے بیٹے کا اغوا
پولیس کو شبہ ہے کہ انھیں عسکریت پسندوں کی رہائی کے لیے ’’بارگیننگ چپ‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس جانب کسی کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ فوٹو؛ فائل
PESHAWAR:
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سید سجاد علی شاہ کے بیٹے بیرسٹر اویس علی شاہ کو نامعلوم افراد کی جانب سے پیر کو اغوا کرلیا گیا، جن کی بازیابی کے لیے تحقیقاتی اداروں کی کوششیں جاری ہیں اور 7 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنادی گئی ہے۔ شرپسند عناصر کی جانب سے ملک میں ایک عرصے سے ہائی پروفائل شخصیات کے اغوا کا سلسلہ جاری ہے، اس سے قبل سلمان تاثیر اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کو اغوا کیا گیا تھا، جنھیں اغوا کنندگان نے تین سال بعد رہا کیا۔ جس آسانی کے ساتھ یہ اغوا کنندگان فعال ہیں وہ نہایت تشویشناک امر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب ملک کی بااثر شخصیات محفوظ نہیں تو عوام کا پرسان حال کون ہوگا؟
مذکورہ واقعے میں جس طرح بیرسٹر اویس علی شاہ کو اغوا کیا گیا وہ بھی قابل غور ہے، اغوا کاروں نے باقاعدہ منصوبہ بندی اور ریکی کے ساتھ کلفٹن کے ایک سپر اسٹور کے احاطے سے اویس علی کو دن دہاڑے اغوا کیا، جب کہ پولیس کی جعلی نمبر پلیٹ اور ہتھیاروں کی موجودگی میں عینی شاہدین اسے پولیس کارروائی سمجھتے رہے۔ حیرت کی بات ہے کہ پولیس اور دیگر ایجنسیاں اس وقت تک لاعلم رہیں جب تک مغوی کے اہلخانہ نے گمشدگی سے مطلع نہیں کیا۔ پوش علاقے سے دن دہاڑے کسی کا اغوا ہوجانا بہت بڑا سیکیورٹی لیپس ہے۔
جس نے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ نیز مذکورہ واقعے کے بعد یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ شہر میں بعض افراد اپنی ذاتی گاڑیوں پر پولیس کی جعلی نمبر پلیٹس لگاکر گھوم رہے ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔ اغوا کے بعد حکومت، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں، ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے جیوفنسنگ بھی کرائی جا رہی ہے، شہر میں پولیس الرٹ ہے اور ناکہ لگا کر چیکنگ کی جارہی ہے، سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرکے بھی تحقیقات کی گئی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اغوا کار اویس سجاد کی رہائی کے بدلے کچھ عسکریت پسندوں کو چھڑانے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ انھیں عسکریت پسندوں کی رہائی کے لیے ''بارگیننگ چپ'' کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس جانب کسی کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ ان اغوا کے کیسوں کی باقاعدہ چھان بین کی جائے اور وہ حالات اور وجوہات جانے جائیں جن میں ہائی ویلیو ٹارگٹ کو اغوا کیا جاتا ہے۔ جس آسانی سے اغواکنندگان اپنی مجرمانہ کارروائیاں کرتے ہیں اس سے متعدد سوالات ابھرتے ہیں، انھیں کون وسائل مہیا کرتا ہے اور ان اغواکنندگان کی پشت پناہی کرنے والے کتنے بہادر ہیں؟ ان سوالات کے جواب تلاش کرنا ازحد ضروری ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سید سجاد علی شاہ کے بیٹے بیرسٹر اویس علی شاہ کو نامعلوم افراد کی جانب سے پیر کو اغوا کرلیا گیا، جن کی بازیابی کے لیے تحقیقاتی اداروں کی کوششیں جاری ہیں اور 7 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنادی گئی ہے۔ شرپسند عناصر کی جانب سے ملک میں ایک عرصے سے ہائی پروفائل شخصیات کے اغوا کا سلسلہ جاری ہے، اس سے قبل سلمان تاثیر اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کو اغوا کیا گیا تھا، جنھیں اغوا کنندگان نے تین سال بعد رہا کیا۔ جس آسانی کے ساتھ یہ اغوا کنندگان فعال ہیں وہ نہایت تشویشناک امر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب ملک کی بااثر شخصیات محفوظ نہیں تو عوام کا پرسان حال کون ہوگا؟
مذکورہ واقعے میں جس طرح بیرسٹر اویس علی شاہ کو اغوا کیا گیا وہ بھی قابل غور ہے، اغوا کاروں نے باقاعدہ منصوبہ بندی اور ریکی کے ساتھ کلفٹن کے ایک سپر اسٹور کے احاطے سے اویس علی کو دن دہاڑے اغوا کیا، جب کہ پولیس کی جعلی نمبر پلیٹ اور ہتھیاروں کی موجودگی میں عینی شاہدین اسے پولیس کارروائی سمجھتے رہے۔ حیرت کی بات ہے کہ پولیس اور دیگر ایجنسیاں اس وقت تک لاعلم رہیں جب تک مغوی کے اہلخانہ نے گمشدگی سے مطلع نہیں کیا۔ پوش علاقے سے دن دہاڑے کسی کا اغوا ہوجانا بہت بڑا سیکیورٹی لیپس ہے۔
جس نے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ نیز مذکورہ واقعے کے بعد یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ شہر میں بعض افراد اپنی ذاتی گاڑیوں پر پولیس کی جعلی نمبر پلیٹس لگاکر گھوم رہے ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔ اغوا کے بعد حکومت، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں، ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے جیوفنسنگ بھی کرائی جا رہی ہے، شہر میں پولیس الرٹ ہے اور ناکہ لگا کر چیکنگ کی جارہی ہے، سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرکے بھی تحقیقات کی گئی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اغوا کار اویس سجاد کی رہائی کے بدلے کچھ عسکریت پسندوں کو چھڑانے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ انھیں عسکریت پسندوں کی رہائی کے لیے ''بارگیننگ چپ'' کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس جانب کسی کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ ان اغوا کے کیسوں کی باقاعدہ چھان بین کی جائے اور وہ حالات اور وجوہات جانے جائیں جن میں ہائی ویلیو ٹارگٹ کو اغوا کیا جاتا ہے۔ جس آسانی سے اغواکنندگان اپنی مجرمانہ کارروائیاں کرتے ہیں اس سے متعدد سوالات ابھرتے ہیں، انھیں کون وسائل مہیا کرتا ہے اور ان اغواکنندگان کی پشت پناہی کرنے والے کتنے بہادر ہیں؟ ان سوالات کے جواب تلاش کرنا ازحد ضروری ہے۔