دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت
فوج ، پولیس، رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے فرائض منصبی ذمے داری سے ادا کیے۔
تصادم اور شر پسندوں نے گڑبڑ کی کوشش کی مگر سیکیورٹی پر مامور اداروں کے چوکس اور ہائی الرٹ دستوں نے صورتحال کو کنٹرول کیا. فوٹو: فائل
خدا کا شکر ہے کہ یوم عاشور بہ حیثیت مجموعی بخیر وعافیت گزر گیا۔تاہم دہشت گردوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں بم دھماکا کیا جس میں 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، یہ ریموٹ کنٹرول دھماکا تھا ،ملک کے دیگر بعض شہروں میں بھی دھما کے ہوئے۔
تصادم اور شر پسندوں نے گڑبڑ کی کوشش کی مگر سیکیورٹی پر مامور اداروں کے چوکس اور ہائی الرٹ دستوں نے صورتحال کو کنٹرول کیا اور ملک میں دہشت گردی کی خوں ریزتاریخ رقم کرنے والوں کے منصوبوں پر پانی پھر گیا۔چنانچہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں عاشورہ محرم، شہادت نواسہ رسولؐؐ حضرت امام حسینؓ اتوار10محرم کو انتہائی عقیدت و احترام، مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا ۔مختلف شہروں میں ذوالجناح،علم،تعزیہ کے جلوس نکالے گئے، مجالس عزاء میں علمائے کرام اور ذاکرین عظام شہادت حضرت امام حسینؓ اور فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی ۔شہدائے کربلاکی قربانی کوخراج تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف شہروں میں مرکزی جلوس امام بارگاہوں سے نویں اوردسویں محرم کی درمیانی شب برآمد ہوئے جو دسویں محرم کی شام کو اپنی منزل مقصود پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئے جس کے بعد شام غریباں منائی گئی۔
اب جب کہ عشرہ محرم اختتام پذیر ہوا مگر دہشت گردی کے تانے بانے بننے والے اپنی مذموم کارروائیوں کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے اپنے عزائم سمیت کسی بھی وقت ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے سے اب بھی باز نہیں آئیں گے۔حکومتی سطح پر محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے ہولناک وارداتوں کی پیشگی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات اگرچہ قابل تحسین کہے جاسکتے ہیں جن کے باعث بدامنی اور تخریب کاری کے اکا دکا واقعات کے سوا ملک میں عاشورہ محرم جہاں عقیدت و احترام سے منایا گیا وہاں عوام کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ ریاستی اور حکومتی سطح پر وزارت داخلہ اور صوبائی حکومتوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مربوط سیکیورٹی پلاننگ ،موثر حفاظتی اقدامات اور ہائی الرٹ کے احکامات پر فوج ،پولیس،رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے نہ صرف اپنے فرائض منصبی ذمے داری سے ادا کیے بلکہ پوری تندہی سے سیکیورٹی اقدامات کو نتیجہ خیز بناکر دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنادیے اور اس تاثر کو کہ دہشت گرد کچھ بھی کرسکتے ہیں رد کرنے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ہر لمحہ سیکیورٹی ٹائٹ رکھنے کا موثر مکینزم تیار کیا جو عشرہ محرم کے دوران مقابلتاً کارگر ثابت ہوا۔واضح رہے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے پیشگی کہا تھا کہ کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کی پنجاب کی طرف روانگی کی اطلاع تھی ۔
