یہ دانۂ گندم
دیہات کے لوگ ٹھیک لوگوں کو ووٹ دیں کیونکہ وہ اپنے ہاں کے صحیح اور غلط کو خوب پہچانتے ہیں۔
Abdulqhasan@hotmail.com
قومی سیاست میں اس قدر ابہام اور کنفیوژن ہے کہ سیاسی موضوعات پر لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔
ہم صحافی تو کیا خود ہمارے سیاستدانوں کے پلے کچھ نہیں پڑتا کہ وہ آج کیا بیان جاری کریں۔ اسی لیے میں چند دنوں سے سیاست سے ممکن حد تک قلم بچا رہا ہوں کہ جب میں خود واضح نہیں تو قارئین کے سامنے حالات کی کیا وضاحت کروں گا۔ سوائے ان کو اور زیادہ کنفیوز کرنے کے۔ فی الحال سب سے پہلے ایک زرعی مسئلہ جو ان دنوں سامنے آیا ہے۔ میں ایک کاشتکار ہوں اگرچہ دست و بازو میں ہل چلانے کی طاقت نہیں لیکن اپنی زندگی ہل کی برکت کا ثمر سمجھتا ہوں۔ آپ مجھے ایک گھٹیا سی بات جو میرے لیے قطعاً خلاف معمول اور مزاج ہے کہنے کی ذرا سی اجازت دیں کہ میں ایک بڑا زمیندار ہونے کے باوجود ان دنوں بازار سے گندم خرید کر کھاتا ہوں اور اس کے ذائقے سے صبح و شام بدمزہ ہوتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیوب ویل کے لیے ڈیزل اتنا مہنگا ہوگیا ہے اور مہنگا ہوتا جارہا ہے کہ اس سے کوئی قیمتی فصل جیسے سبزیاں ہیں تو اگائی جاسکتی ہیں لیکن گندم نہیں، یہ ایک سستی فصل ہے۔ میں بارانی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں اور اب کچھ عرصہ سے بارشیں اتنی کم ہوگئی ہیں کہ مصنوعی پانی کی مدد کے بغیر فصل بار آور نہیں ہوتی اور یہ مصنوعی پانی انتہائی مہنگے ٹیوب ویل کا ہوتا ہے۔
حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت میں کچھ اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ گندم کی حقیقی قیمت جتنا ہرگز نہیں لیکن موسم ساتھ دے، بارشیں ہوں تو ٹیوب ویل کو کم استعمال کرکے گندم کی فصل کاروباری نہیں ذاتی اور محدود ضرورت کے لیے پیدا کی جاسکتی ہے۔ زمین پر کام کرنے والے مزدوروں کسانوں کو زندہ رکھنے کے لیے وہ جس فصل کو کاشت کرنے کی قیمت برداشت کرسکتے ہیں وہی کاشت کریں۔ میں نے زمین اگرچہ مزارعوں کے سپرد کر رکھی ہے اور خود صرف ٹیکس دینے کے لیے ایک مالک زمین ہوں پھر بھی میں ان سب لوگوں کا ذمے دار ہوں جو میری زمینوں پر کام کرتے ہیں اور روزی پاتے ہیں۔
عرض کررہا تھا کہ حکومت نے گندم کی قیمت قدرے بڑھادی ہے تو غیر کاشتکاروں نے اس کی گرانی کا شور مچا دیا ہے۔ کاشتکار جس نرخ پر گندم فراہم کرتا ہے، اس میں کاروباری طریقوں اور دستور کے مطابق نہ توزمین کی قیمت شامل ہوتی ہے اور نہ مزدور یعنی کاشتکار کی مزدوری اور نہ ہی دوسرے چھوٹے موٹے اخراجات یعنی گائوں کے ہنر مندوں جنھیں کمی کہا جاتا ہے کی مزدوری، وہ بھی ہمارے ساتھ ہی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کو سالانہ فصل برداشت کرنے کے موقع پر ضرورت کی گندم دی جاتی ہے، اسی طرح اور کئی اخراجات ہیں جو ایک کاشتکار کو برداشت کرنے ہوتے ہیں مگر اس کی آمدنی صرف فصل ہے جس میں سے کسی کی قیمت میں ذرا سا اضافہ ہو تو شہری لوگ ناراض ہوتے ہیں۔
