آرمی چیف کو بیان دینے سے پہلے سوچنا چاہیے منور حسن
مولانا فضل الرحمن ایم ایم اے بحال کر چکے ہیں، ہمارے لیے آپشن بند ہو گیا ہے
حمید گل اعتراف کرتے ہیںکہ آئی جے آئی انھوںنے بنائی انہیںشامل تفتیش کیاجائے. فوٹو: فائل
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ کوئی کسی ادارے کو بد نام نہیں کر سکتا جب تک ادارے غلطیاں نہ کریں اس لیے آرمی چیف کو بیان دینے سے پہلے سوچنا چاہیے ۔
تمام معاملات میں سول حکومت کو فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہونا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن اپنی ایم ایم اے بحال کر چکے ہیںاس لیے وہ آپشن تو ہمارے لیے بند ہو گیا ہے ۔مولاناکومبارکباد دیتے ہیںکہ وہ خوش رہیں شادرہیںآباد رہیںاپنے فیصلے خودہی کریں۔ نجی ٹی وی کوانٹرویومیںانھوںنے کہاکہ حمیدگل اعتراف کرتے ہیںکہ آئی جے آئی انھوں نے بنائی اوراس کی تحقیقات کریںوہ جواب دینے کو تیار ہیں۔ اس لیے میںکہتا ہوںکہ انھیں شامل تفتیش کرنا چاہیے۔
اصغر خان کیس کے فیصلے کے مطابق اسد درانی اور مرزا اسلم بیگ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور فوج کو بھی چاہیے کہ اگر ان دونوں جرنیلوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو اسے ہونے دے اگر نہیں کی جا رہی تو فوج اپنی ذمے داری سمجھ کر کارروائی کرے ۔ان کو تحفظ دینے سے یہ بات سچ ثابت ہو گی کہ فوج ایک مقدس گائے ہے وہ جو چاہے کرے دن رات کرے ایک نہیں سو بار کرے مگر اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ میرے نزدیک جتنا وقت گزر گیا ہے وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ کوئی کارروائی نہیں ہورہی اور فیصلہ ہونے کے بعد بھی لیپا پوتی اور اپیلوں کے ذریعے اس کارروائی کوکونے کھدرے میں ڈالا جا رہا ہے۔
تمام معاملات میں سول حکومت کو فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہونا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن اپنی ایم ایم اے بحال کر چکے ہیںاس لیے وہ آپشن تو ہمارے لیے بند ہو گیا ہے ۔مولاناکومبارکباد دیتے ہیںکہ وہ خوش رہیں شادرہیںآباد رہیںاپنے فیصلے خودہی کریں۔ نجی ٹی وی کوانٹرویومیںانھوںنے کہاکہ حمیدگل اعتراف کرتے ہیںکہ آئی جے آئی انھوں نے بنائی اوراس کی تحقیقات کریںوہ جواب دینے کو تیار ہیں۔ اس لیے میںکہتا ہوںکہ انھیں شامل تفتیش کرنا چاہیے۔
اصغر خان کیس کے فیصلے کے مطابق اسد درانی اور مرزا اسلم بیگ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور فوج کو بھی چاہیے کہ اگر ان دونوں جرنیلوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو اسے ہونے دے اگر نہیں کی جا رہی تو فوج اپنی ذمے داری سمجھ کر کارروائی کرے ۔ان کو تحفظ دینے سے یہ بات سچ ثابت ہو گی کہ فوج ایک مقدس گائے ہے وہ جو چاہے کرے دن رات کرے ایک نہیں سو بار کرے مگر اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ میرے نزدیک جتنا وقت گزر گیا ہے وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ کوئی کارروائی نہیں ہورہی اور فیصلہ ہونے کے بعد بھی لیپا پوتی اور اپیلوں کے ذریعے اس کارروائی کوکونے کھدرے میں ڈالا جا رہا ہے۔