یہ دہشتگرد پنجاب کو نشانہ بنانے پر مصر ہیں لیکن ان کے عزائم کو پورا نہیں ہونے دیا جائے گا اور انشااللہ ان کو جلد گرفتار کر لیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا اگرچہ دہشت گردوں نے میری اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دی ہے، تاہم دہشتگردوں کے عزائم ناکام بنا دینگے۔ سیکیورٹی کے بھرپوراقدامات کر رکھے ہیں اللہ نے چاہا تو دھماکے نہیں ہونے دیں گے ۔ ان بیانات سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے ضرور بڑھے لیکن چند بنیادی حقیقتوں کو بھی عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے جو تاریخی تناظر لیے ہوئے ہیں۔ ایک بڑی سچائی تو یہ ہے کہ یوم عاشور میں امن قائم کرنے کے لیے عوام کے معمولات سماجی،اور معاشی اعتبار سے دشوار بنا دیے گئے، ملک بھر میں کرفیواورحالت جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوئی، خوف وہراس نے کراچی ،اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، پشاور سمیت تمام بڑے شہروں کے عوام کو اعصابی دبائو میں مبتلا رکھا جب کہ اس مہینے کے تقدس، حرمت کو مد نظر رکھتے ہوئے جبر وستم کی باطل قوتوں سے ستیزہ کار رہنے کے آفاقی پیغام کے تحت عرصہ حیات دہشت گردوں پر تنگ کرنا چاہیے تھا ۔
دوسری طرف موبائل فون سروس جو عوامی رابطہ کا موثر ترین وسیلہ ہے اس کی ملک گیر بندش ، شاہراہوں پر واقع بڑی مارکیٹوں اور اہم تجارتی مراکز کی دکانوں پر تالے اور پھر ان تالوں کو سر بہ مہر کرنے کی حکمت عملی نے دہشت گردوں کے کیمپ میں مسرت کی لہر بھی دوڑائی ہوگی کہ حکومت مضطرب بھی ہے اور پریشان بھی۔ لیکن عوام بلاشبہ صبر وتحمل کی تاریخ رقم کر گئے۔اس لیے ارباب اختیار دہشت گردوں سے نمٹنے میں طالبان سمیت کالعدم تنظیموں، متحارب مذہبی اور فرقہ وارانہ تحریکوں اور جماعتوں کے نظریات اور ان کی وارداتوں کے فکری پہلوئوں کا موثر جواب دینے کی تیاری کریں ۔ حکمرانوں کو سوچنا اور ادراک کرنا چاہیے کہ سرد جنگ کے دوران استعماراور سامراج نے جو مذہبی کیڈر تیار کیا ، مروجہ مذہبی اقدار اور خطے کی روادارانہ دینی ،تہذیبی اور ثقافتی نظام خیال سے اس سوچ کو کوئی نسبت نہ تھی ، جن قوتوں نے اپنے مفادات کے لیے مذہبی سوچ کے اس ''جن'' کی پرورش کی وہی آج دہشتگردی کی بوتل سے باہر نکل آیا ہے۔
ارباب حکومت کو طالبان کی تعمیر میں مضمر خرابیوں کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کیونکہ اسلامی جہاد جو روس کے خلاف شروع ہوا تھا اس میں انکل سام نے ہمارے ہی مذہبی عناصر کو اسلامی مجاہدین کی صورت میں افغانستان بھیجا تھا۔اور وہی آج امریکا کے لیے دہشت گرد ہیں۔چنانچہ یہ رویہ،یہ سوچ اور ریڈیکل اسلام کی جارحانہ اور بربریت پر مبنی فلاسفی اور حملوں کی وحشیانہ منصوبہ بندی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ،اس لیے اس کا راستہ روکنے کے لیے حکمرانوں کو ابھی سے طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ بلاشبہ عوام نے وزیر داخلہ رحمن ملک کے احکامات ملک وقوم کے عظیم تر مفاد میں بالجبر قبول کیے تاکہ دہشت گردی کو قابوکرنے کے لیے حکومت کی مدد کی جاسکے۔ مگر سیاسی جماعتوں ملکی اشرافیہ اور اس سے منسلک دیگر اہل اقتدار کو یزیدیت اور باطل قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے عارضی اقدامات کے حصار اور سرد جنگ کے مائنڈ سیٹ سے اب فی الفور باہر نکلنا ہوگااور یک قطبی دنیا کے موجودہ منظر نامہ اور پچھلی مذہبی جنگوں اور اسلامی جہادی قوتوں، مسلم معاشروں میں القاعدہ،طالبان اور دیگر متشدد عناصر کے ریڈیکل اسلام کے انسانیت کش رجحانات کی آڑ میں جو مذہبی استبدادیت جمہوری معاشروں پر تھوپنے کی مہم جوئی شروع کی گئی ہے اس سے پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں کو دہشت گردی اور ریاستی نظام کے انہدام کی جابرانہ وارداتوں اور تحریکوں کا سامنا ہے۔
