پاکستانی آم کی برآمد کا 28 فیصد ہدف حاصل قیمت میں 150 ڈالر فی ٹن تک اضافہ

رمضان المبارک کی وجہ سے سیزن کے پہلے ماہ میں ایکسپورٹ 16فیصد بڑھ گئی، 47 ممالک کو28 ہزار ٹن سے زائد آم فروخت کیاگیا

برطانیہ2ہزار،دبئی کو 14600ٹن بھیجاگیا،برآمدی قیمت600ڈالر ٹن ہوگئی،آئندہ سال برآمد10کروڑڈالر ہوجائیگی،وحیداحمد فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
برآمد کنندگان نے پاکستان سے 1لاکھ ٹن آم کی برآمد کا 28 فیصد ہدف سیزن کے پہلے مہینے میں ہی پورا کرلیا، اس سال پاکستانی آم کی برآمدی قیمت بھی 150ڈالر فی ٹن تک بڑھ گئی۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق سیزن کے پہلے مہینے میں 28 ہزار ٹن سے زائد آم برآمد کیا گیا جو گزشتہ سیزن کے اسی عرصے سے 16 فیصد زیادہ ہے۔ برآمدی سیزن کا آغاز 20 مئی سے ہواتھا، گزشتہ سیزن کے پہلے ماہ میں 24 ہزار ٹن آم برآمد کیا گیا تھا۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد کے مطابق آم کی برآمدات میں اضافے کی بنیادی وجہ رمضان المبارک میں سیزن کا آغاز ہے جس سے آم کی مقامی کھپت میں اضافے کے ساتھ ایکسپورٹ میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے، رواں سیزن کے دوران پاکستان سے 47ملکوں کو آم برآمد کیا گیا ہے۔


جن میں ایران بھی شامل ہے، پاکستانی آم کی یورپی ملکوں کو ایکسپورٹ بھی بتدریج بڑھ رہی ہے، رواں سیزن کے دوران یورپی یونین ملکوں اور برطانیہ کو مجموعی طور پر 2700 ٹن سے زائد آم برآمد کیا جا چکا ہے جو گزشتہ سیزن کے اسی عرصے میں 1400 ٹن تک محدود تھا، اس طرح یورپی ملکوں کو بھی ایکسپورٹ میں 93 فیصد تک اضافہ ہوا، ایک ماہ کے دوران برطانیہ کو آم کی برآمد 1ہزار ٹن کے اضافے سے 2ہزارٹن تک پہنچ گئی۔ وحید احمد کے مطابق ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے معیار کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششیں بارآور ثابت ہورہی ہیں اور گزشتہ سیزن سے لکڑی کی پیٹیوں میں ایکسپورٹ پر پابندی کی وجہ سے پاکستانی آم زیادہ بہتر قیمت پر فروخت ہورہا ہے۔

ایسوسی ایشن معیار کی بہتری اور انڈسٹری میں گڈ ایگری کلچر پریکٹس کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے گی جس کی بدولت آئندہ سال آم کی برآمدات 25 ملین ڈالر کے اضافے سے 100ملین ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سیزن کے پہلے مہینے کے دوران دبئی کو 14600ٹن سے زائد آم برآمد کیا جا چکا ہے، اس سال پاکستانی آم اوسطاً 550 سے 600 ڈالرفی ٹن قیمت پرفروخت ہورہا ہے، گزشتہ سال قیمت 450ڈالر فی ٹن تھی،لکڑی کی پیٹیوں پر پابندی سے قبل پاکستانی آم 250 ڈالر فی ٹن قیمت پر فروخت ہوتا تھا، تاریخ میں پہلی مرتبہ دبئی کی مارکیٹ میں پاکستانی آم بھارتی آم کے برابر اور بعض اوقات زائد قیمت پر بھی فروخت ہوا، روایتی طور پر پاکستانی آم 10سے 15درہم سستا فروخت ہوتا تھا جو اب بھارتی آم کے برابر 34سے 36 درہم فی 8کلو گرام قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ برآمدات کی موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے قوی امکان ہے کہ 1لاکھ ٹن کا برآمدی ہدف حاصل کرلیا جائیگا، اسٹیٹ بینک کی ہدایت کے بعد بعض بینکوں نے ایران کیلیے ایکسپورٹ فارم جاری کرنا شروع کردیے ہیں، ایسوسی ایشن ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے رواں سیزن میں اٹلی، قطر اور بیلاروس میں پاکستانی آم کی پروموشن کرے گی جس سے نئی منڈیاں ملنے کی توقع ہے۔
Load Next Story