متنازعہ انٹرویو کی بازگشت
سیاستدانوں کے کسی بھی غیرذمے دارانہ بیان کا بھارت اور افغانستان فائدہ اٹھا سکتے ہیں
سیاستدانوں کے ذاتی نظریات خواہ کچھ بھی ہوں انھیں ملکی اور غیر ملکی سطح پر بیانات دیتے ہوئے احتیاط برتنا چاہیے۔ فوٹو: فائل
افغانستان کے معروف اخبار افغانستان ٹائمز نے گزشتہ روز پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا ایک متنازعہ انٹرویو شایع کیا۔ اخبار نے اس انٹرویو میں محمود خان اچکزئی سے یہ بات منسوب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا افغانوں کا ہے اور افغان مہاجرین جب تک چاہیں بلاخوف و خطر رہ سکتے ہیں انھیں ان کی زمین پر ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر افغان مہاجرین کو دوسرے صوبوں میں پریشان کیا جائے تو وہ خیبرپختونخوا آ کر آرام سے رہ سکتے ہیں، خیبرپختونخوا میں کوئی ان سے پناہ گزین کارڈ نہیں مانگے گا، افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی پر پاکستانی پشتونوں کو بھی تشویش ہے، پاک افغان سرحدی تنازع پر بہتر ہے کہ پاکستان اور افغانستان آپس میں مل کر ہی مسئلہ حل کرلیں ورنہ چین اور امریکا کو کہیں تو وہ دو ہفتے میں یہ معاملہ طے کر دیں گے۔
بعدازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ افغان اخبار نے ان کا موقف غلط پیش کیا، انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ خیبرپختونخوا تاریخی طور پر افغانستان کا حصہ رہا ہے، یہ نہیں کہا تھا کہ خیبرپختونخوا افغانوں کا ہے۔ محمود خان اچکزئی کے متنازعہ انٹرویو کے منظرعام پر آنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محمود اچکزئی کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، انھوں نے سب پاکستانیوں کے سرشرم سے جھکا دیے ہیں، کیا خیبرپختونخوا کے بغیر پاکستان کا تصور کیا جا سکتا ہے؟ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے 1947 میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا نہ کہ افغانستان کے، ایسے بیانات اور انٹرویو کا مطلب مسائل اور مشکلات پیدا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں، کیا محمود اچکزئی خیبرپختونخوا کے بغیر ایک مکمل پاکستان کا تصور بھی کر سکتے ہیں؟ پاکستان صرف پاکستانیوں کا ہے اور پاکستانی ہی اس کے مستقل شہری ہیں۔
محمود خان اچکزئی قابل احترام اور محب وطن سیاستدان ہیں، وہ محض بلوچستان نہیں بلکہ ملک بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، ان کی شہرت ایک اصول پسند سیاستدان کی ہے۔ وہ حکومت کا بھی حصہ ہیں انھیں ملکی یا غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کہ بعد میں تردید کرنے کی نوبت آجائے۔ بعض سیاستدان قوم پرستی اور لسانیت کی آڑ میں کچھ ایسے بیانات دے دیتے ہیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جب ان پر تنقید ہوتی ہے تو انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے کہے ہوئے بیانات کی تردید کرنے لگتے ہیں۔
