متعدد علاقوں میں لوڈشیڈنگ سرکاری دعوے دھرے رہ گئے

عام تعطیل اور دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر 9 محرم الحرام کو تجارتی و صنعتی سرگرمیاں معطل ہونے کے باوجود...

حکومت نے کے ای ایس سی سمیت دیگر کمپنیوں کو 9 اور 10 محرم کو کسی بھی علاقے میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ فوٹو: فائل

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے ایک مرتبہ پھر وفاقی اور صوبائی حکومت کے احکامات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرتے ہوئے9 محرم الحرام کو شہر کے متعدد علاقوں میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔

وفاقی سیکریٹری پانی و بجلی اور گورنرسندھ کی جانب سے جاری کیے جانے والے تحریری احکامات بھی کے ای ایس سی انتظامیہ کی روش تبدیل کرانے میں ناکام رہے، تفصیلات کے مطابق وفاقی سیکریٹری داخلہ نرگس سیٹھی کی جانب سے ملک میں بجلی فراہم کرنے والی تمام تقسیم کارکمپنیوں کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ 9 اور 10 محرم الحرام کو ملک کے کسی بھی حصے میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔

ملک میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلیے دن، رات کی تخصیص کے بغیر کام میں مصروف وفاقی سیکریٹری پانی و بجلی نے اس سلسلے میں 8 محرم الحرام کو ملک کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان سے براہ راست رابطہ کرکے انھیں ہدایت کی تھی کہ 9 اور 10 محرم الحرام کو پورے ملک کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دیا جائے اورکسی بھی علاقے میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے، اس سلسلے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کمپنیوں کیلیے انعامات کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔


اس کے علاوہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے بھی کے ای ایس سی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ عاشورہ کی تعطیلات کے دوران شہر میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے، عام تعطیل اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر 9 محرم الحرام کوکراچی میں تجارتی و صنعتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں جبکہ گلی محلوں میں واقع چھوٹی دکانیں بھی تقریبا بند رہیں، اس صورتحال کی وجہ سے شہر میں بجلی کی طلب میں نمایاں کمی ہوگئی تھی اور کے ای ایس سی کو واپڈا سے ساڑھے 6 سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی کا سلسلہ بھی بغیر کسی تعطل کے جاری تھا۔

تاہم کے ای ایس سی انتظامیہ نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے احکامات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شہر کے متعدد علاقوں میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا، حالانکہ کے ای ایس سی کی جانب سے ایک روز قبل اعلامیہ جاری کیاگیا تھا کہ شہر بھر کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دے دیا گیا ہے، تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اعلامیہ صرف کاغذی کارروائی تھا، واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کے ای ایس سی متعدد مرتبہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے احکامات کو نظر انداز کرتی رہی ہے۔

سستے ایندھن کے زیادہ سے زیادہ حصول کے لیے کراچی میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ کرکے اور صنعتی زونز کا استثنی ختم کرنے کی روش پر قائم رہی ہے، ماضی میں ایک مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ جیسے اہم ترین حکومتی عہدے کی شخصیت عوامی سطح پر اس معاملے کا اعتراف کرچکی ہے کہ کے ای ایس سی کے سربراہ(سی ای او) ان سے فون پر بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے ہیں، حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کی جانب سے متعدد مرتبہ طلب کیے جانے کے باوجود کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہونے سے انکار کردیا تھا اور یہ پیغام دیا تھا کہ وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے پابند نہیں ہیں۔

ایک مرتبہ پھر کے ای ایس سی کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومت کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے کو مختلف حلقے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں، ہفتے کو لوڈشیڈنگ سے شدید متاثر ہونے والے علاقوں میں لیاقت آباد، ایف سی ایریا، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، بفرزون، نئی کراچی، نارتھ کراچی، کورنگی، کورنگی صنعتی ایریا، لانڈھی، قائد آباد، ملیر، شاہ فیصل کالونی، لائنز ایریا، ڈیفنس ویو، قیوم آباد اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
Load Next Story