ہفتہ رفتہ روئی کی تجارت میں سست روی دام بھی گرگئے
ٹیکسٹائل سیکٹر روئی کی قیمتوں میں اتارچڑھائو میں مستقل مداخلت کررہا ہے، چیئرمین کراچی کاٹن بروکرز فورم
ٹیکسٹائل سیکٹر روئی کی قیمتوں میں اتارچڑھائو میں مستقل مداخلت کررہا ہے، چیئرمین کراچی کاٹن بروکرز فورم فوٹو: فائل
محرم الحرام کی تعطیلات، روئی کی درآمدی سرگرمیوں اور مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جانب سے کپاس کی پیداوار زائد ہونے کا امکان ظاہر کرنے کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران بیشتر علاقوں کی مارکیٹس میں کاروباری سرگرمیاں سست اور قیمتوں میں کمی کارجحان رہا۔
روئی کی قیمتیں 200 تا 300 روپے کی کمی سے 5 ہزار 900 روپے فی من کی سطح پر آگئیں جبکہ اسپاٹ ریٹ 75 روپے کمی سے 5825 روپے من پر بند ہوا جبکہ پھٹی کے دام بھی 100 تا 200 روپے کم ہوگئے۔ پی سی جی اے کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چین نے پاکستان سے جنوری تاستمبر2012کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مجموعی طورپر 3 لاکھ 91 ہزار 556 ٹن سوتی دھاگہ درآمد کیا جو گزشتہ سال کے اسی مدت کی نسبت 48 فیصد زائد ہے جبکہ مستقبل میں روپے کی نسبت امریکی ڈالر کی قدر میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر توقع ہے کہ پاکستان سے چین سمیت دیگر ممالک کو سوتی دھاگے اور گرے کلاتھ کی برآمدی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا لیکن برآمدی سرگرمیاں بڑھنے سے پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں تیزی کے اثرات غالب ہوسکتے ہیں۔
روئی درآمد کرنے والے ایک سرفہرست بروکریج ہائوس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں عاصم سعید نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ بھارت کے ساتھ طے شدہ روئی کے درآمدی معاہدوں میں پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے اب یہ شق بھی شامل کی جا رہی ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے روئی کی برآمدات پر پابندی کی صورت میں بھارتی برآمدکنندگان دیگر ممالک سے انہی شرائط پر پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو روئی فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر روئی کی قیمتوں میں اتارچڑھائو میں مستقل مداخلت کررہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ نسیم عثمان نے چیئرمین اپٹما کے پیداوار ڈیڑھ کروڑبیلزہونے، 15 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدوں اور سال اختتام تک 20 لاکھ گانٹھ اسٹاک کے بیان پرتشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ غلط پروپیگنڈے نے کاشتکاروں اور جنرز کو اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔
روئی کی قیمتیں 200 تا 300 روپے کی کمی سے 5 ہزار 900 روپے فی من کی سطح پر آگئیں جبکہ اسپاٹ ریٹ 75 روپے کمی سے 5825 روپے من پر بند ہوا جبکہ پھٹی کے دام بھی 100 تا 200 روپے کم ہوگئے۔ پی سی جی اے کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چین نے پاکستان سے جنوری تاستمبر2012کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مجموعی طورپر 3 لاکھ 91 ہزار 556 ٹن سوتی دھاگہ درآمد کیا جو گزشتہ سال کے اسی مدت کی نسبت 48 فیصد زائد ہے جبکہ مستقبل میں روپے کی نسبت امریکی ڈالر کی قدر میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر توقع ہے کہ پاکستان سے چین سمیت دیگر ممالک کو سوتی دھاگے اور گرے کلاتھ کی برآمدی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا لیکن برآمدی سرگرمیاں بڑھنے سے پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں تیزی کے اثرات غالب ہوسکتے ہیں۔
روئی درآمد کرنے والے ایک سرفہرست بروکریج ہائوس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں عاصم سعید نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ بھارت کے ساتھ طے شدہ روئی کے درآمدی معاہدوں میں پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے اب یہ شق بھی شامل کی جا رہی ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے روئی کی برآمدات پر پابندی کی صورت میں بھارتی برآمدکنندگان دیگر ممالک سے انہی شرائط پر پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو روئی فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر روئی کی قیمتوں میں اتارچڑھائو میں مستقل مداخلت کررہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ نسیم عثمان نے چیئرمین اپٹما کے پیداوار ڈیڑھ کروڑبیلزہونے، 15 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدوں اور سال اختتام تک 20 لاکھ گانٹھ اسٹاک کے بیان پرتشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ غلط پروپیگنڈے نے کاشتکاروں اور جنرز کو اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