حیرت انگیز امر ہے کہ متنازعہ بیانات دینے والے قوم پرست اور لسانیت پسند سیاستدان ریاست پاکستان سے ہر طرح کے مفادات حاصل کرتے ہیں، ان کے کاروبار بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر موجود ہیں اور وہ سیاسی بنیادوں پر حکومت میں شریک ہو کر ہر طرح کی سہولتیں بھی حاصل کرتے ہیں مگر جب بیانات کی باری آتی ہے تو وہ بعض اوقات ایسے متنازعہ بیانات دے دیتے ہیں جس سے پرویز خٹک کی زبان میں کہ ''انھوں نے سب پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں'' کا جملہ ان پر صادق آتا ہے۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے تعلقات جس نہج پر ہیں اس کا سب کو بخوبی علم ہے۔ سیاستدانوں کے کسی بھی غیرذمے دارانہ بیان کا بھارت اور افغانستان فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لیے سیاستدانوں کے ذاتی نظریات خواہ کچھ بھی ہوں انھیں ملکی اور غیر ملکی سطح پر بیانات دیتے ہوئے احتیاط برتنا چاہیے۔
اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ خیبرپختونخوا افغانوں کا ہے تو کیا خیبرپختونخوا کے رہنے والوں کے لیے بھی افغان حکومت اور وہاں کے سیاسی رہنما ایسے ہی مشفقانہ اور محبت سے لبریز جذبات رکھتے ہیں؟ کیا وہ بھی خیبرپختونخوا کے رہنے والوں جن میں پشتون بھی ہیں، ہزاروی اور پنجابی بھی ہیں، کو افغانستان میں وہی سہولتیں، حیثیت اور مقام دینے کے لیے تیار ہیں جو ہمارے قوم پرست سیاستدان افغان مہاجرین کو پاکستان کی سرزمین پر دینے کی باتیں کر رہے ہیں، کیا افغان سیاستدانوں نے کبھی یہ کہا ہے کہ افغان سرزمین خیبرپختونخوا کے رہنے والوں کی ہے اور وہ جب چاہیں بلاخوف و خطر یہاں رہ سکتے ہیں۔ جب افغانوں کے پاکستانیوں کے بارے میں ایسے جذبات نہیں تو پھر ہمارے سیاستدانوں کو محتاط روری اختیار کرنی چاہیے۔
افغانستان کی جیلوں میں ہزاروں پاکستانی معمولی نوعیت کے جرائم یا سفری دستاویزات کے حوالے سے عرصے سے قید ہیں، ہمارے قوم پرست سیاستدان اپنے ان ہم وطن قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز کیوں نہیں بلند کرتے۔ افغانستان کی حکومت اگر چند سیاستدانوں کو خوش آمدید کہتی ہے تو وہ یہ ایک حکمت عملی کے تحت ایسا کرتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر پاکستانی کے بارے میں ایسے ہی جذبات رکھتی ہے۔ سیاستدانوں کے ذاتی اور سیاسی نظریات خواہ کچھ بھی ہوں انھیں ایک بات طے کر لینی چاہیے کہ ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ عوام کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں لہٰذا انھیں کوئی ایسا بیان یا انٹرویو نہیں دینا چاہیے جو ذومعنویت کا حامل ہو۔بہر حال محمود اچکزئی نے انٹرویومیں کہی گئی باتوں کی تردید کی ہے، یہ خوش آیند ہے ۔
بعدازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ افغان اخبار نے ان کا موقف غلط پیش کیا، انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ خیبرپختونخوا تاریخی طور پر افغانستان کا حصہ رہا ہے، یہ نہیں کہا تھا کہ خیبرپختونخوا افغانوں کا ہے۔ محمود خان اچکزئی کے متنازعہ انٹرویو کے منظرعام پر آنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محمود اچکزئی کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، انھوں نے سب پاکستانیوں کے سرشرم سے جھکا دیے ہیں، کیا خیبرپختونخوا کے بغیر پاکستان کا تصور کیا جا سکتا ہے؟ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے 1947 میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا نہ کہ افغانستان کے، ایسے بیانات اور انٹرویو کا مطلب مسائل اور مشکلات پیدا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں، کیا محمود اچکزئی خیبرپختونخوا کے بغیر ایک مکمل پاکستان کا تصور بھی کر سکتے ہیں؟ پاکستان صرف پاکستانیوں کا ہے اور پاکستانی ہی اس کے مستقل شہری ہیں۔
