فکری انتشار کے مضمرات
اگر آج کوئی شخص سوشلزم کی بات کرتا ہے تو لوگ اس پر ہنستے ہیں، اس کا مذاق اُڑاتے ہیں۔
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں جب روس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور سوشلسٹ بلاک اپنی نظریاتی پہچان سے محروم ہوگیا تو پوری دنیا ایک شدید فکری انتشار کا شکارہوگئی۔
1917 کے روسی انقلاب کی حمایت دنیا کے عوام اور اہلِ دانش نے اس لیے کی تھی کہ روسی انقلاب سرمایہ دارانہ نظام کا ایک بہتر متبادل بن کر دنیا کے سامنے آیا تھا۔ صدیوں سے سرمایہ دارانہ نظام کی اقتصادی ناانصافیوں کے مارے ہوئے عوام کے دلوں میں ایک امید پیدا ہوئی کہ شاید اب انھیں بھی زندگی کی وہ سہولتیں حاصل ہوجائیں گی جن سے وہ محروم کر دیے گئے تھے۔
جب سوشلسٹ ملکوں میں ریاستوں نے اپنے شہریوں کو بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے کی ذمے داری قبول کی تو عوام روٹی،کپڑا ،مکان، تعلیم اور علاج جیسی بنیادی ضرورتوں کی طرف سے مطمئن ہوگئے۔ جب سوشلسٹ ممالک میں جرائم کا نام و نشان مٹ گیا تو دنیا کے عوام کا سوشلزم پر ایمان اور مضبوط ہوا، جب دنیا بھر کے عوام نے سوشلسٹ ملکوں کے حکمرانوں کو عوام کی طرح سائیکلوں پر سفر کرتے دیکھا اور عوام ہی کی طرح لباس استعمال کرتے دیکھا تو سرمایہ دارانہ عدم مساوات کے مارے ہوئے عوام کے دلوں میں یہ خواہش جاگی کہ وہ بھی اس نظام کا حصہ بنیں۔
جب دنیا کے عوام نے 50 سال کی مختصر مدت میں روس کو دوسری سپر پاور بنتے دیکھا تو انھیں یقین ہوگیا کہ اس نظام میں ترقی کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جب دنیا کے عوام نے امریکا اور اس کے حلیف ملکوں کی جارحانہ پالیسیوں کے آگے سوشلسٹ بلاک کو دیوار کی طرح حائل ہوتے دیکھا تو انھیں احساس ہوا کہ وہ لاوارث نہیں، سوشلسٹ ملکوں کی ان ہی کامیابیوں نے دنیا کے ایک تہائی حصے میں سوشلزم کو متعارف اور مقبول کرایا۔ دنیا کی یہ ساری امیدیں، سارے خواب اس وقت نااُمیدیوں میں بدل کر بکھر گئے جب سوشلسٹ بلاک جغرافیائی اور نظریاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔
سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ میں درون خانہ خرابیوں کا کتنا حصہ تھا اور بیرونی سازشوں کا کتنا حصہ تھا اس بحث سے قطع نظر جب ہم آج کی دنیا کے فکری انتشار پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کی ذمے داری ان اہلِ فکر، اہلِ دانش اور انقلابی پارٹیوں کی دکھائی دیتی ہے جو اس نظریے کے حامی اور علم بردار تو تھے لیکن انھوں نے عالمی سطح پر اس ٹوٹ پھوٹ کے داخلی اور خارجی اسباب کو تلاش کرنے کی کوئی سنجیدہ اور ذمے دارانہ کوشش نہیں کی۔ نہ ان خرابیوں کو دور کرکے ایک اصلاح شدہ نظام دنیا کے سامنے پیش کیا۔
اس غیر ذمے داری کا نتیجہ یہ نکلا کہ روس چین سمیت سارا سوشلسٹ بلاک آنکھ بند کرکے منڈی کی معیشت کی راہ پر چل پڑا اور وہ ساری خرابیاں ان ملکوں ان معاشروں کا حصہ بن گئیں جو سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہیں۔ آج جب ہم چین اور روس کی اعلیٰ قیادت پر کرپشن کے الزامات لگتے دیکھ رہے ہیں اور ان ملکوں کی مڈل کلاس کو بہتر زندگی کی تلاش میں دوسرے ملکوں کی طرف بھاگتے دیکھ رہے ہیں تو ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ملکوں سے بھاگنے والوں کو سرمایہ دارانہ ملکوں میں وہ سہولتیں وہ بہتر زندگی جائز ذرایع سے حاصل ہوں گی جس کی تلاش میں وہ اپنے ملک چھوڑ رہے ہیں؟
