پاک بھارت مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت ابھی تک واضح صورت میں سامنے نہیں آ رہی۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت ابھی تک واضح صورت میں سامنے نہیں آ رہی۔، فوٹو؛ فائل

وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے بدھ کو ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹ رہا' بھارتی وزیراعظم کا یہ کہنا کہ پاکستان مذاکرات نہیں کرنا چاہتا درست نہیں' اس حوالے سے ان کی یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے' حقیقت یہ ہے کہ بھارت پیچھے ہٹ رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسے مذاکرات کی میز پر کشمیر اور دیگر معاملات پر بات چیت کرنا ہو گی' پاکستان خطے کے مسائل کے حل کے لیے بھارت سے غیرمشروط مذاکرات کا خواہشمند ہے لیکن بھارت مذاکرات سے فرار حاصل کر رہا ہے' بھارت کے ساتھ شہری روابط' ویزا' ماہی گیروں کے مسائل' تجارت' معاشی تعاون اور دیگر مسائل کے حوالے سے بات چیت کے لیے جامع مذاکرات کی شکل موجود ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت ابھی تک واضح صورت میں سامنے نہیں آ رہی' ایک جانب دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اختلافات ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا ڈول ڈالا جاتا ہے تو دوسری جانب سرحدوں پر فائرنگ کا سلسلہ اس شدت سے شروع ہوتا ہے کہ پورے خطے کی فضا میں جنگ کے بادل منڈلانے لگتے ہیں اور یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ چند روز یونہی جاری رہا تو بات بڑھتے بڑھتے جنگ تک جا پہنچے گی اس کے ساتھ ساتھ دونوں جانب کے حکومتی ارکان بھی ماحول گرمانے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ چند دن تک یہ جنگی کیفیت برقرار رہتی ہے اس کے بعد ہر دو طرف سے مذاکرات کی آوازیں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔

یوں عیاں ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے حکومتی ارکان کی سوچ کا زاویہ درست نہیں، انھیں یہ معلوم ہی نہیں کہ انھوں نے ایک دوسرے کا دشمن بن کر رہنا ہے یا دوستانہ تعلقات استوار کرنے ہیں۔ دونوں ممالک میں مختلف لابیاں کام کر رہی ہیں' ایک لابی کا موقف ہے کہ جنگ سے سوائے تباہی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا' دونوں ممالک میں غربت' جہالت' بیماریاں اور دیگر بہت سے مسائل ہیں جو عشروں سے چلے آ رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، دونوں ممالک کی حکومتوں کو ان مسائل کے حل کی جانب توجہ دینی چاہیے اور جو بے پناہ سرمایہ وہ مہلک ہتھیاروں کی تیاری اور ایک دوسرے کو ختم کرنے پر خرچ کر رہی ہیں انھیں یہ رقم اپنے ملک اور عوام کی بہتری پر صرف کرنی چاہیے۔


لیکن ہر دو جانب کچھ ایسی طاقتور لابیاں بھی موجود ہیں جن کے مفادات دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات سے میل نہیں کھاتے' ان کے مفادات اسی میں ہیں کہ دونوں سرحدوں پر کشیدگی اور تناؤ کی فضا ہر دم موجود رہے' کیونکہ یہ لابیاں بخوبی جانتی ہیں کہ ان کی بقا اور معاشرے میں ساکھ اسی مخالفانہ رویے کی بنیاد پر قائم ہے۔ جب بھی پاک بھارت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو یہ لابیاں انھیں ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہو جاتی ہیں' کبھی سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تو کہیں مظاہرے کر کے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی اور عوام میں یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ دوستانہ تعلقات کی بات کرنے والے حکمران اپنے ملک اور قوم کے غدار ہیں۔

بھارتی سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ جو سیاسی لابی کام کر رہی ہے وہ انتہا پسندانہ اور پاکستان مخالف نظریات کی حامل ہے' لہٰذا یہ لابی کبھی نہیں چاہتی کہ مسئلہ کشمیر حل ہو' یوں معلوم ہوتا ہے کہ نریندر مودی اس لابی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں' اس لیے وہ مسئلہ کشمیر کی آڑ میں مذاکرات سے فرار حاصل کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اگر مذاکرات کا سلسلہ شروع بھی ہو تو اس میں مسئلہ کشمیر شامل نہ کیا جائے بلکہ اس کا ایجنڈا دہشت گردی پر مبنی ہو۔ لیکن پاکستان بار بار یہ واضح کر رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر' سیاچن اور سرکریک کے مسائل کے حوالے سے جامع مذاکرات ہوں گے۔

نریندر مودی مذاکرات میں مخلص ہوتے تو وہ کب سے یہ سلسلہ شروع کر چکے ہوتے' اٹل بہاری واجپائی کی مثال سامنے ہے جو مذاکرات کے لیے لاہور تشریف لائے تھے۔ عالمی سطح پر صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو ایسے اشارے ملتے ہیں کہ اقوام متحدہ' امریکا اور دیگر عالمی قوتیں بھی پاک بھارت مذاکرات شروع کرانے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہیں، اگر ان قوتوں کی خواہش ہوتی کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونا چاہیے تو وہ دونوں حکومتوں پر اپنا دباؤ بڑھاتیں اور یہ سلسلہ کب کا شروع ہو چکا ہوتا۔ جب دونوں ممالک کی قوتوں کو ادراک ہے کہ خطے کی سلامتی مذاکرات اور دوستانہ تعلقات میں مضمر ہے تو انھیں فی الفور اس کی جانب قدم بڑھانا چاہیے تاکہ امن دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو ناکام بنایا جا سکے۔
Load Next Story