عید فارمیلٹی

عید کی اصل روح جذبہ ایثار ہے۔ اگر یہی ایثار حقیقی جذبے کیساتھ نبھایا جائے تو غربت میں کافی حد تک کمی آجائے۔

ہم زکواۃ بھی دیتے ہیں، صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں، عید پر رشتے داروں سے بھی ملتے ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ محبت پیار اور ایثار پہلے سے کم ہوتا جا رہا ہے؟ فوٹو:فائل

HYDERABAD:
اس دن نیمے پھکری نے تھڑے پر یوں بیان دے مارا جیسے ان پڑھ خواتین گھروں کا کوڑا گلی میں پھینک دیتی ہیں۔ موصوف کا بیان یہ تھا کہ ہمارا عید کا تہوار بھی فارمیلٹی کی نذر ہوگیا ہے۔ ورنہ یہ تہوار تو بڑے کام کا ہے، کچھ دیر تک تو کسی کی طرف سے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں ہوا۔ پھر حکیم نوشا دری نے مراقبہ نما حالت سے سر اٹھایا اور بڑی رقت آمیز آواز میں پوچھا،

''حضور آپ نے بات تو کردی لیکن کیا فارمیلٹی کے معنی بھی معلوم ہیں؟''

''بالکل معلوم ہیں، اس کا سیدھا سا مطلب ہے رسمی ہوگئی ہے عید، اس کی اصل روح تو نجانے کہاں غائب ہوگئی''۔ اس نے یوں ہاتھ نچاتے ہوئے کہا جیسے مکھی اُڑا رہا ہو۔

''کیا تم اس بارے کوئی دلیل دے سکتے ہو؟'' بالے سودائی نے ایک آنکھ کھول کر کہا۔

''یار تم جیسے بندے سے میں ایسی بات کی توقع نہیں کر رہا تھا، کیا تمہیں اپنے اردگرد کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے؟'' یہ کہہ کر اس نے دھونکنی جیسا سانس لیا پھر کہتا چلا گیا،

''عید ہوتی ہے رمضان کے بعد، رمضان شروع ہوتے ہی سب سے پہلے ہر طرف مہنگائی ہوجاتی ہے۔ کھانے پینے کی چیزیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ کیوں ہم انتظار کرتے ہیں کہ رمضان کو کمائی کا ذریعہ بنائیں۔ کیا یہ فارمیلٹی نہیں بن گئی کہ اسی مہینے میں مہنگائی کرنی ہے''؟

''کوئی بھی مہنگائی نہیں کرتا، یہ ہم خود کرتے ہیں، ہمیں یوں حریص ہوجاتے ہیں، جیسے پھر کوئی شے ہمیں ملنی ہی نہیں۔ یہ تو سارا طلب رسد کا معاملہ ہے نرا معاشی و اقتصادی''۔ بالے سودائی نے اب کی بار پوری آنکھیں کھول کر کہا۔

''تمہیں بڑا درد ہو رہا ہے، جو چل رہا ہے، چلنے دو''۔ حکیم نوشادری نے مچھر مار انداز میں ہاتھ ہلا کر کہا تو گویا نیمے پھکری کی جلالت کو بھڑکا دیا۔

وہ تنتناتے ہوئے مخاطب ہوا،

''ابے او جعلی فلاسفر، سونف کی پھنکی بنا کر بسوں میں بیچنے والے، تجھے کیا معلوم، اس فارمیلٹی میں انسانیت کی کتنی تذلیل ہوتی ہے۔ تم نے دیکھا نہیں زکواۃ دینے کے ڈھنگ بھی عجیب و غریب بن گئے ہیں۔ یہ جو سرمایہ دار ہیں، یہ زکواۃ دینے کو دینی فریضہ کم اور شہرت کے لئے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اخبار اٹھا کر دیکھو، کس طرح گھر کے باہر غریبوں کی قطاریں لگوائی ہوتی ہیں۔ پچھلی بار تو کئی مر بھی گئے تھے''.

''یہ بات تو دل کو لگتی ہے۔ عید کی اصل روح جذبہ ایثار ہے۔ اگر یہی ایثار حقیقی جذبے کیساتھ نبھایا جائے تو غربت میں کافی حد تک کمی آ جائے''۔


بالے سوادئی نے کان کھجاتے ہوئے کہا۔

''یہ روح کی بات تم نے ٹھیک کہی، اس سے تو میں اتفاق کرتا ہوں، لیکن اس کا جوڑ فارمیلٹی سے کہاں ملاتے ہو بھائی؟''

حکیم نوشادری نے بلغم زدہ آواز میں یوں کہا جیسے میں نہ مانوں۔ کچھ لوگ صبح گھر سے نکلتے ہیں تو یہ سوچ کر نکلتے ہیں کہ آج ہر بات کا اختلاف کرنا ہے نا اتفاق۔

نیمے نے تڑپتے ہوئے کہا، ''اسے میں سمجھاتا ہوں''۔

''اس میں سمجھانے والی کون سی بات ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا اپنے رشتے داروں، ملنے والوں کے ساتھ رویہ کیسا ہوا جا رہا ہے''۔ بالے سودائی نے کہا

''لیکن اس میں فارمیلٹی کہاں ہے وہ بتاؤ۔'' حکیم اپنی بات پر یوں اڑا ہوا تھا جیسے پرانی کار بیچ سڑک میں اَڑ جاتی ہے۔

''میں اس کی مثال یوں دیتا ہوں، دیکھو! پیاس کس سے بجھتی ہے، پانی سے ناں؟ لیکن اگر آپ کو پانی دیا جائے اور وہ گرم ہو یا برف کی مانند سرد تو کیا اس سے پیاس بجھ جائے گی؟ نہیں بجھے گی۔ ہم زکواۃ بھی دیتے ہیں، صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں، عید پر رشتے داروں سے بھی ملتے ہیں، سب کچھ کرتے ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ محبت پیار اور ایثار پہلے سے کم ہوتا جارہا ہے؟ یہی ناں کہ ہم فارمیلٹی کرتے ہیں''۔ بالا سودائی کہہ کر خاموش ہوگیا۔

''اگر یہ فارمیلٹی ختم ہوجائے تو معاشرے میں تبدیلی نہ آجائے؟ رمضان کی اصل روح تو یہی ہے کہ ہم دوسروں کی مدد کے لئے تیار ہوجائیں، لیکن پھر وہی فارمیلیٹی'' نیمے نے دکھ سے کہا۔

اس پر حکیم نوشادری یوں سر ہلانے لگا، جیسے بکری ہلاتی ہے۔ شاید اس کے سوچنے کا انداز ہی ایسا تھا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔
Load Next Story