ہم کاشتکار زندگی کی ہر ضرورت شہری مصنوعات سے پوری کرتے ہیں۔ کپڑا لتا، دوا دارو سفر و حضر بچوں کی تعلیم وغیرہ سب شہر والوں سے خریدتے ہیں، ہم نے تو کبھی شور نہیں کیا کہ شہری مصنوعات کی گرانی کس قدر بڑھ گئی ہے۔ ہم گرانی کا مقابلہ مجبوراً ضروریات محدود کرکے کرتے ہیں کیونکہ ہماری آمدنی میں اضافہ شہری بابوئوں کے اختیار میں ہے، وہ اپنی کسی عیاشی کے لیے تیل کی قیمت بڑھا دیں تو ہم کسانوں کی جان پر بن جاتی ہے جسے ہم قہر درویش برجان درویش کی مثال برداشت کرتے ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی اکثر آبادی زراعت پیشہ ہے۔ زراعت پر کسی قسم کا تشدد اور ناانصافی گویا پورے ملک سے زیادتی ہے۔ دیہات کے نوجوان گری پڑی نوکریوں پر مجبور ہیں اور عام نوجوان کیا میرے جیسے زمیندار بھی ان کا شوق اپنی جگہ ہے صحافت جیسے کسی پیشے پر مجبور ہیں کہ اس میں نقد تنخواہ ملتی ہے اور دیہی زندگی میں نقد روپیہ بے حد اہم ہوتا ہے۔ یہی نقد روپیہ ہے کہ دیہات کاکوئی کڑیل جوان صرف اٹھارہ روپے ماہوار کے لیے انگریز کی فوج میں بھرتی ہوتا رہا کیونکہ آپ بازارجائیں کچھ بھی خریدیں تو نقد روپے کی ضرورت ہے۔
ہماری زراعت کی آبادی اور خوشحالی ہی پاکستان کی خوش حالی ہے اور کاشتکار کے حقوق ملک کی خوشحالی کی ضمانت ہیں۔ صنعت کی طرح زراعت بھی حکومتی پالیسیوں کی محتاج ہے۔ ایوب خان کے دور میں زراعت پر توجہ دی گئی تو کاشتکاروں کی زندگی بدل گئی۔ دیہات میں پختہ مکان بن گئے، شادیاں ہوگئیں، بچے اچھے اسکولوں میں چلے گئے اور بیمار شہری اسپتالوں میں علاج کرانے لگے، یوں کہیں کہ ایک محدود سطح پر انقلاب آگیا لیکن ہمارے ہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ ہر حکومت کے ساتھ قومی سطح کی پالیسیاں بھی بدل جاتی ہیں جن کی وجہ سے نیچے تک حالات بدل جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے جو تباہی مچائی ہے اس کا ذکر نہ بھی کریں تو اس کے بڑوں نے ذاتی مفادات میں عوام کو برباد کردیا، یہ کیا بات ہوئی کہ سیلاب آئے تو بند توڑ کر اپنی زمینیں بچالیں لیکن دوسرے ہزاروں کو برباد کردیں۔
الیکشن شاید ہونے والے ہیں جن کے ووٹوں کی اکثریت دیہات کی ہے، دیہات کے لوگ ٹھیک لوگوں کو ووٹ دیں کیونکہ وہ اپنے ہاں کے صحیح اور غلط کو خوب پہچانتے ہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ صنعتی مصنوعات سستی کریں تو زراعت کی پیداوار بھی سستی کردیں لیکن یکطرفہ فیصلے ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ گندم کی قیمت میں حالیہ معمولی سا اضافہ اس قدر غلط کیوں ہے؟ کھیت بھی انصاف مانگتے ہیں اور کھیت والے بھی اس ملک کے شہری ہیں، ان کے پاس صرف ایک اکیلے ملک کی شہریت ہے اور کسی غیر ملکی بینک میں ان کا کوئی اکائونٹ نہیں ہے بلکہ ان کے تو ملکی بینکوں میں بھی اکائونٹ نہیں ہیں۔ وہ کسی بینک میں پنشن لینے یا ٹیکس ادا کرنے جاتے ہیں۔
