پانامہ لیکس کے بعد پاجامہ لیکس

آپ نے اکثر فلموں اور ڈراموں میں دیکھا ہو گا کہ کسی مقام پر ایک کارخانہ سا دکھایا جاتا ہے

barq@email.com

CHARSADDA:
عنوان دیکھ کر کچھ ایسا ویسا مت سوچیے ہم باوضو ہیں اور بات بھی نہایت باوضو کر رہے ہیں اصل میں اس پاجامے کا تعلق اسی پاجامے سے ہے جس کے بارے میں بزرگ فرما گئے ہیں کہ

بیکار مباش کچھ کیا کر
پاجامہ ادھیڑ کر سیا کر

بخدا ہمارا اشارہ جناب عمران خان کی طرف بالکل نہیں جو نہ ہی حضرت علامہ ڈاکٹر پروفیسر طاہر القادری کی طرف، جو پاجامے ... سوری اسلام آباد کی طرف چل پڑے ادھر سے اگست کا مہینہ بھی چل پڑا ہے اس لیے خیال اس طرف چلا جاتا ہے کہ شاید پھر پاجامہ ادھیڑنے اور سینے کا کوئی سلسلہ چلنے والا ہو، لیکن ہم اس بارے میں نہیں بلکہ ایک اور پاجامے کی بات کر رہے ہیں جسے آپ چاہیں تو سرکاری پاجامہ بھی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ ہر سرکاری محکمے ادارے اور دفتر میں ہوتا ہے اور اہل کار صبح آتے ہی اسے ادھیڑنا اور سینا شروع کر دیتے ہیں، اگر آپ کسی بھی سرکاری دفتر میں جائیں تو آپ کو دور سے ہی پتہ چل جائے گا کہ پاجامہ ادھیڑنے اور سینے کا کام زور شور سے چل رہا ہے۔

آپ نے اکثر فلموں اور ڈراموں میں دیکھا ہو گا کہ کسی مقام پر ایک کارخانہ سا دکھایا جاتا ہے جہاں مختلف عمروں کی عورتیں سلائی مشینوں پر بیٹھی کچھ سل سلا رہی ہوتی ہیں، اب یہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ ان فلموں کا اثر ہے یا سرکاری دفتروں کا کہ ہمیں ہر سرکاری دفتر میں کچھ ویسا یہ منظر دکھائی دیتا ہے۔ ایک مرتبہ تو ایسا بھی ہوا ہے کہ ہم بیٹھے رہے تصور جاناں کیے ہوئے اور دفتر کا سارا عملہ ایک پاجامے سے چمٹا ہوا تھا جو ایک سٹپلر کی شکل کا تھا اور کام نہیں کر رہا تھا پہلے جونیئر اسٹاف نے اس پاجامے یعنی سٹپلر پر دو گھنٹے کوشش کی لیکن جب نہیں سی پائے اور دوسرے لیول کے اسٹاف نے کیس اپنے ہاتھوں میں لیا وہ بھی ناکام ہوئے تو بڑے افسر کے پاس اس سٹپلر نما ''پاجامے'' کو ادھڑی ہوئی حالت میں لے جایا گیا۔

اس نے اپنے سارے تجربے کو اکٹھا کر کے ہر جانب سے کوشش کی کبھی گھوڑے کو گاڑی کے آگے جوتتے کبھی پیچھے لیکن پھر پاجامہ نہ سیا جا سکا تو نئے ''پاجامے'' کی تجویز زیر غور آئی پھر اس پر جو نوٹا نوٹی کا پاجامہ ادھیڑنے اور سینے کا سلسلہ شروع ہوا تو نہچ تک جا کر کہیں سلا جا سکا، نہچ کے بعد پرانے پاجامے یعنی سٹپلر کو ڈسپوز آف کرنے اور بازار سے نیا ''پاجامہ'' لانے کا فیصلہ ہوا، بازار سے خریدنے میں بھی وقت تو لگتا ہی ہے لیکن پھر چھٹی کے وقت تک نیا پاجامہ ادھیڑنے کے لیے دستیاب ہو گیا لیکن سارے منتظر سائلین کو دوسرے دن آنے اور اپنا پاجامہ سلوانے کے لیے کہا جو صبح سے یہ ''ادھیڑ پن'' دیکھ رہے تھے، چونکہ پاجامہ لیکس کسی طرح بھی پانامہ لیکس سے کم نہیں ہے اس لیے اس پر اچھی خاصی تحقیق کی ضرورت ہے لیکن چونکہ اس وقت پاجامہ ادھیڑنے اور سینے والے اکثر لوگ ''پانامہ لیکس'' میں بزی ہیں اس لیے