اس سے نمٹنے کے لیے عوام کی مشکلات کم کی جائیں جس کے لیے صرف قوت ارادی ، قومی اتفاق رائے،یکجہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کے جذبہ اور تعلیم کی ضرورت ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے یوم عاشور پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں استقامت حسینؓ اور صبر اہل بیت کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عہد کرنا ہوگا، ہمیں فروعی اختلافات کو بھلا کر اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کو اپنانا ہو گا، امن سلامتی، بھائی چارے، صبر اور استقامت جیسی اعلیٰ صفات کو فروغ دینا ہو گا، غم حسینؓ میں سرشار ہو کر یہ عہد کریں کہ حق و باطل کی لڑائی میں ہم استقامت حسینؓ اور صبر اہل بیت کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔صدر و وزیراعظم نے شہیدان کربلا کی عظیم قربانی کے وسیع تر تناظر میں فروعی اختلافات کو بھلانے کی جو تلقین کی ہے وہ دہشت گردی کے خلاف پہلا قدم ہے۔ امت مسلمہ کو سامراجی ممالک نے ان کے اپنے مسلکی اور فرقہ ارانہ گرداب میں پھنسا کرامہ کا جو حشر کیا ہے اسی کی وجہ سے عالم اسلام متحد نہیں، طرز حکمرانی میں اسلامی قدروں کے فقدان، عدم استقامت کے باعث سچ کی خاطر سردار جانے کی کوئی روایت نہ تونظر آتی ہے اور نہ کوئی سرمد اور منصور حلاج جیسا قلندر باطل پرستوں کے خلاف نعرہ مستانہ بلند کرنے کو تیار ہے۔ہر طرف دہشت گرد ہی نظر آتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم ظلم، جبر،اور ناانصافی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے جس میں کوئی دہشت گرد آیندہ شگاف ڈالنے کی جرات نہ کرسکے۔
تصادم اور شر پسندوں نے گڑبڑ کی کوشش کی مگر سیکیورٹی پر مامور اداروں کے چوکس اور ہائی الرٹ دستوں نے صورتحال کو کنٹرول کیا اور ملک میں دہشت گردی کی خوں ریزتاریخ رقم کرنے والوں کے منصوبوں پر پانی پھر گیا۔چنانچہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں عاشورہ محرم، شہادت نواسہ رسولؐؐ حضرت امام حسینؓ اتوار10محرم کو انتہائی عقیدت و احترام، مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا ۔مختلف شہروں میں ذوالجناح،علم،تعزیہ کے جلوس نکالے گئے، مجالس عزاء میں علمائے کرام اور ذاکرین عظام شہادت حضرت امام حسینؓ اور فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی ۔شہدائے کربلاکی قربانی کوخراج تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف شہروں میں مرکزی جلوس امام بارگاہوں سے نویں اوردسویں محرم کی درمیانی شب برآمد ہوئے جو دسویں محرم کی شام کو اپنی منزل مقصود پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئے جس کے بعد شام غریباں منائی گئی۔
