امریکی ایوان نمائندگان میں اسلحہ کے خلاف دھرنا

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایوان نمائندگان میں اکثریت ری پبلکنز کی ہے جسے ’’گڈ اولڈ پارٹی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایوان نمائندگان میں اکثریت ری پبلکنز کی ہے جسے ’’گڈ اولڈ پارٹی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ فوٹو؛ فائل

KARACHI:
امریکا میں عام استعمال کے اسلحے (بندوقوں اور پستولوں وغیرہ) پر پابندی عاید کرنے کے مطالبات ایک طویل عرصے سے کیے جا رہے ہیں کیونکہ آسانی سے خریدے جانے والے اس اسلحے کے نتیجے میں ہونے والے خون آشام واقعات کے بعد اسلحہ پر کنٹرول کا مطالبہ گاہے بگاہے ابھرتا رہا لیکن اسلحہ سازی اور اسلحہ کی تجارت کرنے والی لابیاں اس قدر مضبوط ہیں کہ "BAN THE GUN" کا مطالبہ کبھی بھی پورا نہ ہو سکا۔ اب گزشتہ دنوں اورلینڈو کے ایک نائٹ کلب میں ہونے والے اندھا دھند فائرنگ کے واقعہ کے بعد جس میں متعدد لوگ مارے گئے، اسلحہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ ایک بار پھر پرجوش انداز میں نمایاں ہوا ہے۔ اس حوالے سے سب سے اہم پیشرفت یہ ہے کہ امریکا کے ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے اراکین نے ملکی تاریخ کا سب سے طویل دھرنا دیا اور 25 گھنٹے تک اس مطالبے کے حق میں ایوان میں بیٹھے رہے کہ بندوقوں پر پابندی لگا دی جائے۔


یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایوان نمائندگان میں اکثریت ری پبلکنز کی ہے جسے ''گڈ اولڈ پارٹی'' بھی کہا جاتا ہے جس کا مخفف جی او پی بنتا ہے اور اسلحہ سازی اور اسلحہ تجارت کی ساری لابیاں جی او پی کے ساتھ ہیں' یہی وجہ ہے کہ اسلحہ کے خلاف ایوان نمائندگان میں دیے جانے والے امریکی تاریخ کے طویل ترین دھرنے کا انجام بھی بظاہر ناکامی پر منتج ہوا۔ احتجاج کرنے والے ڈیمو کریٹس کا مطالبہ تھا کہ بندوقوں پستولوں کی عام فروخت پر پابندی عائد کرنے کا قانون منظور کیا جائے تاہم ری پبلکن پارٹی اس پر تیار نہیں۔ اس کے باوجود ڈیموکریٹس نے اعلان کیا کہ بالآخر جیت ان ہی کی ہو گی۔

ایوان نمائندگان میں اس احتجاجی دھرنے کی قیادت جان لیوس نے کی جو حقوق انسانی کی جدوجہد میں ایک بہت نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ دوسری طرف جی او پی کی طرف سے بھی اس ری پبلکن دھرنے کے جواب میں ایک احتجاجی تقریب منعقد کی گئی جس میں ایوان نمائندگان کے دھرنے کو ''پبلسٹی اسٹنٹ'' قرار دیا گیا۔ اسپیکر پال ریان بھی چونکہ جی او پی سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا انھوں نے بھی دھرنے کو ایک اوچھی نمائش قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ ان حربوں کے ذریعے ایوان کی کارروائی میں رخنہ اندازی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔اس سے ری پبلکنز کے مائنڈ سیٹ کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔
Load Next Story