اگر آج کوئی شخص سوشلزم کی بات کرتا ہے تو لوگ اس پر ہنستے ہیں، اس کا مذاق اُڑاتے ہیں کہ ماضی کے قصوں کو دہرانا حماقت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشلسٹ نظام اب ماضی کی گَرد میں گم ہوگیا ہے، لیکن سرمایہ دارانہ استحصال سے تنگ آئی ہوئی دنیا اور خود سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست اس نظام کے سورج کو گہناتے اور ڈوبتے دیکھ کر سخت پریشان ہیں اور آج ساری دنیا میں جو اقتصادی انارکی نظر آرہی ہے اس کی وجہ بھی یہی نظر آتی ہے کہ یہ نظام اپنی عمر پوری کرچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود مغربی ملکوں سے آوازیں بلند ہورہی ہیں کہ ایک بہتر متبادل کی ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ بہتر متبادل کیا ہوسکتا ہے؟ ویسے تو بعض نظریاتی حلقوں میں اپنے اپنے نظاموں کی نعرہ بازی جاری ہے، لیکن جب ان کی پٹاریوں پر نظر ڈالیں تو وہاں نعروں کے علاوہ کوئی ٹھوس متبادل کہیں نظر نہیں آتا۔ بلکہ اب تو حال یہ ہے کہ علم وعقل کی کوشش کر رہے ہیں جس کا عملاً کوئی وجود ہی نہیں۔ لاطینی امریکا میں سرمایہ دارانہ نظام کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے لیکن یہاں بھی کوئی واضح اور ٹھوس نظام نظر نہیں آتا جو اس خلاء کو پورا کرسکے،جو سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ سے پیدا ہوگیا ہے۔
سوشلزم نہ کوئی آسمانی نظام تھا نہ اس کو پیش کرنے والے کوئی پیغمبر تھے۔ یہ بھی ہماری آپ کی طرح کے انسان تھے، لیکن انھوں نے برسوں کی تحقیق اور سرمایہ دارانہ نظام میں موجود خرابیوں کے مطالعے کے بعد ایک متبادل نظام اس خلوص نیت کے ساتھ پیش کیا کہ یہ استحصالی نظام کا ایک بہتر متبادل بن سکتا ہے۔ اس نظام میں کمزوریاں بھی ہوسکتی ہیں، خرابیاں بھی، لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے ان کی خرابیوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے دنیا کے سادہ لوح انسانوں کے سامنے اسے ایک لادینی نظام کی حیثیت سے پیش کرکے مذہب پرست عوام کو اس سے بدظن کرایا اور لکیر کے فقیر مذہبی حلقے اس الزام کی صدائے بازگشت بن گئے۔کیا سرمایہ دارانہ نظام دینی ہے؟ کوئی اقتصادی نظام نہ ہندو ہوتا ہے، نہ مسلمان، نہ سکھ، نہ عیسائی نہ بدھ۔ وہ اپنی سرشت میں ہر عقیدے سے آزاد ہوتا ہے۔ اس لیے اسے مشرف بہ مذہب کرنا حماقت کے علاوہ کچھ نہیں۔
آج دنیا کو جن بُرائیوں، جن جرائم، جن معاشی ناانصافیوں، جن نفرتوںاور جن جنگوں کا سامنا ہے وہ اسی نظام زر کی پیداوار ہیں، اس نظام زر کو ختم کیے بغیر یہ ساری بُرائیاں ختم نہیں ہوسکتیں۔ کسی بُرے نظام کو ختم کرنے کے لیے ایک اچھے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب دنیا کے سامنے یہی سوال کھڑا ہے کہ اچھا نظام کیا ہو؟ سرمایہ دارانہ نظام کی ساری خرابیوں کی جڑ نجی ملکیت اور منافع کا لامحدود حق ہے، جسکی حفاظت قانون اور آئین کے ذریعے کی جاتی ہے۔ سوشلسٹ نظام کی ساری اچھائیوں کا ماخذ لامحدود نجی ملکیت اور لامحدود منافعے پر پابندی تھا۔ ان دو بنیادی اصولوں کے بغیر کوئی اقتصادی نظام سرمایہ دارانہ نظام کا بہتر متبادل نہیں بن سکتا۔
چین دنیا کا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک ہے، چین کی کمیونسٹ پارٹی دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی ہے، اس کی ایک تاریخی کانگریس ہوچکی ہے۔ اگر اس پارٹی میں جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھنے والے دانشور اور اقتصادی ماہرین موجود ہیں تو ان کی ذمے داری ہے کہ دنیا کے 7 ارب غریب انسانوں کو غربت وافلاس سے نجات دلانے کے لیے ایک بہتر متبادل تلاش کریں، اگر یہ پارٹی سرمایہ دارانہ نظام ہی کو آج کی ضرورت سمجھتی ہے تو دنیا کے عوام اس کی بھی اسی طرح مخالفت کریں گے جس طرح وہ سرمایہ دارانہ نظام کی کر رہے ہیں۔ پھر کوئی نیا مارکس، کوئی نیا لینن، کوئی نیا ماؤ پیدا ہوگا ورنہ دنیا ایک ایسی انارکی کی طرف جائے گی جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے!