اب جب کہ عشرہ محرم اختتام پذیر ہوا مگر دہشت گردی کے تانے بانے بننے والے اپنی مذموم کارروائیوں کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے اپنے عزائم سمیت کسی بھی وقت ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے سے اب بھی باز نہیں آئیں گے۔حکومتی سطح پر محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے ہولناک وارداتوں کی پیشگی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات اگرچہ قابل تحسین کہے جاسکتے ہیں جن کے باعث بدامنی اور تخریب کاری کے اکا دکا واقعات کے سوا ملک میں عاشورہ محرم جہاں عقیدت و احترام سے منایا گیا وہاں عوام کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ ریاستی اور حکومتی سطح پر وزارت داخلہ اور صوبائی حکومتوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مربوط سیکیورٹی پلاننگ ،موثر حفاظتی اقدامات اور ہائی الرٹ کے احکامات پر فوج ،پولیس،رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے نہ صرف اپنے فرائض منصبی ذمے داری سے ادا کیے بلکہ پوری تندہی سے سیکیورٹی اقدامات کو نتیجہ خیز بناکر دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنادیے اور اس تاثر کو کہ دہشت گرد کچھ بھی کرسکتے ہیں رد کرنے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ہر لمحہ سیکیورٹی ٹائٹ رکھنے کا موثر مکینزم تیار کیا جو عشرہ محرم کے دوران مقابلتاً کارگر ثابت ہوا۔واضح رہے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے پیشگی کہا تھا کہ کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کی پنجاب کی طرف روانگی کی اطلاع تھی ۔
یہ دہشتگرد پنجاب کو نشانہ بنانے پر مصر ہیں لیکن ان کے عزائم کو پورا نہیں ہونے دیا جائے گا اور انشااللہ ان کو جلد گرفتار کر لیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا اگرچہ دہشت گردوں نے میری اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دی ہے، تاہم دہشتگردوں کے عزائم ناکام بنا دینگے۔ سیکیورٹی کے بھرپوراقدامات کر رکھے ہیں اللہ نے چاہا تو دھماکے نہیں ہونے دیں گے ۔ ان بیانات سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے ضرور بڑھے لیکن چند بنیادی حقیقتوں کو بھی عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے جو تاریخی تناظر لیے ہوئے ہیں۔ ایک بڑی سچائی تو یہ ہے کہ یوم عاشور میں امن قائم کرنے کے لیے عوام کے معمولات سماجی،اور معاشی اعتبار سے دشوار بنا دیے گئے، ملک بھر میں کرفیواورحالت جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوئی، خوف وہراس نے کراچی ،اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، پشاور سمیت تمام بڑے شہروں کے عوام کو اعصابی دبائو میں مبتلا رکھا جب کہ اس مہینے کے تقدس، حرمت کو مد نظر رکھتے ہوئے جبر وستم کی باطل قوتوں سے ستیزہ کار رہنے کے آفاقی پیغام کے تحت عرصہ حیات دہشت گردوں پر تنگ کرنا چاہیے تھا ۔
دوسری طرف موبائل فون سروس جو عوامی رابطہ کا موثر ترین وسیلہ ہے اس کی ملک گیر بندش ، شاہراہوں پر واقع بڑی مارکیٹوں اور اہم تجارتی مراکز کی دکانوں پر تالے اور پھر ان تالوں کو سر بہ مہر کرنے کی حکمت عملی نے دہشت گردوں کے کیمپ میں مسرت کی لہر بھی دوڑائی ہوگی کہ حکومت مضطرب بھی ہے اور پریشان بھی۔ لیکن عوام بلاشبہ صبر وتحمل کی تاریخ رقم کر گئے۔اس لیے ارباب اختیار دہشت گردوں سے نمٹنے میں طالبان سمیت کالعدم تنظیموں، متحارب مذہبی اور فرقہ وارانہ تحریکوں اور جماعتوں کے نظریات اور ان کی وارداتوں کے فکری پہلوئوں کا موثر جواب دینے کی تیاری کریں ۔ حکمرانوں کو سوچنا اور ادراک کرنا چاہیے کہ سرد جنگ کے دوران استعماراور سامراج نے جو مذہبی کیڈر تیار کیا ، مروجہ مذہبی اقدار اور خطے کی روادارانہ دینی ،تہذیبی اور ثقافتی نظام خیال سے اس سوچ کو کوئی نسبت نہ تھی ، جن قوتوں نے اپنے مفادات کے لیے مذہبی سوچ کے اس ''جن'' کی پرورش کی وہی آج دہشتگردی کی بوتل سے باہر نکل آیا ہے۔
