گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ مستحسن اقدام

ملکی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ حکومتی سطح پر سب سے زیادہ اسی شعبے کو نظر اندازکیاجاتا ہے ۔

پاکستان کا چھوٹا کاشت کارغربت کا شکار ہے۔ اس کے زرعی اخراجات خاصے بڑھ چکے ہیں. فوٹو: اے ایف پی

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں گندم کی قیمت میں 150 روپے فی من اضافہ کرتے ہوئے آیندہ سیزن کے لیے امدادی قیمت 1200 روپے فی من مقررکرنے کی منظوری دے دی ۔

وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمتیں زیادہ ہونے سے اسمگلنگ بڑھ رہی ہے جسے روکنے کے لیے امدادی قیمت میں اضافہ ضروری ہے۔ فیصلے کی حمایت اورمخالفت میں متضادآراء سامنے آئی ہیں ۔کسان بورڈ پاکستان نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے گندم کی امدادی قیمت 1200 روپے فی من مقرر کیے جانے کے فیصلے کو سراہا ہے جب کہ پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اضافہ برقرار رہا تو آٹے کے بیس کلو کے تھیلے کی قیمت 750 روپے سے تجاوز کرجائے گی۔پاکستان کی معیشت کے استحکام کا انحصار زراعت پر ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ حکومتی سطح پر سب سے زیادہ اسی شعبے کو نظر اندازکیا جاتا ہے اورسب سے زیادہ مظلوم طبقہ محنت کش کسانوں کا ہے جنھیں اپنی انتھک محنت کا پھل بھی نہیں ملتا ہے ۔ کسانوں کی آواز بھی کم ہی سنی جاتی ہے۔


اب یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان کا چھوٹا کاشت کار غربت کا شکار ہے۔ اس کے زرعی اخراجات خاصے بڑھ چکے ہیں۔ وہ اپنی پیداوار شہر لا کر بیچتا ہے تو اسے مڈل مین لوٹ لیتا ہے۔ گاؤں سے منڈی تک پہنچنے سے پہلے کئی سرکاری اہلکار بھی اس سے نذرانہ وصول کرتے ہیں۔ وہ جب گندم کی فصل کاٹتا ہے تو چھوٹے کاشتکاروں کی ایک مشکل باردانہ کا حصول ہوتاہے۔ بڑے زمینداروں توآسانی سے باردانہ حاصل کر لیتے ہیں اور حکومتی اداروں سے امدادی قیمت کے مطابق اپنی وصولی کر لیتے ہیں لیکن چھوٹے کاشت کار کے لیے صورت حال مشکل ہو جاتی ہے۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ گنے کرشنگ کے آغاز میں تاخیر سے پنجاب میں صرف 30 فیصد گندم کاشت ہوسکی ہے، جس مطلوبہ پیداوارکے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

گندم کی امدادی قیمت میں اضافے سے آٹے کے نرخ بڑھنے کی بات کی جائے تو اس میں حقیقت ہے۔ ظاہر ہے گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ ہو گا تو منڈی میں آٹے کی قیمت لازماً بڑھے گی۔ اس حوالے سے بعض حلقے جن خدشات کا اظہار کر رہے ہیں وہ درست ہیں۔ آٹے کی مہنگائی سے عام طور پر شہروں میں رہنے والے متاثر ہوتے ہیں۔ شہری حلقوں کے مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کسان کو بھی کسی طرح فائدہ پہنچانا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کسان کو پانی بھی خریدنا پڑتا ہے، اس کا ٹریکٹر ڈیزل سے چلتا ہے جس کی قیمتیں سب کو معلوم ہیں۔ دوسرے زرعی مداخل بھی انتہائی مہنگے ہیں۔ یوں اس کی فی ایکڑ پیداواری لاگت اندازے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ بڑا زمیندار تو اسے کسی طرح برداشت کر لیتا ہے لیکن چھوٹے کاشت کار کے لیے گزارا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی وجہ سے پاکستان کا کسان پسماندہ اور زراعت زوال کا شکار ہے۔ ملک میں آٹے کی قیمتوں کو استحکام دینے کا حل یہی ہے کہ حکومت کو چاہیے وہ آٹے پر سبسڈی دے تاکہ آٹے کی قیمتیں بڑھنے نہ پائیں لیکن اگر ہم کسانوں کے مسائل کا ادارک نہیں کریں گے تو زراعت کے پیشے سے وابستہ افراد سے یہ صریحاً زیادتی کے مترادف ہوگا ۔ پاکستان میں گندم کی پیداوار نہ صرف وافر مقدار میں ہوتی ہے بلکہ ضرورت سے زیادہ گندم برآمد بھی کی جاتی ہے لیکن افغانستان سمیت دیگر ممالک میں اس کی اسمگلنگ نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے ،گندم کی اسمگلنگ کی وجہ سے ہی ملک میں اکثروبیشتر آٹے کا بحران سر اٹھانے لگتا ہے اور عوام آٹے کے حصول کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اور زائد قیمت ادا کرنے پر بھی مجبور ہوجاتے ہیں ۔گندم کی پیداوار میں خودکفیل ملک میں اسی صورتحال کا وقفے وقفے سے نمودار ہونا قابل افسوس امر ہے حکومت کو اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ لہٰذا ہم ان سطور کے ذریعے وفاقی حکومت کے گندم کی قیمت میں اضافے کے کسان دوست فیصلے کو سراہتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ زراعت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے مزید موثر اقدام اٹھائے جائیں گے۔
Load Next Story