کراچی مضبوط انفرااسٹرکچرسے محروم ایک سوال
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے شہر تہذیب ساز اور شہریوں کی شخصیت، ذوق نظر اور رویوں کی تشکیل کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے شہر تہذیب ساز اور شہریوں کی شخصیت، ذوق نظر اور رویوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ فوٹو؛ فائل
ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی لہر اور حبس کی صورت حال برقرار ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے مگر عجیب تضاد، نااہلی اور انتظامی بریک ڈاؤن ہے کہ ادھر کراچی میں بارش ہوئی ادھر سارا شہر جل تھل ہونے کے ساتھ ہی فعال ٹریفک، مضبوط سوک سسٹم کے تسلسل اور نکاسی آب کے فالٹ پروف میکنزم کے فقدان کے سبب زمیں بوس ہونے کی نوید دینے لگتا ہے، ملک کے سب سے بڑے تجارتی اور معاشی ہب میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ باران رحمت چند گھنٹوں میں زحمت نہ بن گئی ہو، بجلی غائب، لینڈ لائن فون بند، پانی کی قلت، برساتی نالوں میں غلاظتوں کے انبار، شاہراؤں اور فلائی اوورز پر بدترین ٹریفک جام، انڈر پاسز بن گئے سوئمنگ پول، مضافاتی اور نشیبی علاقوں کا زیر آب آ جانا معمول، لیکن ایوان صدر روڈ، سندھ سیکریٹریٹ، گورنر ہاؤس، سٹی کورٹ، یونیورسٹی روڈ، ٹاور، صدر، گلشن، کلفٹن، ڈیفنس جیسے اہم علاقے زیر آب آ گئے۔
ہر مون سون کی بارشوں میں کراچی انفرااسٹرکچر، شہری منصوبہ بندی، ایمرجنسی اقدامات، بارش و سیلاب سے بچاؤ، بین الشہرٹریفک نظام کے زوال سے دوچار ہونے کی تاریخ ساز شہرت رکھتا ہے، گزشتہ دو روز کی بارشوں نے شہر کا چہرہ مزید داغدار کر دیا، ملیر میں برسات نے تباہی مچا دی، کونکر برساتی نالے پر قبضے کے باعث برساتی ریلہ پشتے توڑتا ہوا آبادی میں داخل ہو گیا، یہ وہی ملیر کا علاقہ ہے جہاں قیام پاکستان سے قبل برٹش گورنمنٹ نے ملیر ندی کے پشتے سے متصل ڈملوٹی کے 14 شاندار برساتی کنویں تعمیر کرائے تھے جو انتظامی نااہلی، کرپشن اور بے حسی کے باعث تباہ ہوئے جب کہ شہریوں کو ان کنوؤں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے شہر تہذیب ساز اور شہریوں کی شخصیت، ذوق نظر اور رویوں کی تشکیل کرتے ہیں، اچھی طرز حکمرانی کا معیار شہروں کی بے مثال دیکھ بھال کے آئینہ میں نظر آتا ہے۔
اس اعتبار سے بارشوں سے پہلے اور اس کے بعد کے ہنگامی انتظامات کراچی کے شہر آشوب سے کم نہیں۔ ہر موسمی بارش پر اندوہناک ناکامی اور شہر نا پرساں کی حالت زار سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکمراں کراچی کے مطلوبہ انفرااسٹرکچر سے بے خبر ہیں یا پھر شہری انتظامیہ شہر قائد کو جسے عام اصطلاح میں آئینہ پاکستان کا درجہ حاصل ہے اپنی آنکھ اور روح کے دریچوں سے دیکھنے کی زحمت نہیں کرتی، ورنہ ان 67 برسوں میں آج کا کراچی کم از کم باران رحمت سے لطف اٹھانے کی اچھی پوزیشن میں ہونے کا مستحق تھا۔ بارشوں کا موسم گزرا نہیں، ارباب اختیار چاہیں تو کراچی کو ماڈل میگا سٹی بنانے کا خواب جلد شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
ہر مون سون کی بارشوں میں کراچی انفرااسٹرکچر، شہری منصوبہ بندی، ایمرجنسی اقدامات، بارش و سیلاب سے بچاؤ، بین الشہرٹریفک نظام کے زوال سے دوچار ہونے کی تاریخ ساز شہرت رکھتا ہے، گزشتہ دو روز کی بارشوں نے شہر کا چہرہ مزید داغدار کر دیا، ملیر میں برسات نے تباہی مچا دی، کونکر برساتی نالے پر قبضے کے باعث برساتی ریلہ پشتے توڑتا ہوا آبادی میں داخل ہو گیا، یہ وہی ملیر کا علاقہ ہے جہاں قیام پاکستان سے قبل برٹش گورنمنٹ نے ملیر ندی کے پشتے سے متصل ڈملوٹی کے 14 شاندار برساتی کنویں تعمیر کرائے تھے جو انتظامی نااہلی، کرپشن اور بے حسی کے باعث تباہ ہوئے جب کہ شہریوں کو ان کنوؤں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے شہر تہذیب ساز اور شہریوں کی شخصیت، ذوق نظر اور رویوں کی تشکیل کرتے ہیں، اچھی طرز حکمرانی کا معیار شہروں کی بے مثال دیکھ بھال کے آئینہ میں نظر آتا ہے۔
اس اعتبار سے بارشوں سے پہلے اور اس کے بعد کے ہنگامی انتظامات کراچی کے شہر آشوب سے کم نہیں۔ ہر موسمی بارش پر اندوہناک ناکامی اور شہر نا پرساں کی حالت زار سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکمراں کراچی کے مطلوبہ انفرااسٹرکچر سے بے خبر ہیں یا پھر شہری انتظامیہ شہر قائد کو جسے عام اصطلاح میں آئینہ پاکستان کا درجہ حاصل ہے اپنی آنکھ اور روح کے دریچوں سے دیکھنے کی زحمت نہیں کرتی، ورنہ ان 67 برسوں میں آج کا کراچی کم از کم باران رحمت سے لطف اٹھانے کی اچھی پوزیشن میں ہونے کا مستحق تھا۔ بارشوں کا موسم گزرا نہیں، ارباب اختیار چاہیں تو کراچی کو ماڈل میگا سٹی بنانے کا خواب جلد شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