’’اُف یہ حساب‘‘

بہت کم طالب علم ایسے ہیں، جن کے پسندیدہ مضامین میں حساب بھی شامل ہے۔

ریاضی پڑھانے کا بہتر طریقہ اپنایا جائے تو اس میں طلباء کی دل چسپی پیدا کی جا سکتی ہے۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
''اُف، یہ حساب (میتھ میٹکس)، کس قدر مشکل مضمون ہے، کچھ سمجھ نہیں آرہا، کیسے حل کروں یہ سوال، سر نے جو طریقہ بتایا تھا، وہ بجائے خود ایک چیستان ہے۔ معلوم نہیں امتحان میں کام یابی حاصل ہو گی یا۔۔۔''

حساب واقعی ایک خشک مضمون ہے اور اکثر طالب علم ریاضی کی کتاب کھولنے کے بعد اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ بہت کم طالب علم ایسے ہیں، جن کے پسندیدہ مضامین میں حساب بھی شامل ہے۔ ابتدائی تعلیمی مدارج طے کرنے کے ساتھ اس مضمون سے متعلق الجھنیں بھی بڑھتی جاتی ہیں اور یہ طلباء کو مزید مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن دورانِ تعلیم انھیں یہ مضمون پڑھنا ہی پڑتا ہے۔

دنیا بھر میں ماہرینِ تعلیم حساب کے مضمون کو آسان اور دل چسپ بنانے کے طریقے اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بچوں میں ابتدا ہی سے حساب کتاب کی عادت ڈالنا سود مند ثابت ہوتا ہے۔ پرائمری سطح کے بچوں کو ہندسوں کی پہچان کے ساتھ گنتی سکھانے کے بعد کھیل ہی کھیل میں معمولی جمع و تفریق کا طریقہ، جب کہ اگلے تعلیمی درجوں میں دل چسپ انداز میں حساب کے دیگر سوالات کی مشق کروائی جائے تو آگے چل کر میتھ میٹکس کے مشکل اور پیچیدہ سوالات حل کرنا، ان کے لیے مسئلہ نہیں بنتا۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں دنیا کے دیگر ملکوں کے برعکس تعلیم و تربیت کے نئے طریقے اور انداز اپنانے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ اساتذہ اور تعلیمی ادارے لگے بندھے طریقۂ تدریس سے کام چلا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ریاضی ایک خشک اور دشوار مضمون کے طور پر طالب علموں میں پہچانا جاتا ہے۔

اگر ریاضی پڑھانے کا بہتر طریقہ اپنایا جائے تو اس میں طلباء کی دل چسپی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ریاضی کو مؤثر بنانے کے لیے استاد کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ طریقۂ تدریس بھی حساب کے مضمون کے مشکل ترین سوالات کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ ریاضی کے مضمون میں طالب علموں کی مشکلات کم نہ ہونے اور اس مضمون میں غیر تسلی بخش امتحانی نتائج کے اسباب میں اساتذہ کا جدید طریقۂ ہائے تعلیم سے ناواقف ہونا اور پھر اپنے فرائض اور ذمے داریوں سے غفلت برتنا بھی شامل ہے۔ ریاضی کی مؤثر تدریس کے لیے مقامی اساتذہ کا معیار تعلیم بلند کیا جائے۔ ماہرین تعلیم کی تجاویز اور آراء کی روشنی میں نصاب تشکیل دینے کے علاوہ طریقۂ تدریس بہتر بنانا جائے۔ اساتذہ دورانِ تدریس اپنے ہونے والے تجربات سے دیگر اساتذہ کو فائدہ پہنچائیں جب کہ ریاضی کے مضمون کے بنیادی قاعدوں کو اس کے اصولوں کے مطابق سمجھنے کی ضرورت بھی ہے۔

اس سلسلے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ ریاضی کا مضمون ابتدائی اور اعلیٰ تعلیمی مدارج کے نصاب میں نہایت اہمیت رکھتا ہے اور اس سے طلباء کسی صورت چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔ جب کہ ماہر نہ ہونے کے باوجود اساتذہ کو دورانِ تدریس اس مضمون کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے معلم کے لیے تعلیم کا مقصد اور بہتر تدریسی اصول جاننے کے بعد ریاضی پڑھانے کی اہمیت جاننا بھی ضروری ہے۔ استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاضی کے ایسے بنیادی تصورات اور اصولوں کو سمجھتا ہو، جن کو ایک فرد زندگی کے مختلف شعبوں میں حسب ضرورت استعمال کر سکے۔ ماہرین تعلیم کے نزدیک اساتذہ اس قابل ہوں کہ وہ طلباء میں حساب کے مضمون کو سیکھنے کی خواہش اور اس کا شوق پیدا کرسکیں۔ وہ بچوں کی حساب میں ذہنی مشق اس قدر پختہ کروائیں کہ وہ ریاضی کے قاعدوں کو عام زندگی میں استعمال کرنے کے قابل ہوں۔ ریاضی کے تمام اسرار کو سمجھنے کے لیے طلباء میں اتنی قابلیت پیدا کی جائے کہ وہ تیزی سے حل نکال سکیں۔