آسماں بارنتو است کشید
قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند


اب یہ کام ہمیں ہی کرنا پڑے گا لیکن یہ دیکھ کر اچھی خاصی طمانیت محسوس ہوئی کہ یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں ہے جتنا سمجھا جارہا تھا کیوں کہ ہر سرکاری مقام پر وزراء اور فنڈ نوازوں سے لے کر ٹھیکیداروں اور درجہ اعلیٰ سے لے کر درجہ ادنی تک ہر سرکاری مقام پر یہی کام تو چل رہا ہے۔ سرکاری مقامات پر پاجامہ ادھیڑ کر سینے کا کام تو عام نظروں سے پوشیدہ ہوتا ہے لیکن برسر زمین سڑکوں، عمارتوں، بازاروں اور سائٹوں اور فیلڈوں میں جو پاجامے ادھیڑے اور سیئے جاتے ہیں وہ تو ہر کسی کے سامنے ہوتا ہے، اس سلسلے میں کسی دور دراز مقام پر سڑکوں پلوں اور عمارتوں وغیرہ کے پاجامے دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں، ایک اسی شہر میں شہری ادارے اور محکمے جو پاجامے ادھیڑتے سیتے ہیں وہی ان کے لیے کافی ہے کہ ان مقامات پر کسی محنت اور عرق ریزی سے پاجاموں کی ادھیڑ پن چل رہی ہے، مثال کے طور پر صرف ایک پاجامہ لیا جائے جس کا نام ''کلین اینڈ گرین'' پشاور ہے تو ماننا پڑے گا کہ پی ڈی اے سے زیادہ اس کام میں اور کسی کو اتنی مہارت حاصل نہیں ہے۔

صرف جی ٹی روڈ پر اس ادارے نے جتنے پاجامے ادھیڑے اور سیئے بلکہ اب بھی ادھیڑے اور سیئے جا رہے ہیں اگر اسے ہی دیکھا جائے تولا جائے اور پھر بولا جائے تو پشاور شہر پورے کا پورا ایک بڑا سا پاجامہ دکھائی دے گا جو نہ ادھڑا ہوا ہے اور نہ سیا ہوا ہے لیکن کام اس پر نہایت تندی اور تیز رفتاری سے چل رہا ہے، وہ پلاسٹک کے گملوں اور پھولوں کا پاجامہ تو اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اس میں ادھیڑنے اور سینے کی گنجائش ہی نہیں رہ گئی، اس لیے کسی کوڑے دان کے ذریعے خیرات کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

ہم صرف جی ٹی روڈ پر ادھیڑنے اور سینے والے پاجاموں کی بات اس لیے کر رہے ہیں کہ شہر کے کسی اور مقام پر پہنچنا ہمارے لیے بلکہ کسی کے لیے بھی پہنچنا ممکن نہیں کیوں کہ راستے میں ایک اور ادارہ ایک اور اینگل سے یہ کام کر رہا ہے، اس پاجامے کو آپ کوئی بھی نام دے سکتے ہیں لیکن ہم تو اسے ٹریفک جام کا پاجامہ کہیں گے جو نہ جانے کب سے ادھیڑا اور سیا جا رہا ہے اور کب تک یہ عمل جاری رہے گا، اس وقت شہر کے اندر ٹریفک جام کا پاجامہ اتنا پھیلا ہوا ہے کہ کوئی اور چیز دکھائی ہی نہیں دیتی، لیکن اتنا ہم جانتے ہیں کہ اس پاجامے کا اصل مرکز کہاں ہے اور اتفاق دیکھیے کہ یہ مقام بجائے خود ایک مشہور و معروف پاجامہ ہے جو سالہا سال سے سیا اور ادھیڑا جارہا ہے۔ شہر میں جہاں کہیں بھی آپ کو ٹریفک جام نظر آئے اور نظر آنے یا نہ آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ پشاور شہر میں آج کل سوائے ٹریفک جام کے اور کچھ ہوتا ہی نہیں خود پشاور بھی نہ جانے کہاں فرار ہو کر ٹریفک جام کو اپنی جگہ سونپ چکا ہے کہ