ارباب حکومت کو طالبان کی تعمیر میں مضمر خرابیوں کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کیونکہ اسلامی جہاد جو روس کے خلاف شروع ہوا تھا اس میں انکل سام نے ہمارے ہی مذہبی عناصر کو اسلامی مجاہدین کی صورت میں افغانستان بھیجا تھا۔اور وہی آج امریکا کے لیے دہشت گرد ہیں۔چنانچہ یہ رویہ،یہ سوچ اور ریڈیکل اسلام کی جارحانہ اور بربریت پر مبنی فلاسفی اور حملوں کی وحشیانہ منصوبہ بندی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ،اس لیے اس کا راستہ روکنے کے لیے حکمرانوں کو ابھی سے طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ بلاشبہ عوام نے وزیر داخلہ رحمن ملک کے احکامات ملک وقوم کے عظیم تر مفاد میں بالجبر قبول کیے تاکہ دہشت گردی کو قابوکرنے کے لیے حکومت کی مدد کی جاسکے۔ مگر سیاسی جماعتوں ملکی اشرافیہ اور اس سے منسلک دیگر اہل اقتدار کو یزیدیت اور باطل قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے عارضی اقدامات کے حصار اور سرد جنگ کے مائنڈ سیٹ سے اب فی الفور باہر نکلنا ہوگااور یک قطبی دنیا کے موجودہ منظر نامہ اور پچھلی مذہبی جنگوں اور اسلامی جہادی قوتوں، مسلم معاشروں میں القاعدہ،طالبان اور دیگر متشدد عناصر کے ریڈیکل اسلام کے انسانیت کش رجحانات کی آڑ میں جو مذہبی استبدادیت جمہوری معاشروں پر تھوپنے کی مہم جوئی شروع کی گئی ہے اس سے پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں کو دہشت گردی اور ریاستی نظام کے انہدام کی جابرانہ وارداتوں اور تحریکوں کا سامنا ہے۔
اس سے نمٹنے کے لیے عوام کی مشکلات کم کی جائیں جس کے لیے صرف قوت ارادی ، قومی اتفاق رائے،یکجہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کے جذبہ اور تعلیم کی ضرورت ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے یوم عاشور پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں استقامت حسینؓ اور صبر اہل بیت کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عہد کرنا ہوگا، ہمیں فروعی اختلافات کو بھلا کر اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کو اپنانا ہو گا، امن سلامتی، بھائی چارے، صبر اور استقامت جیسی اعلیٰ صفات کو فروغ دینا ہو گا، غم حسینؓ میں سرشار ہو کر یہ عہد کریں کہ حق و باطل کی لڑائی میں ہم استقامت حسینؓ اور صبر اہل بیت کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔صدر و وزیراعظم نے شہیدان کربلا کی عظیم قربانی کے وسیع تر تناظر میں فروعی اختلافات کو بھلانے کی جو تلقین کی ہے وہ دہشت گردی کے خلاف پہلا قدم ہے۔ امت مسلمہ کو سامراجی ممالک نے ان کے اپنے مسلکی اور فرقہ ارانہ گرداب میں پھنسا کرامہ کا جو حشر کیا ہے اسی کی وجہ سے عالم اسلام متحد نہیں، طرز حکمرانی میں اسلامی قدروں کے فقدان، عدم استقامت کے باعث سچ کی خاطر سردار جانے کی کوئی روایت نہ تونظر آتی ہے اور نہ کوئی سرمد اور منصور حلاج جیسا قلندر باطل پرستوں کے خلاف نعرہ مستانہ بلند کرنے کو تیار ہے۔ہر طرف دہشت گرد ہی نظر آتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم ظلم، جبر،اور ناانصافی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے جس میں کوئی دہشت گرد آیندہ شگاف ڈالنے کی جرات نہ کرسکے۔