کراچی شراکت دار ہوشمندی سے کام لیں

معاملہ زر اور زمین کا ہے، شاہ صاحب سندھ کے تین بار وزیراعلیٰ رہے ، وہ سندھ کے رازداں کہے جاتے ہیں

دہشتگردی امن کی دشمن ہے جس کے خلاف رینجرز اور پولیس کے شانہ بشانہ پوری سول سوسائٹی کوہر قسم کی رقابتوں کے خاتمے کے لیے اب بلا تاخیر اٹھ جانا چاہیے۔ فوٹو؛ فائل

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی مکمل بحالی اور دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمہ کے لیے آٰپریشن جاری رہے گا، کسی کو کامیابیاں ضایع نہیں کرنے دیں گے، رینجرز کو ان کے مشن کی تکمیل تک ہر ممکنہ معاونت کی جائے گی، حالیہ واقعات میں ملوث شرپسندوں کی تلاش کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

آرمی چیف نے اتوار کو پاکستان رینجرز سندھ ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ، قومی سلامتی امور کے مشیر ناصر جنجوعہ، گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ، ڈی جی آئی ایس آئی ، کور کمانڈر کراچی بھی اجلاس میں شریک ہوئے، دورہ کے دوران آرمی چیف اور شرکاء کو ڈی جی رینجرز کی جانب سے کراچی میں جاری آپریشن، سیکیورٹی کی صورتحال اور کراچی آپریشن کو آگے بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ قبل ازیں آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار سے ملاقات کی اور امن وامان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

واقعہ یہ ہے کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کے باعث ملک کا سب سے اہم تجارتی مرکز کراچی عالمی موضوع بن چکا ہے ، غیر ملکی میڈیا تو اسے دنیا کے خطرناک شہروں کی فہرست میں رکھتا ہے، کراچی کو کبھی ایشیا کے خوبصورت شہر کا اعزاز بھی حاصل تھا ۔ اسے بندہ نواز شہر کہا گیا مگر دہشتگردی ، سٹریٹ کرائمز، فرقہ وارانہ ، لسانی و گروہی منافرت اور لاشوں کی سیاست نے اسے وہ بدامنی کی سوغات دی ہے جس نے رینجرز اور پولیس حکام کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ان عناصر کو نکیل ڈالیں جو کراچی کی شہ رگ کو کاٹنے کی سازش میں ملوث ہیں۔

چنانچہ کل کے شاندار کراچی کے مقابلہ میں موجودہ کراچی اپنی بقا کی جنگ میں سرخرو ہورہا ہے اگرچہ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی حالیہ وارداتوں سے اس تاثر کو ابھارا جاتا ہے کہ کراچی کو دہشتگردی کے خلاف اسٹالن گراڈ بننے میں ابھی مزید مسافت درپیش ہے، جی نہیں، شہر کبھی نہیں مرتے، رینجرز نے اسے ریسکیو کیا ہے، پولیس ہمراہ ہے، کراچی کی صورتحال بلاشبہ پیچیدہ ترین ہے، تسلیم کرنا چاہیے کہ اسے دنیا بھر کے خطرناک مجرموں کی جنت بنایا گیا، اس شہر میں قانون کی حکمرانی مذاق ٹھہرائی گئی، بے شمار لوگ قتل ہوئے ، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں اپنے عہد اقتدار کی طویل ترین (ساڑھے تین گھنٹے کی) تقریر میں بتایا کہ دہشتگردی کی ایک وجہ زمینوں پر قبضہ بھی ہے۔


معاملہ زر اور زمین کا ہے، شاہ صاحب سندھ کے تین بار وزیراعلیٰ رہے ، وہ سندھ کے رازداں کہے جاتے ہیں، ان ہی کے دور میں اہل وطن نے 'چائنا کٹنگ' کی زمینی اصطلاح سنی، کراچی بار بار تباہ و برباد ہوا نہیں اسے سیاسی طالع آزمائوں نے برباد کیا، سب چپ رہے، اسٹیبلشمنٹ بھی مصلحتاً خاموش رہی ، خون بہتا رہا۔ بے نظیر بھٹو ، نواز شریف ، غوث علی شاہ ،محمد خان جونیجو،غلام مصطفی جتوئی، لیاقت جتوئی،اور ان گنت نگراں و منتخب وزرائے اعلیٰ سے کراچی سنبھل نہ سکا، فسطائیت کا بول بالا رہا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا، حالیہ واقعات شہر کا امن خراب کرنے کی کوشش ہے، سیکیورٹی ادارے امجدصابری کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے کی بازیابی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس منگل کو طلب کر لیا جس میں امن وامان کی صورت حال اور کراچی آپریشن سے متعلق غور کیا جائے گا۔ اجلاس منگل کی شام چار بجے ہو گا جس میں گورنر سندھ، صوبائی وزراء، کور کمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز سندھ، آئی جی سندھ، چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ اور دیگر حکام شریک ہونگے ، قائم مقام صدر رضا ربانی نے کہا ہے کہ کچھ قوتیں دہشت گردی کے ذریعہ ریاست کے طرز زندگی کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ امجد صابری کے قتل میں ملوث ملزموں کو جلد گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی بازی گر کے تشدد اور ظلم پرستی کے خلاف شہر قائد کی استقامت بے مثال رہی، ماضی میں سیاسی کثرت پسندی، رواداری، خیرسگالی، بھائی چارے اور پر امن بقائے باہمی کا آئینہ دار یہ میگا سٹی عہد حاضر کے ان منفرد شہروں میں سے ایک ہے جس نے ہر طرح کے سماجی ، معاشی تضادات کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھا تاہم اسے گڈ گورننس کوئی حکومت نہ دے سکی ۔

جو شہر 70 فی صد ریونیودیتا تھا اسے50 مافیائیں یرغمال بنائے ہوئے تھیں جب کہ ان بالادست کرمنلز کے ارباب اختیار سے یارانے تھے، یہی وہ شرمناک گٹھ جوڑ ہے جسے جنرل راحیل شریف نے توڑنے کا عزم کیا اور حکام اب اسی سمت آپریشن کو لے جانے کے لیے اتوار کو کراچی میں سر جوڑ کے بیٹھے کیونکہ دہشتگردوں نے دو ہائی پروفائل وارداتوں میں وفاق و سندھ حکومت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ اب اسٹیک ہولڈرز ہوش مندی سے کام لیں، دہشتگردی امن کی دشمن ہے جس کے خلاف رینجرز اور پولیس کے شانہ بشانہ پوری سول سوسائٹی کوہر قسم کی رقابتوں کے خاتمے کے لیے اب بلا تاخیر اٹھ جانا چاہیے۔
Load Next Story