ٹیکس ہدف کیلیے سر توڑ کوششیں ایف بی آر نے بڑے نادہندگان کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے
2 روز میں36 ارب روپے کی وصولیوں کیلیے بڑے شہروں میں بڑے ٹیکس نادہندگان و شارٹ فائلرز کے خلاف کارروائیاں
2 روز میں36 ارب روپے کی وصولیوں کیلیے بڑے شہروں میں بڑے ٹیکس نادہندگان و شارٹ فائلرز کے خلاف کارروائیاں۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 3103.7 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے متعدد بڑے ٹیکس نادہندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 1 ارب روپے کا چیک دے دیا اور سی ڈی اے نے بھی ٹیکس واجبات کی ادائیگی پر آمادگی ظاہر کردی ہے، کراچی میں 6بڑے ٹیکس پیئرزاور لاہور، گوجرانوالہ، ملتان و پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی بڑے ٹیکس نادہندگان و شارٹ فائلرز کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے آئندہ 2روز میں 36 ارب روپے کے لگ بھگ اضافی ٹیکس ریونیو درکار ہے جس کے لیے سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور آئل کمپنیوں، بینکوں سمیت دیگر بڑے ٹیکس دہندگان سے ان کے ذمے واجب الادا ٹیکس واجبات کی ریکوری کے لیے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سمیت دیگر کاروائیاں کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئیسکو کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے تھے جو ٹیکس واجبات کی ادائیگی کے لیے رضامندی پر بحال کردیے گئے، آئیسکو نے گزشتہ روز ٹیکس واجبات کی مد میں 1ارب روپے کا چیک بھی ایف بی آر کو دے دیا ہے۔
اس کے علاوہ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور آئی سی ٹی نے بھی ایف بی آر کو ٹیکس واجبات کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کردی ہے جبکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی سمیت دیگر ڈیسکوز ٹیکس واجبات جمع کرانے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 بڑے ٹیکس دہندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کی توقع ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمے واجب الادا ٹیکسوں کی بھی 30 جون سے قبل ریکوری متوقع ہے کیونکہ بجٹ میں فنانس ایکٹ کے ذریعے پاکستان کرکٹ بورڈ کا معاملہ حل کردیا گیا ہے اور کرکٹ بورڈ کو پیشکش کی گئی ہے کہ وہ 30 جون تک اپنے واجبات فنانس ایکٹ میں متعارف کرائی جانے والی شرح کے مطابق ادا کرسکتا ہے البتہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو واجبات کلیئر کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مقدمات بھی واپس لینا ہوں گے۔
علاوہ ازیں ایف بی آر نے ٹیکس واجبات کی عدم ادائیگی پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرکے 6 ارب روپے سے زائد رقم نکلوالی۔ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی اے کے ذمہ اربوں روپے کے ٹیکس واجبات تھے جو ادا نہیںکیے جارہے تھے جس کے لیے ایف بی آر کی جانب سے پی ٹی اے حکام سے متعدد مرتبہ رابطہ بھی کیا گیا ہے اور لیٹر بھی لکھے گئے ہیں مگر پی ٹی اے کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا جس کے باعث ایف بی آر نے پی ٹی اے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی اے کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے اور قانون کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے واجبات کی وصولی کے لیے پی ٹی اے کے اکاؤنٹس میں موجود 6ارب روپے سے زائد رقم نکلوالی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر ٹیکس نادہندگان کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے جارہے ہیں، ایف بی آر ہر سال جون میں ٹیکس دہندگان کے خلاف اس طرح کی کاروائی کرتا ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے، اس مرتبہ چونکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف بڑا چیلنج ہے جس کے باعث ایف بی آر کی جانب سے ہہ اقدام کیے جارہے ہیں۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے آئندہ 2روز میں 36 ارب روپے کے لگ بھگ اضافی ٹیکس ریونیو درکار ہے جس کے لیے سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور آئل کمپنیوں، بینکوں سمیت دیگر بڑے ٹیکس دہندگان سے ان کے ذمے واجب الادا ٹیکس واجبات کی ریکوری کے لیے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سمیت دیگر کاروائیاں کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئیسکو کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے تھے جو ٹیکس واجبات کی ادائیگی کے لیے رضامندی پر بحال کردیے گئے، آئیسکو نے گزشتہ روز ٹیکس واجبات کی مد میں 1ارب روپے کا چیک بھی ایف بی آر کو دے دیا ہے۔
اس کے علاوہ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور آئی سی ٹی نے بھی ایف بی آر کو ٹیکس واجبات کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کردی ہے جبکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی سمیت دیگر ڈیسکوز ٹیکس واجبات جمع کرانے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 بڑے ٹیکس دہندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کی توقع ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمے واجب الادا ٹیکسوں کی بھی 30 جون سے قبل ریکوری متوقع ہے کیونکہ بجٹ میں فنانس ایکٹ کے ذریعے پاکستان کرکٹ بورڈ کا معاملہ حل کردیا گیا ہے اور کرکٹ بورڈ کو پیشکش کی گئی ہے کہ وہ 30 جون تک اپنے واجبات فنانس ایکٹ میں متعارف کرائی جانے والی شرح کے مطابق ادا کرسکتا ہے البتہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو واجبات کلیئر کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مقدمات بھی واپس لینا ہوں گے۔
علاوہ ازیں ایف بی آر نے ٹیکس واجبات کی عدم ادائیگی پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرکے 6 ارب روپے سے زائد رقم نکلوالی۔ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی اے کے ذمہ اربوں روپے کے ٹیکس واجبات تھے جو ادا نہیںکیے جارہے تھے جس کے لیے ایف بی آر کی جانب سے پی ٹی اے حکام سے متعدد مرتبہ رابطہ بھی کیا گیا ہے اور لیٹر بھی لکھے گئے ہیں مگر پی ٹی اے کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا جس کے باعث ایف بی آر نے پی ٹی اے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی اے کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے اور قانون کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے واجبات کی وصولی کے لیے پی ٹی اے کے اکاؤنٹس میں موجود 6ارب روپے سے زائد رقم نکلوالی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر ٹیکس نادہندگان کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے جارہے ہیں، ایف بی آر ہر سال جون میں ٹیکس دہندگان کے خلاف اس طرح کی کاروائی کرتا ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے، اس مرتبہ چونکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف بڑا چیلنج ہے جس کے باعث ایف بی آر کی جانب سے ہہ اقدام کیے جارہے ہیں۔