دانۂ گندم پر تو زندگی ہے۔ ہم مشرقی لوگ گندم کھاتے ہیں اور یہی ہماری بنیادی خوراک ہے۔ ہیمں دانہ گندم سے محروم نہ کریں اس دانۂ گندم کی وجہ سے ہم بہت دکھ اٹھا چکے ہیں۔ ہمارے بابا دانہ گندم سے بچ جاتے تو ہم شاید کسی بہتر دنیا کے باسی ہوتے۔
ہم صحافی تو کیا خود ہمارے سیاستدانوں کے پلے کچھ نہیں پڑتا کہ وہ آج کیا بیان جاری کریں۔ اسی لیے میں چند دنوں سے سیاست سے ممکن حد تک قلم بچا رہا ہوں کہ جب میں خود واضح نہیں تو قارئین کے سامنے حالات کی کیا وضاحت کروں گا۔ سوائے ان کو اور زیادہ کنفیوز کرنے کے۔ فی الحال سب سے پہلے ایک زرعی مسئلہ جو ان دنوں سامنے آیا ہے۔ میں ایک کاشتکار ہوں اگرچہ دست و بازو میں ہل چلانے کی طاقت نہیں لیکن اپنی زندگی ہل کی برکت کا ثمر سمجھتا ہوں۔ آپ مجھے ایک گھٹیا سی بات جو میرے لیے قطعاً خلاف معمول اور مزاج ہے کہنے کی ذرا سی اجازت دیں کہ میں ایک بڑا زمیندار ہونے کے باوجود ان دنوں بازار سے گندم خرید کر کھاتا ہوں اور اس کے ذائقے سے صبح و شام بدمزہ ہوتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیوب ویل کے لیے ڈیزل اتنا مہنگا ہوگیا ہے اور مہنگا ہوتا جارہا ہے کہ اس سے کوئی قیمتی فصل جیسے سبزیاں ہیں تو اگائی جاسکتی ہیں لیکن گندم نہیں، یہ ایک سستی فصل ہے۔ میں بارانی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں اور اب کچھ عرصہ سے بارشیں اتنی کم ہوگئی ہیں کہ مصنوعی پانی کی مدد کے بغیر فصل بار آور نہیں ہوتی اور یہ مصنوعی پانی انتہائی مہنگے ٹیوب ویل کا ہوتا ہے۔
حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت میں کچھ اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ گندم کی حقیقی قیمت جتنا ہرگز نہیں لیکن موسم ساتھ دے، بارشیں ہوں تو ٹیوب ویل کو کم استعمال کرکے گندم کی فصل کاروباری نہیں ذاتی اور محدود ضرورت کے لیے پیدا کی جاسکتی ہے۔ زمین پر کام کرنے والے مزدوروں کسانوں کو زندہ رکھنے کے لیے وہ جس فصل کو کاشت کرنے کی قیمت برداشت کرسکتے ہیں وہی کاشت کریں۔ میں نے زمین اگرچہ مزارعوں کے سپرد کر رکھی ہے اور خود صرف ٹیکس دینے کے لیے ایک مالک زمین ہوں پھر بھی میں ان سب لوگوں کا ذمے دار ہوں جو میری زمینوں پر کام کرتے ہیں اور روزی پاتے ہیں۔
عرض کررہا تھا کہ حکومت نے گندم کی قیمت قدرے بڑھادی ہے تو غیر کاشتکاروں نے اس کی گرانی کا شور مچا دیا ہے۔ کاشتکار جس نرخ پر گندم فراہم کرتا ہے، اس میں کاروباری طریقوں اور دستور کے مطابق نہ توزمین کی قیمت شامل ہوتی ہے اور نہ مزدور یعنی کاشتکار کی مزدوری اور نہ ہی دوسرے چھوٹے موٹے اخراجات یعنی گائوں کے ہنر مندوں جنھیں کمی کہا جاتا ہے کی مزدوری، وہ بھی ہمارے ساتھ ہی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کو سالانہ فصل برداشت کرنے کے موقع پر ضرورت کی گندم دی جاتی ہے، اسی طرح اور کئی اخراجات ہیں جو ایک کاشتکار کو برداشت کرنے ہوتے ہیں مگر اس کی آمدنی صرف فصل ہے جس میں سے کسی کی قیمت میں ذرا سا اضافہ ہو تو شہری لوگ ناراض ہوتے ہیں۔
