معروف قوال امجد صابری سپرد خاک

قوال امجد صابری کا بہیمانہ قتل امن دشمنوں کا مکروہ چہرہ ظاہر کرتا ہے۔

قوال امجد صابری کا بہیمانہ قتل امن دشمنوں کا مکروہ چہرہ ظاہر کرتا ہے۔ فوٹو؛ فائل

بدھ کو دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے معروف قوال امجد صابری کو محبتوں، دعاؤں، آہوں اور سسکیوں کے ساتھ کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں ان کے والد غلام فرید صابری کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ بلاشبہ جنازہ میں شریک ہزاروں لوگوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ امجد صابری کی نماز جنازہ درگاہ بابا فرید شکرگنج کے گدی نشین دیوان احمد مسعود نے پڑھائی۔جنازہ میں ملک بھر سے امجد صابری کے چاہنے والوں کا سمندر امڈ آیا تھا، خواتین کی بڑی تعداد بھی شدید گرمی اور روزے کے باوجود سڑکوں پر طویل وقت تک موجود رہی۔ تدفین کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔

قوال امجد صابری کا بہیمانہ قتل امن دشمنوں کا مکروہ چہرہ ظاہر کرتا ہے جو اپنے مذموم عزائم کی خاطر کسی بھی انسان کی جان لے سکتے ہیں۔ قتل کا مقدمہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کر لیا گیا ہے، تاہم 3 روز گزرنے کے باوجود تحقیقات میں کوئی اہم پیشرفت نہ ہو سکی، سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی کام نہ آ سکی، جب کہ ایک قاتل کا نامکمل خاکہ جاری کیا گیا ہے۔ امجد صابری کے قاتلوں کے پنجاب فرار ہونے کے شبہ میں سندھ پنجاب بارڈر سمیت ضلع بھر میں قومی شاہراہ پر پولیس کے ناکے، گاڑیوں اور مسافروں کی چیکنگ کی جا رہی ہے، جب کہ پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں معروف قوال کے بہیمانہ قتل کے خلاف مذمتی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہیں۔


شہر قائد میں امن و امان کی خراب صورتحال گورننس کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جس پر وفاقی و صوبائی حکومت، سیکیورٹی حکام اور شہر قائد کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو غور و فکر کرنا چاہیے، کراچی کی پیچیدہ اور سنگین صورتحال کو انتظامی، سیاسی اور امن و امان کے تناطر میں دیکھنا اور اس کا کوئی پائیدار حل نکالنا ہو گا، بات سیکیورٹی لیپس سے آگے جا چکی ہے، معاملہ ملک کے سب سے بڑے تجارتی اور وسیع المشرب شہر قائد کی سلامتی اور امن کی ہے جسے کثیر جہتی عالمی و داخلی خطرات درپیش ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی لڑائیوں میں مصروف ہیں، آخر اس درد کا درماں کون کرے گا۔

بہت ہو گیا، ارباب اختیار کو خواب غفلت سے جاگنا ہو گا، محض رینجرز پر تنقید سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ شہر میں امن کے قیام میں تمام اسٹیک ہولڈرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یکساں کردار ادا کرنا ہو گا۔ کراچی میں امن کا قیام سب سے اولین ترجیح ہونی چاہیے جس کے لیے سیکیورٹی میکنزم پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے ایسا موثر و شفاف بنایا جائے کہ کوئی قانون شکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے نہ بچ سکے۔
Load Next Story