افغانستان کی صورتحال اور پاکستان کے مفادات

سابق امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستان میں انڈین مداخلت ہو رہی ہے۔

سابق امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستان میں انڈین مداخلت ہو رہی ہے۔ فوٹو؛ فائل

ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے جمعرات کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران امریکا کے خصوصی ایلچی رچرڈ اولسن کے اس بیان کہ افغانستان میں انڈین اثرورسوخ سے متعلق پاکستان کے تحفظات ضرورت سے زائد ہیں' پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محسوس کرنے اور حقائق میں بڑا فرق ہے، افغانستان میں بھارتی اثر ورسوخ پر ہمارے تحفظات حقائق کے برعکس نہیں، کلبھوشن یادیو نے اقبالی بیان میں سب کچھ تسلیم کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی پھیلانے میں ملوث ہے، پاک بھارت مذاکرات کسی ایک مسئلے کے ساتھ مشروط نہیں ہو سکتے، بھارت کے ساتھ جب بھی مذاکرات ہوں گے کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت ہوگی، بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن مذاکرات شرائط میں جکڑے نہیں ہوتے۔

انھوں نے کہا کہ سابق امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستان میں انڈین مداخلت ہو رہی ہے۔ ترجمان نے کہا افغان بارڈر پر مینجمنٹ کے حوالے سے بنائے گئے میکنزم پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ پاک افغان سرحد پر کسی قسم کی شورش نہ ہو، افغان وفد کی پاکستان آمد کا مقصد دوریاں کم کرنا تھا، بارڈر مینجمنٹ پر ہمارا موقف واضح ہے، یہ دہشتگردوں کی آمد ورفت روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، طورخم پر گیٹ لگا کر دہشتگردوں کی آمد و رفت روکی جا سکتی ہے۔

پاکستان ایک عرصے سے افغانستان میں انتشار' بدامنی اور خانہ جنگی کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے' اس سلسلے میں چار فریقی ممالک پاکستان' افغانستان' چین اور امریکا خصوصی طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ افغان طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہوا لیکن بوجوہ یہ سلسلہ منقطع ہو گیا جس کے بعد معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔ پاکستان نے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے کیونکہ ایک مضبوط اور پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ لیکن کچھ اس قسم کے واقعات رونما ہوئے جس سے یہ خیال کیا جانے لگا کہ افغان امن عمل کو ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔


مبصرین یہ قیاس آرائیاں کرنے لگے کہ اس امن عمل کو ناکام بنانے کے پیچھے امریکی لابی کام کر رہی ہے۔ بظاہر معاملات کچھ اور نظر آتے ہیں لیکن اندرون خانہ امریکا کی پالیسی کچھ اور ہے جسے وہ فوری طور پر ظاہر نہیں کر رہا لیکن اب آہستہ آہستہ معاملات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان نے یہ بارہا واضح کیا کہ افغانستان کا معاملہ حل کرتے وقت اس کے مفادات کا بھرپور خیال رکھا جائے اور کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جو مستقبل میں پاکستان کے لیے پریشانی کا باعث ہو۔ پاکستان یہ خیال کرتا رہا کہ افغان مسئلے کے حل میں امریکا اس کے مفادات کو زک نہیں پہنچائے گا لیکن یہ سب خام خیالی ثابت ہو رہی ہے۔ اگر حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ ڈبل گیم کھیلتا رہا ہے ایک جانب وہ پاکستان کو یہ باورکراتا رہا کہ افغان مسئلے کے حل میں اہم فریق وہی ہے لہٰذا وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے لیکن اب تبدیلی ہوتی ہوئی صورت حال امریکی عزائم کو آشکار کر رہی ہے کہ امریکا اس خطے میں پاکستان کے کردار کو محدود کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

وہ اس خطے میں بھارت کو اہم کردار سونپنے کے لیے تمام اقدامات کر رہا ہے، حال ہی میں بھارت کے ساتھ ہونے والے معاہدے اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتے ہیں۔ دوسری جانب یہ صورت حال پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی رچرڈ اولسن کے اس بیان سے بھی واضح ہو جاتی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ بھارت اور ایران کو بھی افغان امن مذاکرات میں شامل کیا جائے گا' ان دونوں ممالک نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اپنے کردار کے حوالے سے رضا مندی ظاہر کی ہے۔

افغان امن مذاکرات میں جتنے زیادہ ممالک شامل ہوتے چلے جائیں گے صورت حال اتنی الجھتی چلی جائے گی اور مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ بھارت کو افغان امن مذاکرات میں شریک کرنے کا مقصد پاکستان اور چین کو پیچھے دھکیلنا بھی ہو سکتا ہے' اس طرح افغانستان میں بھارت کے اثرورسوخ میں مزید اضافہ ہو گا جس سے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچنے کے خدشے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کو امریکا کی اس پالیسی کا بروقت ادراک کر لینا چاہیے کہ آنے والے وقتوں میں اس کے لیے افغانستان کے حوالے سے مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں' شمال مغربی سرحد پر پیدا ہونے والی پاک افغان کشیدگی اس سلسلے کی پہلی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ پاک افغان کشیدگی کا ایک مقصد افغان امن مذاکرات میں پاکستان کا کردار انتہائی محدود یا برائے نام کرنا بھی ہو سکتا ہے۔اس بدلتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان ابھی سے لائحہ عمل طے کرے ۔
Load Next Story