طالب علموں کے ساتھ ساتھ عام زندگی میں بھی ریاضی کا بہت دخل ہے اور روزانہ ہی افراد کو عام حساب کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کے معمولی فرد سے لے کر بڑے بڑے تاجر کی روزمرہ ضروریات میں شماریات کا دخل ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ ریاضی کا محتاج نظر آتا ہے۔ دنیا میں اشیاء و جان داروں کی گنتی، جمع و تفریق، تقسیم، پیمائش اور دیگر ناپ تول، مقدار کے پیمانے اور تعداد کا تعین وغیرہ تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ غرض عام آدمی سے لے کر حکومت کے کاموں میں بھی ریاضی سب سے بڑا آلہ ہے۔ ریاضی کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ کرنے کے بعد اس کی بہتر تدریس کی طرف توجہ دینا نہایت ضروری معلوم ہوتا ہے۔ علم نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی مضمون سے متعلق ذہنی تربیت کا عمل پیچیدگیوں اور مشکلات کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگر طلباء کو ریاضی کی صحیح تربیت دی جائے تو ان میں اپنے مضمون کے سوالات سے متعلق سوچنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور وہ اسے حل کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں۔

میتھ میٹکس، حساب یا ریاضی ایک ہی مضمون کے مختلف نام ہیں۔ تاہم اس کی مختلف شاخیں ہیں، جو طلباء سے سوچ بچار کے ساتھ ان کا وقت طلب کرتی ہیں۔ مثلاً جیومیٹری کے مسائل، الجبرا کے نتائج وغیرہ۔ میتھ میٹکس کی یہ شاخیں طلباء کی ذہنی قوت کی نشو و نما اور دماغی صلاحیتیں بڑھانے میں کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ ماہرین تعلیم اور نفسیات کا علم رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اساتذہ طالب علم کی بھرپور ''توجہ'' حاصل کر کے انھیں ریاضی کے سوالوں کی بہترین مشق کروا سکتے ہیں۔ ابتدائی جماعتوں کے بعد اگلے درجوں میں طلباء کو ریاضی کے زیادہ پیچیدہ سوالات حل کرنا پڑتے ہیں۔ ان کے لیے فارمولے استعمال ہوتے ہیں، جو اساتذہ انھیں رٹا دیتے ہیں۔ اکثر سوالات ایک سے زاید طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اساتذہ ایک ہی طریقہ بتا کر اپنی ذمے داری پوری کر دیتے ہیں۔

اس طرح طالب علم محدود ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ چند مزید طریقوں سے آگاہ ہو گا تو بہتر طور پر ریاضی کو سمجھ سکے گا اور اس کی دل چسپی بھی قائم ہو گی۔ بعض اساتذہ طلباء کی فارمولوں اور سوالات حل کرنے کے طریقوں سے متعلق راہ نمائی نہیں کرتے اور ایک ہی طریقہ بتانا کافی سمجھتے ہیں، جس کا نتیجہ ریاضی سے الجھاؤ کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس طرح طلباء کی ذہنی صلاحیتوں کو بھی ابھرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس کے برعکس جو طلباء زیادہ طریقوں سے ایک ہی سوال حل کرنا جانتے ہیں اور انھیں مختلف فارمولے سمجھنے کے بعد ان کا درست استعمال آتا ہے، وہ بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ریاضی کا مضمون دیگر نصابی کتب کے مقابلے میں طلباء کی ذہنی قوت کی نشو و نما میں انتہائی مثبت اور تیز کام کرتا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے مختلف تجربات کا حوالہ دیا ہے۔ مثلاً ماہرین نفسیات پر مشتمل تحقیقی ٹیم نے چند طلباء کے مختلف گروہ بنائے، ان میں ذہنی لحاظ سے اوسط معیار اور اوسط عمر کے طلباء شامل کیے گئے تھے، انھیں تھوڑے عرصے مختلف مضامین جب کہ ایک گروپ کو جیومیٹری کی تعلیم دی گئی۔ بعد میں ان کے امتحانات لیے گئے، جن کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جیومیٹری کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی ذہنی قوت دوسرے مضامین پڑھنے والے بچوں سے قدرے بہتر ہے۔ ریاضی کی تعلیم کی چند خصوصیات میں درست تفکر، اصلیت کی جانچ اور یقین شامل ہے اور یہ مضمون خصوصاً دماغی پختگی اور صلاحیتوں میں تیزی لانے کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان میں شعبۂ تعلیم کی زبوں حالی پر کچھ لکھنا ایک بے نتیجہ مشق سے زیادہ کچھ نہیں، لیکن اربابِ اختیار اور محکمۂ تعلیم کے کرتا دھرتاؤں سے ایک مرتبہ پھر درخواست ہے کہ وہ ملک میں شرحِ خواندگی بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور زیادہ سے زیادہ درس گاہیں قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ہر بچے کے لیے مفت تعلیم کا وعدہ پورا کریں۔ حکومت اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں سہولیات کی فراہمی ممکن بناتے ہوئے، قابل اور باصلاحیت اساتذہ کی تقرری عمل میں لائے۔

یہی نہیں بلکہ مضامین کی اہمیت اور ان کی افادیت کے پیشِ نظر اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کرے اور دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے تعلیمی نظام سے فائدہ اٹھانے کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کر کے ان کی تجاویز اور آراء پر عمل درآمد کیا جائے۔ پاکستان میں میتھ میٹکس کے مضمون میں طلباء کا گھٹتا ہوا رجحان یقیناً ایک غیر صحت مند بات ہے، جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ اگر ہمیں تعمیر اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھنا ہے، تو اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔
Load Next Story