وزیرداخلہ کے نئے اعلانات

چوہدری نثارعلی خان کا کہنا ہے کہ شہر کے حالات بہت بہتر ہیں

tauceeph@gmail.com

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے صاحبزادے کے اغواء اور امجد صابری کے قتل کے کئی دن بعد وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کراچی آئے۔ چیف آف آرمی اسٹاف کی موجودگی میں اجلاسوں میں شرکت کی۔ پھر اسلام آباد میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں کا ڈیٹا بنے گا۔ وفاقی دارالحکومت کی طرح کراچی میں مقامی غیرمقامی کی شناخت کے لیے مربوط نظام قائم کیا جائے گا۔ سندھ پولیس میں فوج کی معاونت سے 20 ہزار بھرتیاں ہونگی۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی خوش خبری سنائی کہ کراچی کو ''سیف سٹی پروجیکٹ'' کے تحت کیمروں سے لیس کیا جائے گا۔

چوہدری نثارعلی خان کا کہنا ہے کہ شہر کے حالات بہت بہتر ہیں۔ اخبارات میں شایع ہونے والی خبروں کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں شدت آ گئی۔ گلشن اقبال میں ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو قتل کر دیا گیا۔ گزشتہ ماہ ایک سماجی کارکن خرم ذکی کو نارتھ کراچی میں نامعلوم افراد نے نزدیک سے گولی مار کر ہلاک کیا۔ شہر بھر کے تاجروں کو بھتے کی پرچیاں پھر ملنے لگی ہیں، کئی دکاندار قتل بھی ہوئے۔ کراچی کی قدیم بولٹن مارکیٹ کے دو تاجروں نے بھتے کی رقم ادا کر کے اپنی جان بچائی۔ پھر عید قریب آتے ہی اسٹریٹ کرائم بھی بڑھ گئے۔ مضافاتی علاقو ں میں بینکوں سے کیش نکالنے والے کئی سفید پوشوں کو ان کے گھروں کے قریب اور بعض کو گھروں میں داخل ہونے کے بعد لوٹ لیا گیا۔

کراچی میں امن و امان کی صورتحال توگزشتہ 30برسوں سے خراب ہے مگر اس صدی کے آغاز سے شہر کا امن و امان براہِ راست متاثر ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن و امان کا تعلق خطے کی صورتحال کے ساتھ کراچی کی منصوبہ بندی سے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور ایران میں رونما ہونے والے واقعات سے یوں تو پورا ملک متاثر ہوا مگر کراچی کا امن و امان خصوصاً شدید متاثر ہوا۔ افغانستان میں جنگ کی بناء پر لاکھوں افراد ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوئے۔ ان میں بہت سے افراد کا تعلق جہادی تنظیموں سے تھا اور کچھ عام شہری تھے۔

یوں ان جہادی تنظیموں نے کراچی کے مضافاتی علاقوں میں اپنی کمین گاہیں قائم کر لیں۔ پھر طالبان نے کراچی میں پناہ حاصل کی۔ پہلے ان جنگجو خاندانوں نے کراچی کو سیف سٹی کے طور پر استعمال کیا، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے ان جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کیا تو طالبان نے کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کردیں۔طالبان سے منسلک کالعدم تنظیموں نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا دور شروع کیا۔ اس دوران نیشنل ہائی وے، سپرہائی وے اور ناردرن بائی پاس کے درمیانی علاقے میں زمینوں پر قبضے کی لڑائی شدت اختیارکر گئی۔ یہ لڑائی سہراب گوٹھ کے راستے کراچی میں داخل ہوئی اور اس کی شکل لسانی ہو گئی۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز نے مخالفین کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔ بلوچستان سے متصل لیاری میں گینگ وار میں شدت آئی۔ سابق وزیرداخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقارمرزا کی ناقص حکمت عملی کی بناء پر اس لڑائی سے کراچی شہر متاثر اور لیاری برباد ہوا۔ شہر میں پہلی دفعہ مہاجر بلوچ تضاد پیدا ہوا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت، بری حکمرانی اور غیرشفافیت کی بناء پر اس صورتحال کو کنٹرول نہ کر سکی۔ جب سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کراچی کی صورتحال کے بارے میں سماعت شروع کی تو اس وقت آئی جی نے یہ انکشاف کیا کہ ان کے پاس گریڈ 17 سے بالا افسران کے تبادلے اور تقرریوں کا اختیار نہیں ہے۔


وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے آپریشن شروع کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو اس آپریشن کا سربراہ بنایا مگر ان کے پاس اس آپریشن کی کبھی حقیقی کمان رہی ہی نہیں۔ پھر پولیس نادیدہ قوتوں کے دباؤ پرطالبان اور انتہاپسند تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر پائی۔ آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے ساتھ ہی ایپکس کمیٹیاں قائم ہوئیں۔ طالبان، انتہاپسند تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے اہلکاروں کے خلاف مؤثر آپریشن ہوا۔ پولیس اور رینجرز نے لیاری گینگ وار میں ملوث گروہوں کا صفایا کیا اور سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کے کریمنلزکے خلاف کارروائی ہوئی۔

اس آپریشن کا رخ کرپشن کے خاتمے کی طرف مرکوز ہوا جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے۔ اس آپریشن کے تحت اسلحے کی اسمگلنگ، پولیس فورس پر سیاسی اثرات کے خاتمے، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی تنظیم نو، عدالتی نظام کو مؤثر بنانے اور گواہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی پر کچھ نہیں ہو سکا۔ کراچی میں دنیا کا خطرناک اسلحہ آسانی سے دستیاب ہے۔ کرائے کے قاتل چند ہزار روپے سے لے کر چند لاکھ میں کسی بھی فرد کو قتل کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔

بعض پولیس افسروں کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس کے پاس نہ تو جدید اسلحہ ہے نہ بلٹ پروف جیکٹس ہیں اور نہ ہی کراچی پولیس کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید سہولتیں ہیں کہ پولیس موبائل فون کال کا پتہ چلا سکے یا جائے وقوعہ میں موجود الیکٹرونک لہروں کا تجزیہ کر کے ملزموں کا پتہ چلا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ وفاقی خفیہ ایجنسیوں کے پاس آئی ٹی کے جدید آلات ہیں مگر یہ ایجنسیاں فوری طور پر کراچی پولیس کی مدد کے لیے دستیاب نہیں ہوتیں۔ ابھی تک غیر قانونی اسلحے کی بازیابی اور انتہاپسندوں کو زندگی دینے والی مالیاتی پائپ لائنوں کو منقطع کرنے کی کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے سندھ اسمبلی سے اپنے تین گھنٹے کے خطاب میں زمینوں پر قبضے کی مافیا کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 60 ایکڑ زمین بازیاب کرائی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں زمینوں پر قبضہ کرنے والی مافیا کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ کراچی میں متحرک لینڈ مافیا میں سیاسی مذہبی و قوم پرست جماعتوں کے علاوہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اور عسکری ایجنسیاں بھی شامل ہیں۔

پیپلزپارٹی کے 8 سالہ دورِ حکومت میں ایک نئی زمین مافیا وجود میں آئی ہے جس کا ماضی کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔ صوبائی حکومت کی سرپرستی میں اس مافیا نے کراچی ایسٹ اور کراچی ویسٹ کے درمیانی علاقے میں معمولی قیمت پر لاکھوں ایکڑ زمین حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں اس علاقے کی صورتحال میں منفی تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کراچی میں پانی کی قلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے دو سال بعد پولیس کی تنظیمِ نو اور شہریوں کی شناخت کے جن منصوبوں کا اعلان کیا ہے وہ دو سال پہلے شروع ہونے چاہیے تھے۔

ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کا ایک صفحہ پر ہونا بہت ضروری ہے۔ بعض ماہرین سندھ سے تعلق رکھنے والے سابق فوجیوں کی پولیس میں بھرتی کو مناسب فیصلہ قرار نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر پولیس میں بھرتی کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے سندھ پبلک سروس کمیشن کو شفاف اور بااختیار بنانا ضروری ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح کم ہو گی اور مقامی افراد اپنے علاقوں میں امن و امان کی ذمے داری زیادہ بہتر طور پر ادا کر سکیں گے۔ سندھ کی بدقسمتی یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میرٹ اور اچھی طرزِ حکومت پر یقین ہی نہیں رکھتی۔

وفاقی حکومت کو محض لاہور کی ترقی سے دلچسپی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وزیر داخلہ کے یہ اعلانات غیرمؤثر ثابت ہونگے۔ وفاقی حکومت کو سب سے پہلے پورے ملک سے اسلحے کے خاتمے کے منصوبے پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ صوبائی حکومت کی شہر کے ٹرانسپورٹ اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں بھی مدد کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ پولیس کی تنظیمِ نو میں بھی صوبائی حکومت کو وفاق کی مدد درکار ہو گی۔
Load Next Story