سپردم بتو مایہ خویش را
تو دانی حساب کم و بیش را

ٹریفک جام بجائے خود اپنے اندر آدھا ''پاجامہ'' رکھتا ہے، ''جام'' یا ''جامہ'' میں فرق ہی کیا ہے اگر ٹریفک ''جام'' کو ''پاجامہ'' کہا جائے یا پاجامے کو ٹریفک جام کا نام دیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، اصل بات تو رہ گئی اور وہ یہ کہ آپ جہاں بھی ٹریفک جام دیکھیں گے اس کا اصل منبع پشاور کا مشہور مقام چوک یاد گار ہی ہو گا اور جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ یہ چوک یاد گار اپنی جگہ خود ایک مشہور پاجامہ ہے لیکن آج کل اس کے ادھیڑنے اور سینے کا کام نہ جانے کیوں بند ہے، شاید اس لیے سوئی دھاگے خرچ کرنے کے لیے دوسرے بہت سارے مقامات پیدا ہو چکے ہیں، چمکنی سے حیات آباد بلکہ جمرود تک جدھر بھی نظر جاتی ہے پاجامے ہی پاجامے دکھائی دیتے ہیں اور یہاں وہاں دھاگے سوئیوں کے ڈھیر ... اس لیے چوک یاد گار کا پاجامہ آج کل ادھیڑنے اور سینے سے بچا ہوا ہے ورنہ کسی زمانے میں یہی ایک پاجامہ تھا جسے ''سوئی دھاگے'' کو استعمال کرنے کے لیے ادھیڑا اور سیا جاتا تھا۔

ملکی یا پاکستان کی سطح پر ریکارڈ ہولڈر پاجامہ تو ہم نے سنا ہے کہ فیصل آباد کے ایک پارک میں لگا ہوا ''فوارہ''ہے جو چھ مرتبہ ادھیڑا اور سیا جا چکا ہے لیکن دوسرے نمبر پر یقیناً پشاور کا چوک یادگار ہی آئے گا کیوں کہ چار مرتبہ تو اسے ہم نے خود اپنی ان بے گناہ آنکھوں سے ادھیڑتے اور سلتے ہوئے دیکھا ہے۔ پہلے پہل یہاں انگریزوں کا بنایا ہوا چوک یادگار تھا جو چند گنبدوں اور احاطوں پر مشتمل تھا، اکثر تو یہاں چلے ہوا کرتے تھے لیکن رات کو بے گھر اور بے در لوگوں کی آرام گاہ بھی ہوتی تھی اور شام کو شہریوں کی تفریح گاہ بھی، پھر نہ جانے کس کو بزرگوں کا یہ ادھیڑنے اور سینے کا قول زرین یاد آگیا کہ اچھے خاصے پاجامے کو ادھیڑ دیا گیا اور پھر جو چیز نظر آئی وہ نہ چوک تھی نہ یادگار بلکہ ایک لمبا سا دیوار نما منارہ یا منارہ نما دیوار نظر آئی، افواہ تھی کہ اس کے اندر ایوب خان کا مجسمہ کھڑا کرنے کا منصوبہ ہے لیکن ایوب خان نہ رہا تو مجسمے کی نوبت کیسے آتی، چنانچہ ایک مرتبہ پھر پاجامہ کی جگہ اسکرٹ دکھائی دینے لگی۔

اس طرح ادھیڑنے سینے کے عمل سے گزرتے ہوئے موجودہ ''پاجامہ'' وجود میں آگیا، ویسے تو اس کے نیچے کار پارک بھی تھی جو اب شاید سیکیورٹی کی وجہ سے نہیں ہے اگر ہے تو صرف ایک ہی چیز ہے جسے ٹریفک جام کرنے کا سب سے بڑا مرکز کہا جا سکتا ہے کیوں کہ دو طرفہ سڑک کی جگہ ایک طرف سڑک اتنی تنگ ہے کہ ٹریفک جام کی لہریں یہاں سے شہر کے کونے کونے تک پہنچ جاتی ہیں، بہرحال پاجامہ لیکس ابھی جاری ہے کیوں کہ اس سلسلے میں ہر محکمے کو دعویٰ یکتائی ہے اور یہ سچ بھی لگتا ہے کہ کہیں بھی اس ایک کام کے علاوہ اور کوئی کام ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔
Load Next Story