حیدرآباد دکن فنڈ کیس پاکستان کے حق میں فیصلہ
ہندوستان نےفوج کشی کرکےریاست حیدرآباد دکن پر قبضہ کیا حالانکہ یہ ریاست الحاق پاکستان کا واضح اعلان کرچکی تھی
پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے وضاحت کی کہ ابھی اس فنڈ کے اصل حقدار کا فیصلہ ہونا باقی ہے. فوٹو: فائل
تحریک پاکستان کے دوران ریاست حیدرآباد کے حکمراں نظام خاندان نے مسلمانوں کی بھرپورحمایت کی تھی اورقیام پاکستان کے بعد قائداعظم کی اپیل پر نوزائیدہ مملکت کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے کے لیے بھرپورمالی امداد فراہم کی۔ ہندوستان نے فوج کشی کر کے ریاست حیدرآباد دکن پر قبضہ کیا ، حالانکہ یہ ریاست الحاق پاکستان کا واضح اعلان کرچکی تھی ۔اسی تاریخی تناظر کے پس منظر میں ایک مقدمہ برطانیہ میں زیرسماعت تھا ۔
جس کا انتہائی اہم فیصلہ گزشتہ روز سامنے آیا، جب لندن ہائیکورٹ نے سابق ریاست حیدرآباد کے تین کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ کے حیدرآباد فنڈ پر پاکستان کے دعوے کے خلاف بھارت کی درخواست کو رد کردیا ۔ جج نے پچھہتر صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا ہے ۔ یقیناً اس فیصلے کے آنے کے بعد پاکستان کے اصولی موقف کو فتح حاصل ہوئی ہے ۔کیونکہ بھارت انگلش عدالت کو یہ باور کرانے میں ناکام رہا کہ پاکستان کا موقف کمزور ہے اور تین کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ پر پاکستان اپنا قانونی حق ثابت نہیں کر سکا جو 20 ستمبر 1948 سے ہائی کمشنر آف پاکستان رحمت اللہ کے نام سے بینک میں موجود ہے۔ انڈیا کی درخواست رد ہونے کی وجہ سے اسے اب اخراجات کی مد میں بھی بھاری رقم ادا کرنا پڑے گی۔یہ رقم نظام دکن نے 1948ء میں لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کو بھیجی تھی۔ اس وقت اس پیسے کی مالیت10لاکھ پاؤنڈ کے قریب تھی جو اب سود سمیت 35ملین پاؤنڈ ہوچکی ہے۔
پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے وضاحت کی کہ ابھی اس فنڈ کے اصل حقدار کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ بھارت نے پاکستان کے قیام کو کبھی دل سے گوارا نہیں کیا جب کہ نظام حیدرآباد دکن اور ان کے ایک سرفروش رہنما قاسم رضوی نے اسلامیان ہند کی تحریک قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کی حمایت کی اورخفیہ طریقے سے پاکستان کو ایسی مالی امداد بھیجی جو اس عدالتی فیصلہ کے بعد ایک تاریخ ساز معاونت اور عملی ہمدردی کا عظیم واقعہ ہے۔نظام دکن نے جن نامساعد حالات میں جب کہ بھارت ہر قیمت پر مخالفانہ اور معاندانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا، حکومت پاکستان کی مالی امداد کا بیڑا اٹھایا وہ بلاشبہ تاریخی حوالوں سے پاکستان سے ریاست حیدرآباد کے جذباتی ، تاریخی مذہبی اور روحانی رشتوں سے عبارت تھا۔
جس کا انتہائی اہم فیصلہ گزشتہ روز سامنے آیا، جب لندن ہائیکورٹ نے سابق ریاست حیدرآباد کے تین کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ کے حیدرآباد فنڈ پر پاکستان کے دعوے کے خلاف بھارت کی درخواست کو رد کردیا ۔ جج نے پچھہتر صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا ہے ۔ یقیناً اس فیصلے کے آنے کے بعد پاکستان کے اصولی موقف کو فتح حاصل ہوئی ہے ۔کیونکہ بھارت انگلش عدالت کو یہ باور کرانے میں ناکام رہا کہ پاکستان کا موقف کمزور ہے اور تین کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ پر پاکستان اپنا قانونی حق ثابت نہیں کر سکا جو 20 ستمبر 1948 سے ہائی کمشنر آف پاکستان رحمت اللہ کے نام سے بینک میں موجود ہے۔ انڈیا کی درخواست رد ہونے کی وجہ سے اسے اب اخراجات کی مد میں بھی بھاری رقم ادا کرنا پڑے گی۔یہ رقم نظام دکن نے 1948ء میں لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کو بھیجی تھی۔ اس وقت اس پیسے کی مالیت10لاکھ پاؤنڈ کے قریب تھی جو اب سود سمیت 35ملین پاؤنڈ ہوچکی ہے۔
پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے وضاحت کی کہ ابھی اس فنڈ کے اصل حقدار کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ بھارت نے پاکستان کے قیام کو کبھی دل سے گوارا نہیں کیا جب کہ نظام حیدرآباد دکن اور ان کے ایک سرفروش رہنما قاسم رضوی نے اسلامیان ہند کی تحریک قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کی حمایت کی اورخفیہ طریقے سے پاکستان کو ایسی مالی امداد بھیجی جو اس عدالتی فیصلہ کے بعد ایک تاریخ ساز معاونت اور عملی ہمدردی کا عظیم واقعہ ہے۔نظام دکن نے جن نامساعد حالات میں جب کہ بھارت ہر قیمت پر مخالفانہ اور معاندانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا، حکومت پاکستان کی مالی امداد کا بیڑا اٹھایا وہ بلاشبہ تاریخی حوالوں سے پاکستان سے ریاست حیدرآباد کے جذباتی ، تاریخی مذہبی اور روحانی رشتوں سے عبارت تھا۔