کرنٹ اکاؤنٹ کو جولائی تا مئی ڈھائی ارب ڈالر کا خسارہ
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر کے دوران کرنٹ کاؤنٹ خسارہ 35کروڑ ڈالر تھا
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر کے دوران کرنٹ کاؤنٹ خسارہ 35کروڑ ڈالر تھا فوٹو: فائل
کرنٹ اکاؤنٹ کو رواں مالی سال کے پہلے 11ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران 2ارب 48کروڑ 60لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ کرنٹ اکاؤنٹ کو درپیش خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر کے دوران کرنٹ کاؤنٹ خسارہ 35کروڑ ڈالر تھا جبکہ دوسری سہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کو 1 ارب 3کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا اور تیسری سہ ماہی کے دوران خسارہ 33کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، اپریل کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 2 کروڑ 30لاکھ ڈالر سرپلس رہنے کے بعد مئی میں 79کروڑ 20 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا، گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 11ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کو 2 ارب 45کروڑ 70 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ کو کافی سہارا ملا، 11 ماہ کے دوران ترسیلات کی مد میں 17 ارب 84کروڑ ڈالر موصول ہوئے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ترسیلات کی مالیت 16ارب 89کروڑ ڈالر رہی تھی، 11ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 15ارب 72کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 16ارب 38کروڑ ڈالر رہا، خدمات کے شعبے کا خسارہ 2ارب 49کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 2ارب 21کروڑ ڈالر رہا، اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 22ارب 37 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 22ارب 99کروڑ ڈالر رہا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر کے دوران کرنٹ کاؤنٹ خسارہ 35کروڑ ڈالر تھا جبکہ دوسری سہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کو 1 ارب 3کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا اور تیسری سہ ماہی کے دوران خسارہ 33کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، اپریل کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 2 کروڑ 30لاکھ ڈالر سرپلس رہنے کے بعد مئی میں 79کروڑ 20 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا، گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 11ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کو 2 ارب 45کروڑ 70 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ کو کافی سہارا ملا، 11 ماہ کے دوران ترسیلات کی مد میں 17 ارب 84کروڑ ڈالر موصول ہوئے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ترسیلات کی مالیت 16ارب 89کروڑ ڈالر رہی تھی، 11ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 15ارب 72کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 16ارب 38کروڑ ڈالر رہا، خدمات کے شعبے کا خسارہ 2ارب 49کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 2ارب 21کروڑ ڈالر رہا، اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 22ارب 37 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 22ارب 99کروڑ ڈالر رہا۔