1917 کے روسی انقلاب کی حمایت دنیا کے عوام اور اہلِ دانش نے اس لیے کی تھی کہ روسی انقلاب سرمایہ دارانہ نظام کا ایک بہتر متبادل بن کر دنیا کے سامنے آیا تھا۔ صدیوں سے سرمایہ دارانہ نظام کی اقتصادی ناانصافیوں کے مارے ہوئے عوام کے دلوں میں ایک امید پیدا ہوئی کہ شاید اب انھیں بھی زندگی کی وہ سہولتیں حاصل ہوجائیں گی جن سے وہ محروم کر دیے گئے تھے۔
جب سوشلسٹ ملکوں میں ریاستوں نے اپنے شہریوں کو بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے کی ذمے داری قبول کی تو عوام روٹی،کپڑا ،مکان، تعلیم اور علاج جیسی بنیادی ضرورتوں کی طرف سے مطمئن ہوگئے۔ جب سوشلسٹ ممالک میں جرائم کا نام و نشان مٹ گیا تو دنیا کے عوام کا سوشلزم پر ایمان اور مضبوط ہوا، جب دنیا بھر کے عوام نے سوشلسٹ ملکوں کے حکمرانوں کو عوام کی طرح سائیکلوں پر سفر کرتے دیکھا اور عوام ہی کی طرح لباس استعمال کرتے دیکھا تو سرمایہ دارانہ عدم مساوات کے مارے ہوئے عوام کے دلوں میں یہ خواہش جاگی کہ وہ بھی اس نظام کا حصہ بنیں۔
جب دنیا کے عوام نے 50 سال کی مختصر مدت میں روس کو دوسری سپر پاور بنتے دیکھا تو انھیں یقین ہوگیا کہ اس نظام میں ترقی کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جب دنیا کے عوام نے امریکا اور اس کے حلیف ملکوں کی جارحانہ پالیسیوں کے آگے سوشلسٹ بلاک کو دیوار کی طرح حائل ہوتے دیکھا تو انھیں احساس ہوا کہ وہ لاوارث نہیں، سوشلسٹ ملکوں کی ان ہی کامیابیوں نے دنیا کے ایک تہائی حصے میں سوشلزم کو متعارف اور مقبول کرایا۔ دنیا کی یہ ساری امیدیں، سارے خواب اس وقت نااُمیدیوں میں بدل کر بکھر گئے جب سوشلسٹ بلاک جغرافیائی اور نظریاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔
سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ میں درون خانہ خرابیوں کا کتنا حصہ تھا اور بیرونی سازشوں کا کتنا حصہ تھا اس بحث سے قطع نظر جب ہم آج کی دنیا کے فکری انتشار پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کی ذمے داری ان اہلِ فکر، اہلِ دانش اور انقلابی پارٹیوں کی دکھائی دیتی ہے جو اس نظریے کے حامی اور علم بردار تو تھے لیکن انھوں نے عالمی سطح پر اس ٹوٹ پھوٹ کے داخلی اور خارجی اسباب کو تلاش کرنے کی کوئی سنجیدہ اور ذمے دارانہ کوشش نہیں کی۔ نہ ان خرابیوں کو دور کرکے ایک اصلاح شدہ نظام دنیا کے سامنے پیش کیا۔
اس غیر ذمے داری کا نتیجہ یہ نکلا کہ روس چین سمیت سارا سوشلسٹ بلاک آنکھ بند کرکے منڈی کی معیشت کی راہ پر چل پڑا اور وہ ساری خرابیاں ان ملکوں ان معاشروں کا حصہ بن گئیں جو سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہیں۔ آج جب ہم چین اور روس کی اعلیٰ قیادت پر کرپشن کے الزامات لگتے دیکھ رہے ہیں اور ان ملکوں کی مڈل کلاس کو بہتر زندگی کی تلاش میں دوسرے ملکوں کی طرف بھاگتے دیکھ رہے ہیں تو ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ملکوں سے بھاگنے والوں کو سرمایہ دارانہ ملکوں میں وہ سہولتیں وہ بہتر زندگی جائز ذرایع سے حاصل ہوں گی جس کی تلاش میں وہ اپنے ملک چھوڑ رہے ہیں؟
