حسن ناصر کالونی
جن معاشروں میں اعلیٰ صلاحیتوں کی قدر نہیں ہوتی وہ معاشرے بتدریج بانجھ پن کا شکار ہوتے جاتے ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
جن معاشروں میں اعلیٰ صلاحیتوں کی قدر نہیں ہوتی وہ معاشرے بتدریج بانجھ پن کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ صلاحیتوں کے افراد کی قدر ہوتی ہے لیکن بعض شعبے ایسے ہیں جن میں کوئی خواہ کتنی ہی قربانیاں دے، قدر و منزلت سے محروم رہتا ہے۔
یہ غالباً 1955ء کا زمانہ تھا، لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں ماچس فیکٹری کام کر رہی تھی، اس دور میں اس ماچس فیکٹری کو ایشیا کی سب سے بڑی ماچس فیکٹری مانا جاتا تھا۔ میر لائق علی نے حیدرآباد دکن سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مہاجرین کے روزگار اور آبادکاری کے لیے لانڈھی کے صنعتی علاقے میں کئی فیکٹریاں قائم کی تھیں، ان میں ماچس فیکٹری اور سرامک فیکٹری بڑی فیکٹریاں مانی جاتی تھیں۔
اس بستی میں کچی اینٹوں کے مکان ہوا کرتے تھے، ہم بھی ایک کچی اینٹوں کے مکان میں رہتے تھے، ہمارے مکان کے ساتھ ایک بڑے کمرے پر مشتمل مکان تھا جس میں رزاق میکش اور محمد زبیر رہتے تھے۔ دونوں ٹریڈ یونین رہنما تھے اور لانڈھی میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کو منظم کرنے اور ان کے حقوق کی جدوجہد کی رہنمائی کرتے تھے۔ محمد زبیر متحدہ ہندوستان میں ایک ٹریڈ یونین رہنما کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ انڈین کمیونسٹ پارٹی کے متحرک کارکنوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ پاکستان آنے کے بعد انھوں نے لانڈھی انڈسٹریل ایریا کے مزدوروں کے حقوق کی لڑائی کی قیادت سنبھالی اور آخری سانس تک وہ مزدوروں کی جدوجہد میں شامل رہے۔
رزاق میکش اور محمد زبیر ساری زندگی مزدور طبقے کے حقوق کی لڑائی لڑتے رہے، اسی دوران کئی بار جیل گئے اور لمبی لمبی سزائیں کاٹیں، زبیر کی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزرا۔ زبیر نے شادی نہیں کی۔ جب ان سے شادی کے لیے کہا جاتا تو وہ ہنس کر کہتے میں نے تو ٹریڈ یونین سے شادی کر لی ہے۔ زندگی بھر مزدوروں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والا یہ بہادر انسان دل کے دورے کا شکار ہو کر دنیا سے چلا گیا۔
فیوچر کالونی کے قبرستان میں دفن ہوا، اب اس عظیم سپوت کی قبر کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ رزاق میکش کی ساری زندگی بھی سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خلاف لڑائی میں گزر گئی، میکش دل کا مریض تھا اس کی 3 شریانیں بند تھیں جس کی وجہ سے وہ زیادہ چل پھر نہیں سکتا تھا، لیکن مزدوروں کے حوالے سے ہونے والی کسی میٹنگ میں وہ لازمی طور پر شریک ہوتا۔ ڈاکٹروں نے اسے بائی پاس کرانے کا مشورہ دیا، وہ ایک عرصے تک ٹال مٹول سے کام لیتا رہا، اس کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں غریب طبقات کا علاج ذمے داری سے نہیں کیا جاتا۔ وہ لندن اور امریکا میں علاج کرانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ جب دل کی تکلیف زیادہ ہوئی تو جناح کارڈیو اسپتال میں ایڈمٹ ہو گیا اور آپریشن تھیٹر کی میز پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کا یہ گمان درست ثابت ہوا کہ ڈاکٹر غریب طبقات کے علاج میں غفلت سے کام لیتے ہیں، ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ محمد زبیر اور رزاق میکش دونوں ساری زندگی مزدوروں اور غریب طبقات کے حقوق کی لڑائی لڑتے رہے، لیکن وہ گمنام زندہ رہے، گمنام مر گئے۔
کیا عوام کے لیے زندہ رہنے، عوام کے لیے مرنے والوں کو شہید کہا جا سکتا ہے؟رزاق میکش اور محمد زبیر کے ایک کمرے کے محل میں حسن ناصر آتے رہتے تھے اور اس محل میں ہماری ملاقات حسن ناصر سے ہوتی تھی، حیدرآباد دکن کے ایک بڑے جاگیردار گھرانے کا یہ چشم و چراغ عیش و عشرت کی زندگی کو لات مار کر لانڈھی اور سائٹ کے صنعتی علاقے میں مزدوروں کے لیے لڑتا اور انھی کے ساتھ رہتا تھا۔ امریکا نے ایوب خان کی حکومت کو کولمبو پلان کے تحت بھاری مالی امداد دی، اسے خوف لاحق تھا کہ پسماندہ ملکوں کو اگر بھاری مالی امداد دے کر ان کی ہمدردیاں حاصل نہ کی گئیں تو سوشلسٹ بلاک پسماندہ ملکوں میں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اسی خوف کی وجہ سے امریکا نے کولمبو پلان کے تحت پاکستان کو بھی بھاری مالی امداد دی، جس کی وجہ کراچی میں بھی تیزی سے صنعتکاری ہوئی، لیکن امریکا نے امداد کے ساتھ یہ غیر تحریری شرط بھی لگا دی کہ ایوب حکومت ترقی پسند اور سامراج مخالف طاقتوں کے خلاف سخت اقدامات کرے گی۔
حسن ناصر کو گرفتار کر کے لاہور کے بدنام زمانہ قلعہ میں بند کر دیا گیا۔ اپنے خاندان، اپنے وطن سے دور یہ بہادر انسان جس کی زندگی کا ایک ایک دن استحصالی نظام اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف لڑائی میں گزرا اسے ایوب حکومت نے سخت ترین تشدد کر کے لاہور کے قلعے میں شہید کر دیا۔ کیا اس سے بڑا شہید پاکستان کی تاریخ میں کوئی گزرا ہے؟ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ چوروں، لٹیروں اور عوام دشمنوں کے نام کی تختیاں ہر جگہ نظر آتی ہیں لیکن حقیقی شہیدوں کی کوئی یادگار نہیں۔ حسن ناصر اور نذیر عباسی غریب طبقات کے حقوق کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ لانڈھی کالونی کو حسن ناصر کالونی اور کورنگی کو نذیر عباسی کالونی کا نام دیا جائے تو قوم کے ان محسنوں کو آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔
یہ غالباً 1955ء کا زمانہ تھا، لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں ماچس فیکٹری کام کر رہی تھی، اس دور میں اس ماچس فیکٹری کو ایشیا کی سب سے بڑی ماچس فیکٹری مانا جاتا تھا۔ میر لائق علی نے حیدرآباد دکن سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مہاجرین کے روزگار اور آبادکاری کے لیے لانڈھی کے صنعتی علاقے میں کئی فیکٹریاں قائم کی تھیں، ان میں ماچس فیکٹری اور سرامک فیکٹری بڑی فیکٹریاں مانی جاتی تھیں۔
اس بستی میں کچی اینٹوں کے مکان ہوا کرتے تھے، ہم بھی ایک کچی اینٹوں کے مکان میں رہتے تھے، ہمارے مکان کے ساتھ ایک بڑے کمرے پر مشتمل مکان تھا جس میں رزاق میکش اور محمد زبیر رہتے تھے۔ دونوں ٹریڈ یونین رہنما تھے اور لانڈھی میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کو منظم کرنے اور ان کے حقوق کی جدوجہد کی رہنمائی کرتے تھے۔ محمد زبیر متحدہ ہندوستان میں ایک ٹریڈ یونین رہنما کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ انڈین کمیونسٹ پارٹی کے متحرک کارکنوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ پاکستان آنے کے بعد انھوں نے لانڈھی انڈسٹریل ایریا کے مزدوروں کے حقوق کی لڑائی کی قیادت سنبھالی اور آخری سانس تک وہ مزدوروں کی جدوجہد میں شامل رہے۔
