امام حسینؓ مظلوم کربلا
مرد مومن کو شہادت کی جو لذت حاصل ہوتی ہے اس کے سامنے دنیا کی ساری لذتیں ہیچ ہیں۔
دنیا کی بے شمار نعمتوں سے انسان لطف ولذت حاصل کرتا ہے۔کسی نعمت کو کھاتا ہے کسی کو پیتا ہے کسی کو سونگھتا ہے کسی کو دیکھتا ہے کسی کو سنتا ہے اور ان کے علاوہ مختلف طریقوں سے تمام نعمتوں کو استعمال کرتا ہے اور ان سے محظوظ ہوتا ہے، لیکن مرد مومن کو شہادت کی جو لذت حاصل ہوتی ہے اس کے سامنے دنیا کی ساری لذتیں ہیچ ہیں۔
یہاں تک کہ شہید جنت کی تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھائے گا اور ان سے لطف اندوز ہوگا مگر جب اس کو اللہ و رسولﷺ کی محبت میں سر کٹانے کا مزہ یاد آئے گا تو جنت کی بھی ساری نعمتوں کا مزہ بھول جائے گا اور تمنا کرے گا کہ اے کاش! میں دنیا میں واپس کیا جاؤں اور بار بار دنیا میں شہید کیا جاؤں۔حدیث شریف میں ہے سرکار اقدسﷺ نے فرمایا کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد پھر کوئی جنتی وہاں کی راحتوں اور نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا میں آنا پسند نہ کرے گا کہ جو چیزیں زمین میںحاصل تھیں وہ پھر مل جائیں۔
اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی بقاء کے لیے بے شمار مسلمان اب تک شہید کیے گئے مگر ان تمام لوگوں میں سید الشہداء حضرت امام حسینؓ کی شہادت بے مثل ہے کہ آپ جیسی مصیبتیں کسی دوسرے شہید نے نہیں اُٹھائیں۔آپؓ تین دن کے بھوکے پیاسے شہید کیے گئے اس حال میں کہ آپؓ کے تمام رفقاء عزیز و اقارب و اہل و عیال بھی بھوکے پیاسے تھے اور چھوٹے بچے پانی کے لیے تڑپ رہے تھے۔
یہ آپؓکے لیے اور زیادہ مصیبت کی بات تھی اس لیے کہ انسان اپنی بھوک و پیاس تو برداشت کر لیتا ہے لیکن اہل و عیال اور خاص کر چھوٹے بچوں کی بھوک و پیاس اس سے دیکھی نہیں جاتی ہے، اور جب پانی کا وجود نہیں ہوتا تو پیاس کی تکلیف کم ہوتی ہے، لیکن جب کہ پانی کی بہتات ہو جسے عام لوگ ہر طرح سے استعمال کر رہے ہوں یہاں تک کہ جانور بھی اس سے سیراب ہورہے ہوں مگر جو شخص تین دن کا بھوکا پیاسا ہو اُسے نہ پینے دیا جائے تو یہ اس کے لیے زیادہ تکلیف کی بات ہے اور میدان کربلا میں یہی نقشہ تھا کہ آدمی اور جانور سبھی لوگ دریائے فرات سے سیراب ہورہے تھے مگر امام عالیؓ مقام اور ان کے تمام رفقاء پر پانی بند کردیا گیا تھا۔
یہاں تک کہ آپ اپنے بیماروں اور چھوٹے بچوں کو بھی ایک قطرہ نہیں پلا سکتے تھے اور پھر غیر ایسا کرے تو تکلیف کا احساس کم ہوگا اور یہاں حال یہ ہے کہ کھانا پانی روکنے والے خود کو مسلمان ہی کہلاتے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، نمازیں ادا کرتے ہیں اور ان کے نانا جان کا اسم گرامی اذانوں میں بلند کرتے ہیں مگر نواسے پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑتے ہیں۔ امام عالیؓ مقام اپنے گھر سے دور بے وطن ہیں اس کے ساتھ تیز دھوپ، تپتی ہوئی زمین اور گرم ہواؤں کے تھپیڑے بھی ہیں اور آپؓ کو یہ اندیشہ بھی دامن گیر تھا کہ میری شہادت کے بعد میرا تمام ساز و سامان لوٹ لیا جائے گا خیمہ جلا دیا جائے گا۔
مستورات بے سہارا ہوجائیں گی اور انھیں قید کرلیا جائے گا۔ ان حالات میں اگر رستم بھی ہوتا تو اس کے حوصلے پست ہوجاتے اور وہ اپنی گردن جھکا دیتا، لیکن سید الشہداء حضرت امام حسینؓ ان مصائب و آلام کے ہجوم میں بھی باطل کے مقابلے کے لیے صبر و رضا کا پہاڑ بن کر قائم رہے اور آپؓ کے پائے استقلال میں لغزش نہیں پیدا ہوئی یہاں تک کہ تہتر زخم کھا کر شہید ہوگئے اور پھر آپؓ کی لاش مبارک گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندی بھی گئی۔
حضرت امام حسینؓ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپؓ کی شہادت کی شہرت بھی عام ہوگئی تھی، سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ اور دیگر اکابر صحابہؓ اور اہل بیتؓ کے جاں نثار سب ہی آپ کے زمانہ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ارجمند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا اور اس کا خون نہایت بے دردی کے ساتھ زمین کربلا میں بہایا جائے گا۔ حضرت ام الفضل بنت حارثؓ یعنی حضرت عباسؓ کی زوجہ فرماتی ہیں: میں نے ایک روز نبی اکرمﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہوکر حضرت حسینؓ کو آپؐ کی گود میں دیا، پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضورﷺ کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں۔
میں نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کیا حال ہے؟ فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انھوں نے یہ خبر پہنچائی کہ میری امت میرے اس فرزند کو شہید کرے گی۔ حضرت ام الفضلؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! کیا اس فرزند کو شہید کردے گی؟ حضور ﷺ نے فرمایا، ہاں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام میرے پاس اس کی شہادت گاہ کی سُرخ مٹی بھی لائے۔ابن سعد طبرانی حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ ''جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی، میرا بیٹا حسینؓ میرے بعد ارض طف میں قتل کیا جائے گا اور جبرائیل علیہ السلام میرے پاس وہاں کی یہ مٹی بھی لائے مجھ سے کہا کہ یہ حسینؓ کی خواب گاہ (مقتل) کی مٹی ہے'' طف کوفہ کے قریب اس مقام کا نام ہے جسے کربلا کہتے ہیں۔
ابن سعد حضرت شعمیؓ سے روایت کرتے ہیںکہ حضرت علیؓ کربلا سے گزر رہے تھے کہ ٹھہر گئے اور اس زمین کا نام دریافت فرمایا، لوگوں نے کہا اس زمین کا نام کربلا ہے۔ کربلا کا نام سنتے ہی آپؓ اس قدر روئے کہ زمین آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں ایک روز حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپﷺ رو رہے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا ابھی میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے تھے، انھوں نے مجھے خبر دی کہ میرا بیٹا حسینؓ دریاء فرات کے کنارے اس جگہ شہید کیا جائے گا۔
جسے کربلا کہتے ہیں۔یزید کی پیشانی پر نواسۂ رسولؐ جگر گوشۂ بتولؓ حضرت امام حسینؓ کے قتل کا سیاہ داغ ہے جس پر ہر زمانے میں لوگ ملامت کرتے رہے اور رہتی دنیا تک ملامت کرتے رہیں گے۔ ارباب، فراست اور اصحاب اسرار اس وقت سے ڈرتے تھے جب کہ عنان سلطنت اس کے ہاتھ میں آئی۔ اس لیے 59 ھ میں حضرت ابوہریرہؓ نے دعا کی: یا ربّ میں تیری پناہ مانگتا ہوں 60ھ کے آغاز اور لڑکوں کی حکومت سے۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ جو حامل اسرار تھے انھیں معلوم تھا کہ 60ھ کا آغاز لڑکوں کی حکومت اور فتنوں کا وقت ہے۔
ایک عربی شاعر کہتا ہے ترجمہ: یعنی وہ امت، رسولﷺ کی شفاعت کی حق دار کیسے ہوگی امت کے وہ لوگ شفاعت کے حقدار کیونکر ہوں گے جنہوں نے امام حسینؓ کو شہید کیا؟ تاریخی روایات کے مطابق کوفیوں نے امام عالی مقامؓ کو بلایا، لیکن انھوں نے دھوکا دیا، شہادت کے وقت کوئی بھی آپ کا ساتھ دینے نہیں آیا، حالانکہ اس سے پہلے وہ امام حسینؓ کو بلاتے رہے کہ آپؓ آئیں اور ہماری مدد کریں، یزید کے ظلم و استبداد سے نجات دلائیں، شہادت سے قبل امام عالی مقامؓ نے نماز ادا فرمائی، تلاوت قرآن کی، امت کو بتایا کہ تلاوت قرآن ایسے بھی ہوتی ہے، امام حسینؓ نے اپنی شہادت میں بتایا کہ وہ نیزوں کے سائے میں تلواروں کی جھنکار میں شدید زخموں کی حالت میں بھی اللہ کو نہیں بھولے اور سربسجود ہوگئے۔
امام حسینؓ مظلوم کربلا تھے، آپؓ نبی اقدسﷺ کے نورِ نظر، خاتون جنت، حضرت فاطمہؓ کے لختِ جگر، حضرت علی حیدر کرارؓ کے دلبر تھے ان کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور تھے، جب مدینہ منورہ کی گلیوں سے گزرتے تھے در و دیوار سے رسول اللہﷺ کی خوشبو آتی تھی، حضور پُرنورﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا فرش زمین پر جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتے ہو؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا بے شک یا رسول اللہﷺ، ارشاد فرمایا: جسے جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنے کی تمنا ہو وہ حسنؓ اور حسینؓ کو دیکھ لیں۔
امام حسینؓ باطل کے مقابل صف آراء تھے، یہ منظر کہیں نظر نہیں آتا، چشم فلک نے اس کا نظارہ صرف دشت کربلا میں کیا، ایک شخص تلاوت قرآن شریف کر رہا ہے، تیروں کی بارش ہورہی ہے، خون بہہ رہا ہے، زخموں سے چُور چُور ہے، تیروں کی بوچھاڑ ہورہی ہے اور آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز ایسا سجدہ بھی آپ نے کہیں نہ دیکھا ہوگا، تیروں کے سائے میں امام عالی مقامؓ کی جبیں اپنے ربّ کے حضور جھکی ہوئی ہے، یہ وہ سجدہ تھا جس کی نظیر صرف نواسۂ رسولﷺ اور جگر گوشۂ بتولؓ کی سیرت میں نظر آتا ہے۔
یہاں تک کہ شہید جنت کی تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھائے گا اور ان سے لطف اندوز ہوگا مگر جب اس کو اللہ و رسولﷺ کی محبت میں سر کٹانے کا مزہ یاد آئے گا تو جنت کی بھی ساری نعمتوں کا مزہ بھول جائے گا اور تمنا کرے گا کہ اے کاش! میں دنیا میں واپس کیا جاؤں اور بار بار دنیا میں شہید کیا جاؤں۔حدیث شریف میں ہے سرکار اقدسﷺ نے فرمایا کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد پھر کوئی جنتی وہاں کی راحتوں اور نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا میں آنا پسند نہ کرے گا کہ جو چیزیں زمین میںحاصل تھیں وہ پھر مل جائیں۔
اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی بقاء کے لیے بے شمار مسلمان اب تک شہید کیے گئے مگر ان تمام لوگوں میں سید الشہداء حضرت امام حسینؓ کی شہادت بے مثل ہے کہ آپ جیسی مصیبتیں کسی دوسرے شہید نے نہیں اُٹھائیں۔آپؓ تین دن کے بھوکے پیاسے شہید کیے گئے اس حال میں کہ آپؓ کے تمام رفقاء عزیز و اقارب و اہل و عیال بھی بھوکے پیاسے تھے اور چھوٹے بچے پانی کے لیے تڑپ رہے تھے۔