اگر آج کوئی شخص سوشلزم کی بات کرتا ہے تو لوگ اس پر ہنستے ہیں، اس کا مذاق اُڑاتے ہیں کہ ماضی کے قصوں کو دہرانا حماقت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشلسٹ نظام اب ماضی کی گَرد میں گم ہوگیا ہے، لیکن سرمایہ دارانہ استحصال سے تنگ آئی ہوئی دنیا اور خود سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست اس نظام کے سورج کو گہناتے اور ڈوبتے دیکھ کر سخت پریشان ہیں اور آج ساری دنیا میں جو اقتصادی انارکی نظر آرہی ہے اس کی وجہ بھی یہی نظر آتی ہے کہ یہ نظام اپنی عمر پوری کرچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود مغربی ملکوں سے آوازیں بلند ہورہی ہیں کہ ایک بہتر متبادل کی ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ بہتر متبادل کیا ہوسکتا ہے؟ ویسے تو بعض نظریاتی حلقوں میں اپنے اپنے نظاموں کی نعرہ بازی جاری ہے، لیکن جب ان کی پٹاریوں پر نظر ڈالیں تو وہاں نعروں کے علاوہ کوئی ٹھوس متبادل کہیں نظر نہیں آتا۔ بلکہ اب تو حال یہ ہے کہ علم وعقل کی کوشش کر رہے ہیں جس کا عملاً کوئی وجود ہی نہیں۔ لاطینی امریکا میں سرمایہ دارانہ نظام کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے لیکن یہاں بھی کوئی واضح اور ٹھوس نظام نظر نہیں آتا جو اس خلاء کو پورا کرسکے،جو سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ سے پیدا ہوگیا ہے۔
سوشلزم نہ کوئی آسمانی نظام تھا نہ اس کو پیش کرنے والے کوئی پیغمبر تھے۔ یہ بھی ہماری آپ کی طرح کے انسان تھے، لیکن انھوں نے برسوں کی تحقیق اور سرمایہ دارانہ نظام میں موجود خرابیوں کے مطالعے کے بعد ایک متبادل نظام اس خلوص نیت کے ساتھ پیش کیا کہ یہ استحصالی نظام کا ایک بہتر متبادل بن سکتا ہے۔ اس نظام میں کمزوریاں بھی ہوسکتی ہیں، خرابیاں بھی، لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے ان کی خرابیوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے دنیا کے سادہ لوح انسانوں کے سامنے اسے ایک لادینی نظام کی حیثیت سے پیش کرکے مذہب پرست عوام کو اس سے بدظن کرایا اور لکیر کے فقیر مذہبی حلقے اس الزام کی صدائے بازگشت بن گئے۔کیا سرمایہ دارانہ نظام دینی ہے؟ کوئی اقتصادی نظام نہ ہندو ہوتا ہے، نہ مسلمان، نہ سکھ، نہ عیسائی نہ بدھ۔ وہ اپنی سرشت میں ہر عقیدے سے آزاد ہوتا ہے۔ اس لیے اسے مشرف بہ مذہب کرنا حماقت کے علاوہ کچھ نہیں۔
آج دنیا کو جن بُرائیوں، جن جرائم، جن معاشی ناانصافیوں، جن نفرتوںاور جن جنگوں کا سامنا ہے وہ اسی نظام زر کی پیداوار ہیں، اس نظام زر کو ختم کیے بغیر یہ ساری بُرائیاں ختم نہیں ہوسکتیں۔ کسی بُرے نظام کو ختم کرنے کے لیے ایک اچھے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب دنیا کے سامنے یہی سوال کھڑا ہے کہ اچھا نظام کیا ہو؟ سرمایہ دارانہ نظام کی ساری خرابیوں کی جڑ نجی ملکیت اور منافع کا لامحدود حق ہے، جسکی حفاظت قانون اور آئین کے ذریعے کی جاتی ہے۔ سوشلسٹ نظام کی ساری اچھائیوں کا ماخذ لامحدود نجی ملکیت اور لامحدود منافعے پر پابندی تھا۔ ان دو بنیادی اصولوں کے بغیر کوئی اقتصادی نظام سرمایہ دارانہ نظام کا بہتر متبادل نہیں بن سکتا۔
چین دنیا کا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک ہے، چین کی کمیونسٹ پارٹی دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی ہے، اس کی ایک تاریخی کانگریس ہوچکی ہے۔ اگر اس پارٹی میں جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھنے والے دانشور اور اقتصادی ماہرین موجود ہیں تو ان کی ذمے داری ہے کہ دنیا کے 7 ارب غریب انسانوں کو غربت وافلاس سے نجات دلانے کے لیے ایک بہتر متبادل تلاش کریں، اگر یہ پارٹی سرمایہ دارانہ نظام ہی کو آج کی ضرورت سمجھتی ہے تو دنیا کے عوام اس کی بھی اسی طرح مخالفت کریں گے جس طرح وہ سرمایہ دارانہ نظام کی کر رہے ہیں۔ پھر کوئی نیا مارکس، کوئی نیا لینن، کوئی نیا ماؤ پیدا ہوگا ورنہ دنیا ایک ایسی انارکی کی طرف جائے گی جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے!