ججوں کی سینیارٹی کافیصلہ صدرمملکت ہی کرینگےاعتزاز
عدلیہ اپنی آئینی حدود میں رہے تو اداروںکے درمیان محاذآرائی کاکوئی امکان نہیں،انٹرویو.
عدلیہ اپنی آئینی حدود میں رہے تو اداروںکے درمیان محاذآرائی کاکوئی امکان نہیں،انٹرویو۔ فوٹو: فائل
پیپلزپارٹی کے سینیٹر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر عدلیہ اپنی آئینی حدود میں رہے تو حکو مت اور عدلیہ میں محاذآرائی کا کوئی امکان نہیں' ججز کی سنیارٹی کا فیصلہ ملک کی 65سالہ تاریخ میں صدر مملکت ہی کرتے آئے ہیں اب کس طرح کوئی اور کر سکتا ہے؟
ملک میں جمہو ریت اور اداروں کی مضبوطی کیلیے اداروں کا آئینی حدود میں رہنا ضروری ہے ۔ ہفتہ کواپنے ایک انٹر ویو میں سینیٹرو بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سمری انہی 2 اداروں کو واپس کی جو اس معاملے میں سوچنے اور غور کرنے کے مجاز ہیں' اٹارنی جنرل کی رائے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس کے بعد جسٹس ریاض احمد خان سینئر ترین جج ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے کوئی بھی اداروں میں محازآرائی کے حق میں نہیں مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ عدلیہ سمیت کوئی ادارہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز نہ کر ے ۔
ملک میں جمہو ریت اور اداروں کی مضبوطی کیلیے اداروں کا آئینی حدود میں رہنا ضروری ہے ۔ ہفتہ کواپنے ایک انٹر ویو میں سینیٹرو بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سمری انہی 2 اداروں کو واپس کی جو اس معاملے میں سوچنے اور غور کرنے کے مجاز ہیں' اٹارنی جنرل کی رائے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس کے بعد جسٹس ریاض احمد خان سینئر ترین جج ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے کوئی بھی اداروں میں محازآرائی کے حق میں نہیں مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ عدلیہ سمیت کوئی ادارہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز نہ کر ے ۔