ہم کاشتکار زندگی کی ہر ضرورت شہری مصنوعات سے پوری کرتے ہیں۔ کپڑا لتا، دوا دارو سفر و حضر بچوں کی تعلیم وغیرہ سب شہر والوں سے خریدتے ہیں، ہم نے تو کبھی شور نہیں کیا کہ شہری مصنوعات کی گرانی کس قدر بڑھ گئی ہے۔ ہم گرانی کا مقابلہ مجبوراً ضروریات محدود کرکے کرتے ہیں کیونکہ ہماری آمدنی میں اضافہ شہری بابوئوں کے اختیار میں ہے، وہ اپنی کسی عیاشی کے لیے تیل کی قیمت بڑھا دیں تو ہم کسانوں کی جان پر بن جاتی ہے جسے ہم قہر درویش برجان درویش کی مثال برداشت کرتے ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی اکثر آبادی زراعت پیشہ ہے۔ زراعت پر کسی قسم کا تشدد اور ناانصافی گویا پورے ملک سے زیادتی ہے۔ دیہات کے نوجوان گری پڑی نوکریوں پر مجبور ہیں اور عام نوجوان کیا میرے جیسے زمیندار بھی ان کا شوق اپنی جگہ ہے صحافت جیسے کسی پیشے پر مجبور ہیں کہ اس میں نقد تنخواہ ملتی ہے اور دیہی زندگی میں نقد روپیہ بے حد اہم ہوتا ہے۔ یہی نقد روپیہ ہے کہ دیہات کاکوئی کڑیل جوان صرف اٹھارہ روپے ماہوار کے لیے انگریز کی فوج میں بھرتی ہوتا رہا کیونکہ آپ بازارجائیں کچھ بھی خریدیں تو نقد روپے کی ضرورت ہے۔
ہماری زراعت کی آبادی اور خوشحالی ہی پاکستان کی خوش حالی ہے اور کاشتکار کے حقوق ملک کی خوشحالی کی ضمانت ہیں۔ صنعت کی طرح زراعت بھی حکومتی پالیسیوں کی محتاج ہے۔ ایوب خان کے دور میں زراعت پر توجہ دی گئی تو کاشتکاروں کی زندگی بدل گئی۔ دیہات میں پختہ مکان بن گئے، شادیاں ہوگئیں، بچے اچھے اسکولوں میں چلے گئے اور بیمار شہری اسپتالوں میں علاج کرانے لگے، یوں کہیں کہ ایک محدود سطح پر انقلاب آگیا لیکن ہمارے ہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ ہر حکومت کے ساتھ قومی سطح کی پالیسیاں بھی بدل جاتی ہیں جن کی وجہ سے نیچے تک حالات بدل جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے جو تباہی مچائی ہے اس کا ذکر نہ بھی کریں تو اس کے بڑوں نے ذاتی مفادات میں عوام کو برباد کردیا، یہ کیا بات ہوئی کہ سیلاب آئے تو بند توڑ کر اپنی زمینیں بچالیں لیکن دوسرے ہزاروں کو برباد کردیں۔
الیکشن شاید ہونے والے ہیں جن کے ووٹوں کی اکثریت دیہات کی ہے، دیہات کے لوگ ٹھیک لوگوں کو ووٹ دیں کیونکہ وہ اپنے ہاں کے صحیح اور غلط کو خوب پہچانتے ہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ صنعتی مصنوعات سستی کریں تو زراعت کی پیداوار بھی سستی کردیں لیکن یکطرفہ فیصلے ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ گندم کی قیمت میں حالیہ معمولی سا اضافہ اس قدر غلط کیوں ہے؟ کھیت بھی انصاف مانگتے ہیں اور کھیت والے بھی اس ملک کے شہری ہیں، ان کے پاس صرف ایک اکیلے ملک کی شہریت ہے اور کسی غیر ملکی بینک میں ان کا کوئی اکائونٹ نہیں ہے بلکہ ان کے تو ملکی بینکوں میں بھی اکائونٹ نہیں ہیں۔ وہ کسی بینک میں پنشن لینے یا ٹیکس ادا کرنے جاتے ہیں۔
دانۂ گندم پر تو زندگی ہے۔ ہم مشرقی لوگ گندم کھاتے ہیں اور یہی ہماری بنیادی خوراک ہے۔ ہیمں دانہ گندم سے محروم نہ کریں اس دانۂ گندم کی وجہ سے ہم بہت دکھ اٹھا چکے ہیں۔ ہمارے بابا دانہ گندم سے بچ جاتے تو ہم شاید کسی بہتر دنیا کے باسی ہوتے۔