محمود خان اچکزئی قابل احترام اور محب وطن سیاستدان ہیں، وہ محض بلوچستان نہیں بلکہ ملک بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، ان کی شہرت ایک اصول پسند سیاستدان کی ہے۔ وہ حکومت کا بھی حصہ ہیں انھیں ملکی یا غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کہ بعد میں تردید کرنے کی نوبت آجائے۔ بعض سیاستدان قوم پرستی اور لسانیت کی آڑ میں کچھ ایسے بیانات دے دیتے ہیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جب ان پر تنقید ہوتی ہے تو انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے کہے ہوئے بیانات کی تردید کرنے لگتے ہیں۔
حیرت انگیز امر ہے کہ متنازعہ بیانات دینے والے قوم پرست اور لسانیت پسند سیاستدان ریاست پاکستان سے ہر طرح کے مفادات حاصل کرتے ہیں، ان کے کاروبار بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر موجود ہیں اور وہ سیاسی بنیادوں پر حکومت میں شریک ہو کر ہر طرح کی سہولتیں بھی حاصل کرتے ہیں مگر جب بیانات کی باری آتی ہے تو وہ بعض اوقات ایسے متنازعہ بیانات دے دیتے ہیں جس سے پرویز خٹک کی زبان میں کہ ''انھوں نے سب پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں'' کا جملہ ان پر صادق آتا ہے۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے تعلقات جس نہج پر ہیں اس کا سب کو بخوبی علم ہے۔ سیاستدانوں کے کسی بھی غیرذمے دارانہ بیان کا بھارت اور افغانستان فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لیے سیاستدانوں کے ذاتی نظریات خواہ کچھ بھی ہوں انھیں ملکی اور غیر ملکی سطح پر بیانات دیتے ہوئے احتیاط برتنا چاہیے۔
اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ خیبرپختونخوا افغانوں کا ہے تو کیا خیبرپختونخوا کے رہنے والوں کے لیے بھی افغان حکومت اور وہاں کے سیاسی رہنما ایسے ہی مشفقانہ اور محبت سے لبریز جذبات رکھتے ہیں؟ کیا وہ بھی خیبرپختونخوا کے رہنے والوں جن میں پشتون بھی ہیں، ہزاروی اور پنجابی بھی ہیں، کو افغانستان میں وہی سہولتیں، حیثیت اور مقام دینے کے لیے تیار ہیں جو ہمارے قوم پرست سیاستدان افغان مہاجرین کو پاکستان کی سرزمین پر دینے کی باتیں کر رہے ہیں، کیا افغان سیاستدانوں نے کبھی یہ کہا ہے کہ افغان سرزمین خیبرپختونخوا کے رہنے والوں کی ہے اور وہ جب چاہیں بلاخوف و خطر یہاں رہ سکتے ہیں۔ جب افغانوں کے پاکستانیوں کے بارے میں ایسے جذبات نہیں تو پھر ہمارے سیاستدانوں کو محتاط روری اختیار کرنی چاہیے۔
افغانستان کی جیلوں میں ہزاروں پاکستانی معمولی نوعیت کے جرائم یا سفری دستاویزات کے حوالے سے عرصے سے قید ہیں، ہمارے قوم پرست سیاستدان اپنے ان ہم وطن قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز کیوں نہیں بلند کرتے۔ افغانستان کی حکومت اگر چند سیاستدانوں کو خوش آمدید کہتی ہے تو وہ یہ ایک حکمت عملی کے تحت ایسا کرتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر پاکستانی کے بارے میں ایسے ہی جذبات رکھتی ہے۔ سیاستدانوں کے ذاتی اور سیاسی نظریات خواہ کچھ بھی ہوں انھیں ایک بات طے کر لینی چاہیے کہ ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ عوام کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں لہٰذا انھیں کوئی ایسا بیان یا انٹرویو نہیں دینا چاہیے جو ذومعنویت کا حامل ہو۔بہر حال محمود اچکزئی نے انٹرویومیں کہی گئی باتوں کی تردید کی ہے، یہ خوش آیند ہے ۔