یہ آپؓکے لیے اور زیادہ مصیبت کی بات تھی اس لیے کہ انسان اپنی بھوک و پیاس تو برداشت کر لیتا ہے لیکن اہل و عیال اور خاص کر چھوٹے بچوں کی بھوک و پیاس اس سے دیکھی نہیں جاتی ہے، اور جب پانی کا وجود نہیں ہوتا تو پیاس کی تکلیف کم ہوتی ہے، لیکن جب کہ پانی کی بہتات ہو جسے عام لوگ ہر طرح سے استعمال کر رہے ہوں یہاں تک کہ جانور بھی اس سے سیراب ہورہے ہوں مگر جو شخص تین دن کا بھوکا پیاسا ہو اُسے نہ پینے دیا جائے تو یہ اس کے لیے زیادہ تکلیف کی بات ہے اور میدان کربلا میں یہی نقشہ تھا کہ آدمی اور جانور سبھی لوگ دریائے فرات سے سیراب ہورہے تھے مگر امام عالیؓ مقام اور ان کے تمام رفقاء پر پانی بند کردیا گیا تھا۔
یہاں تک کہ آپ اپنے بیماروں اور چھوٹے بچوں کو بھی ایک قطرہ نہیں پلا سکتے تھے اور پھر غیر ایسا کرے تو تکلیف کا احساس کم ہوگا اور یہاں حال یہ ہے کہ کھانا پانی روکنے والے خود کو مسلمان ہی کہلاتے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، نمازیں ادا کرتے ہیں اور ان کے نانا جان کا اسم گرامی اذانوں میں بلند کرتے ہیں مگر نواسے پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑتے ہیں۔ امام عالیؓ مقام اپنے گھر سے دور بے وطن ہیں اس کے ساتھ تیز دھوپ، تپتی ہوئی زمین اور گرم ہواؤں کے تھپیڑے بھی ہیں اور آپؓ کو یہ اندیشہ بھی دامن گیر تھا کہ میری شہادت کے بعد میرا تمام ساز و سامان لوٹ لیا جائے گا خیمہ جلا دیا جائے گا۔
مستورات بے سہارا ہوجائیں گی اور انھیں قید کرلیا جائے گا۔ ان حالات میں اگر رستم بھی ہوتا تو اس کے حوصلے پست ہوجاتے اور وہ اپنی گردن جھکا دیتا، لیکن سید الشہداء حضرت امام حسینؓ ان مصائب و آلام کے ہجوم میں بھی باطل کے مقابلے کے لیے صبر و رضا کا پہاڑ بن کر قائم رہے اور آپؓ کے پائے استقلال میں لغزش نہیں پیدا ہوئی یہاں تک کہ تہتر زخم کھا کر شہید ہوگئے اور پھر آپؓ کی لاش مبارک گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندی بھی گئی۔
حضرت امام حسینؓ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپؓ کی شہادت کی شہرت بھی عام ہوگئی تھی، سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ اور دیگر اکابر صحابہؓ اور اہل بیتؓ کے جاں نثار سب ہی آپ کے زمانہ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ارجمند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا اور اس کا خون نہایت بے دردی کے ساتھ زمین کربلا میں بہایا جائے گا۔ حضرت ام الفضل بنت حارثؓ یعنی حضرت عباسؓ کی زوجہ فرماتی ہیں: میں نے ایک روز نبی اکرمﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہوکر حضرت حسینؓ کو آپؐ کی گود میں دیا، پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضورﷺ کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں۔
میں نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کیا حال ہے؟ فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انھوں نے یہ خبر پہنچائی کہ میری امت میرے اس فرزند کو شہید کرے گی۔ حضرت ام الفضلؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! کیا اس فرزند کو شہید کردے گی؟ حضور ﷺ نے فرمایا، ہاں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام میرے پاس اس کی شہادت گاہ کی سُرخ مٹی بھی لائے۔ابن سعد طبرانی حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ ''جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی، میرا بیٹا حسینؓ میرے بعد ارض طف میں قتل کیا جائے گا اور جبرائیل علیہ السلام میرے پاس وہاں کی یہ مٹی بھی لائے مجھ سے کہا کہ یہ حسینؓ کی خواب گاہ (مقتل) کی مٹی ہے'' طف کوفہ کے قریب اس مقام کا نام ہے جسے کربلا کہتے ہیں۔