رزاق میکش اور محمد زبیر ساری زندگی مزدور طبقے کے حقوق کی لڑائی لڑتے رہے، اسی دوران کئی بار جیل گئے اور لمبی لمبی سزائیں کاٹیں، زبیر کی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزرا۔ زبیر نے شادی نہیں کی۔ جب ان سے شادی کے لیے کہا جاتا تو وہ ہنس کر کہتے میں نے تو ٹریڈ یونین سے شادی کر لی ہے۔ زندگی بھر مزدوروں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والا یہ بہادر انسان دل کے دورے کا شکار ہو کر دنیا سے چلا گیا۔
فیوچر کالونی کے قبرستان میں دفن ہوا، اب اس عظیم سپوت کی قبر کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ رزاق میکش کی ساری زندگی بھی سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خلاف لڑائی میں گزر گئی، میکش دل کا مریض تھا اس کی 3 شریانیں بند تھیں جس کی وجہ سے وہ زیادہ چل پھر نہیں سکتا تھا، لیکن مزدوروں کے حوالے سے ہونے والی کسی میٹنگ میں وہ لازمی طور پر شریک ہوتا۔ ڈاکٹروں نے اسے بائی پاس کرانے کا مشورہ دیا، وہ ایک عرصے تک ٹال مٹول سے کام لیتا رہا، اس کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں غریب طبقات کا علاج ذمے داری سے نہیں کیا جاتا۔ وہ لندن اور امریکا میں علاج کرانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ جب دل کی تکلیف زیادہ ہوئی تو جناح کارڈیو اسپتال میں ایڈمٹ ہو گیا اور آپریشن تھیٹر کی میز پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کا یہ گمان درست ثابت ہوا کہ ڈاکٹر غریب طبقات کے علاج میں غفلت سے کام لیتے ہیں، ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ محمد زبیر اور رزاق میکش دونوں ساری زندگی مزدوروں اور غریب طبقات کے حقوق کی لڑائی لڑتے رہے، لیکن وہ گمنام زندہ رہے، گمنام مر گئے۔
کیا عوام کے لیے زندہ رہنے، عوام کے لیے مرنے والوں کو شہید کہا جا سکتا ہے؟رزاق میکش اور محمد زبیر کے ایک کمرے کے محل میں حسن ناصر آتے رہتے تھے اور اس محل میں ہماری ملاقات حسن ناصر سے ہوتی تھی، حیدرآباد دکن کے ایک بڑے جاگیردار گھرانے کا یہ چشم و چراغ عیش و عشرت کی زندگی کو لات مار کر لانڈھی اور سائٹ کے صنعتی علاقے میں مزدوروں کے لیے لڑتا اور انھی کے ساتھ رہتا تھا۔ امریکا نے ایوب خان کی حکومت کو کولمبو پلان کے تحت بھاری مالی امداد دی، اسے خوف لاحق تھا کہ پسماندہ ملکوں کو اگر بھاری مالی امداد دے کر ان کی ہمدردیاں حاصل نہ کی گئیں تو سوشلسٹ بلاک پسماندہ ملکوں میں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اسی خوف کی وجہ سے امریکا نے کولمبو پلان کے تحت پاکستان کو بھی بھاری مالی امداد دی، جس کی وجہ کراچی میں بھی تیزی سے صنعتکاری ہوئی، لیکن امریکا نے امداد کے ساتھ یہ غیر تحریری شرط بھی لگا دی کہ ایوب حکومت ترقی پسند اور سامراج مخالف طاقتوں کے خلاف سخت اقدامات کرے گی۔
حسن ناصر کو گرفتار کر کے لاہور کے بدنام زمانہ قلعہ میں بند کر دیا گیا۔ اپنے خاندان، اپنے وطن سے دور یہ بہادر انسان جس کی زندگی کا ایک ایک دن استحصالی نظام اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف لڑائی میں گزرا اسے ایوب حکومت نے سخت ترین تشدد کر کے لاہور کے قلعے میں شہید کر دیا۔ کیا اس سے بڑا شہید پاکستان کی تاریخ میں کوئی گزرا ہے؟ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ چوروں، لٹیروں اور عوام دشمنوں کے نام کی تختیاں ہر جگہ نظر آتی ہیں لیکن حقیقی شہیدوں کی کوئی یادگار نہیں۔ حسن ناصر اور نذیر عباسی غریب طبقات کے حقوق کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ لانڈھی کالونی کو حسن ناصر کالونی اور کورنگی کو نذیر عباسی کالونی کا نام دیا جائے تو قوم کے ان محسنوں کو آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