ابن سعد حضرت شعمیؓ سے روایت کرتے ہیںکہ حضرت علیؓ کربلا سے گزر رہے تھے کہ ٹھہر گئے اور اس زمین کا نام دریافت فرمایا، لوگوں نے کہا اس زمین کا نام کربلا ہے۔ کربلا کا نام سنتے ہی آپؓ اس قدر روئے کہ زمین آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں ایک روز حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپﷺ رو رہے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا ابھی میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے تھے، انھوں نے مجھے خبر دی کہ میرا بیٹا حسینؓ دریاء فرات کے کنارے اس جگہ شہید کیا جائے گا۔
جسے کربلا کہتے ہیں۔یزید کی پیشانی پر نواسۂ رسولؐ جگر گوشۂ بتولؓ حضرت امام حسینؓ کے قتل کا سیاہ داغ ہے جس پر ہر زمانے میں لوگ ملامت کرتے رہے اور رہتی دنیا تک ملامت کرتے رہیں گے۔ ارباب، فراست اور اصحاب اسرار اس وقت سے ڈرتے تھے جب کہ عنان سلطنت اس کے ہاتھ میں آئی۔ اس لیے 59 ھ میں حضرت ابوہریرہؓ نے دعا کی: یا ربّ میں تیری پناہ مانگتا ہوں 60ھ کے آغاز اور لڑکوں کی حکومت سے۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ جو حامل اسرار تھے انھیں معلوم تھا کہ 60ھ کا آغاز لڑکوں کی حکومت اور فتنوں کا وقت ہے۔
ایک عربی شاعر کہتا ہے ترجمہ: یعنی وہ امت، رسولﷺ کی شفاعت کی حق دار کیسے ہوگی امت کے وہ لوگ شفاعت کے حقدار کیونکر ہوں گے جنہوں نے امام حسینؓ کو شہید کیا؟ تاریخی روایات کے مطابق کوفیوں نے امام عالی مقامؓ کو بلایا، لیکن انھوں نے دھوکا دیا، شہادت کے وقت کوئی بھی آپ کا ساتھ دینے نہیں آیا، حالانکہ اس سے پہلے وہ امام حسینؓ کو بلاتے رہے کہ آپؓ آئیں اور ہماری مدد کریں، یزید کے ظلم و استبداد سے نجات دلائیں، شہادت سے قبل امام عالی مقامؓ نے نماز ادا فرمائی، تلاوت قرآن کی، امت کو بتایا کہ تلاوت قرآن ایسے بھی ہوتی ہے، امام حسینؓ نے اپنی شہادت میں بتایا کہ وہ نیزوں کے سائے میں تلواروں کی جھنکار میں شدید زخموں کی حالت میں بھی اللہ کو نہیں بھولے اور سربسجود ہوگئے۔
امام حسینؓ مظلوم کربلا تھے، آپؓ نبی اقدسﷺ کے نورِ نظر، خاتون جنت، حضرت فاطمہؓ کے لختِ جگر، حضرت علی حیدر کرارؓ کے دلبر تھے ان کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور تھے، جب مدینہ منورہ کی گلیوں سے گزرتے تھے در و دیوار سے رسول اللہﷺ کی خوشبو آتی تھی، حضور پُرنورﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا فرش زمین پر جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتے ہو؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا بے شک یا رسول اللہﷺ، ارشاد فرمایا: جسے جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنے کی تمنا ہو وہ حسنؓ اور حسینؓ کو دیکھ لیں۔
امام حسینؓ باطل کے مقابل صف آراء تھے، یہ منظر کہیں نظر نہیں آتا، چشم فلک نے اس کا نظارہ صرف دشت کربلا میں کیا، ایک شخص تلاوت قرآن شریف کر رہا ہے، تیروں کی بارش ہورہی ہے، خون بہہ رہا ہے، زخموں سے چُور چُور ہے، تیروں کی بوچھاڑ ہورہی ہے اور آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز ایسا سجدہ بھی آپ نے کہیں نہ دیکھا ہوگا، تیروں کے سائے میں امام عالی مقامؓ کی جبیں اپنے ربّ کے حضور جھکی ہوئی ہے، یہ وہ سجدہ تھا جس کی نظیر صرف نواسۂ رسولﷺ اور جگر گوشۂ بتولؓ کی سیرت میں نظر آتا ہے۔